ملک میں گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح نوجوان طبقے کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔
لیبر فورس سروے 2024-25 کے گیلپ پاکستان کے تجزیے کے مطابق 20 سے 24 سال کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری 32.8 فیصد ہے، یعنی اس عمر کا تقریباً ہر تیسرا ڈگری ہولڈر روزگار سے محروم ہے۔ اسی تجزیے میں اس عمر کی لیبر فورس میں شامل خواتین گریجویٹس میں بے روزگاری 42.3 فیصد، جبکہ مردوں میں 26.1 فیصد رہی۔
گریجویٹس میں بے روزگاری: اعداد و شمار کی اصل تصویر
گردش کرنے والے اعداد و شمار کو بغور دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ بعض دعوے آپس میں خلط ملط ہو رہے ہیں۔ 32.8 فیصد کی شرح صرف 20 سے 24 سال کے گریجویٹس کی ہے، تمام گریجویٹس کی نہیں۔ اسی تجزیے کے مطابق ملک بھر میں تمام عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری 18.3 فیصد ہے، جو تمام تعلیمی سطحوں کی مجموعی شرح 14.7 فیصد سے زیادہ ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ شرح کم ہوتی جاتی ہے: 25 سے 29 سال میں 24.8 فیصد، 30 سے 34 سال میں 15.3 فیصد اور 40 سے 44 سال میں 5.3 فیصد۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ نوجوان گریجویٹس کے لیے بے روزگاری اکثر انتظار کا مرحلہ ہوتی ہے، مستقل اخراج نہیں۔
اسی طرح “31 فیصد سے زائد” کا حوالہ پی آئی ڈی ای کی ایک پرانی رپورٹ سے آتا ہے، جس میں ڈگری یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری کا ذکر تھا، اور یہ حالیہ سالانہ اعداد نہیں۔ خواتین کے لیے 42.3 فیصد کا اعداد بھی پی آئی ڈی ای کا نہیں بلکہ گیلپ پاکستان کے تجزیے کا ہے۔
پس منظر: ڈگری اور روزگار کے درمیان بڑھتا فاصلہ
نوجوانوں کی مشکلات صرف بے روزگاری تک محدود نہیں۔ 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً ایک تہائی نوجوان نہ تعلیم میں ہیں، نہ ملازمت میں اور نہ تربیت میں، جبکہ نوجوان خواتین میں یہ شرح نصف سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق ہنرمندی کی کمی کے باعث پاکستان کو سالانہ تقریباً 31.5 ارب ڈالر کی پیداواری صلاحیت اور برآمدی امکانات کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ صرف 7 فیصد نوجوانوں کو رسمی فنی تربیت تک رسائی حاصل ہے، جو خطے کی اوسط 22 فیصد سے بہت کم ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین بے روزگاری کی بنیادی وجہ نصاب اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان عدم مطابقت اور معاشی سست روی کو قرار دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے والا بنیادی ڈھانچہ، یعنی رہنمائی، کیریئر کونسلنگ، صنعتی روابط اور مارکیٹ کے درست اشارے، بیشتر علاقوں میں کبھی قائم ہی نہیں ہو سکا۔ پی آئی ڈی ای کی تحقیق بھی طلب اور رسد کے عدم توازن کی نشاندہی کر چکی ہے۔