اے آر وائی ڈیجیٹل کے نئے ڈرامہ رتبہ کی چار اور پانچ اقساط نشر ہونے کے بعد ناظرین کی دلچسپی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
عمیرہ احمد کے قلم سے لکھے گئے اور حسیب حسن کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامے کی پانچ اقساط مکمل ہو چکی ہیں، جن میں تمام مرکزی کردار اور کہانی کا بنیادی موضوع متعارف کرایا جا چکا ہے۔ ان اقساط میں میر اور شیلی کے کرداروں نے خاص توجہ حاصل کی، جو زاہد احمد اور مہوش حیات نے ادا کیے ہیں۔
ڈرامہ رتبہ کا پس منظر
ڈرامہ رتبہ حال ہی میں اے آر وائی ڈیجیٹل پر شروع ہوا ہے۔ ڈرامے کی کاسٹ بڑی ہے اور اس کا ماحول پراسراریت لیے ہوئے ہے۔ پانچ اقساط کے بعد چاروں مرکزی کردار ایک دوسرے کے سامنے آ چکے ہیں۔ میر اور شیلی بااثر ہونے کے باوجود اپنی ذات کے کئی پہلو چھپائے ہوئے ہیں، اور ان دونوں کا باہمی تعلق بھی ابھی تک راز میں لپٹا ہوا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے ناظرین کو کہانی سے جوڑے رکھا ہے۔

سوشل میڈیا پر ڈرامہ رتبہ کے بارے میں شائقین کا ردعمل
سوشل میڈیا پر شائقین ڈرامہ رتبہ کی کاسٹ کی اداکاری اور کہانی کی تعریف کر رہے ہیں، جسے وہ اسکرین پر ایک نیا اور منفرد تجربہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ طلحہ نے نئے بھرتی ہونے والے افسران کی کیفیت کو بہت عمدگی سے پیش کیا۔ ایک اور نے لکھا کہ زاہد احمد اور مہوش حیات کی کیمسٹری غیر معمولی ہے۔ ایک ناظر کے مطابق مہوش حیات نے تھپڑ والے منظر میں شاندار کام کیا اور ڈرامہ اچھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ: ڈرامہ رتبہ کی کہانی کہاں کھڑی ہے؟
ڈرامہ نگاری کے ناقدین کے مطابق پانچ اقساط میں کرداروں اور موضوع کا تعارف مکمل ہونا ایک مضبوط آغاز ہے، اور میر و شیلی کے کرداروں کی پراسراریت ناظرین کو اگلی اقساط تک جوڑے رکھنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ تاہم بڑی کاسٹ اور کئی کرداروں کے ساتھ کہانی کو متوازن رکھنا ایک چیلنج بھی ہے۔ اصل امتحان آنے والی اقساط میں ہو گا کہ آیا ڈرامہ رتبہ ان رازوں کو مؤثر انداز میں کھولتا ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ ابتدائی ردعمل زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین کی آرا پر مبنی ہے، جو پورے ناظرین کی نمائندگی نہیں کرتی۔