ایم ڈی کیٹ 2026 نتیجہ کا سلسلہ صوبہ وار شروع ہو چکا ہے، جس میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) لاہور اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور نے اس ہفتے اپنے نتائج کا اعلان کر دیا، جبکہ دیگر کئی علاقوں کے امیدوار تاحال انتظار میں ہیں۔ یہ ملک گیر امتحان پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کی نگرانی میں 20 ستمبر کو منعقد ہوا تھا اور ہزاروں ایم بی بی ایس و بی ڈی ایس امیدواروں کے داخلے کا مستقبل اسی سے جڑا ہے۔

پنجاب میں یو ایچ ایس کے مطابق 47,475 امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے 37,708 یعنی تقریباً 79 فیصد نے ایم بی بی ایس کے لیے مطلوبہ کم از کم 55 فیصد نمبروں کی شرط پوری کی۔ سب سے بلند کیٹیگری، یعنی 170 سے 180 نمبر، حاصل کرنے والوں کی تعداد 1,772 رہی۔ خیبر پختونخوا میں کے ایم یو نے اپنی مجموعی کامیابی کی شرح تقریباً 66 فیصد بتائی، جہاں رجسٹرڈ 38,845 میں سے 37,747 امیدواروں نے امتحان دیا اور ٹاپر محمد حسن نے 180 میں سے پورے 180 نمبر حاصل کیے۔

پس منظر: ایک ہی قومی نتیجہ نہیں، بلکہ صوبہ وار اعلانات

روایتی طور پر متوقع ایک متحدہ قومی نتیجے کے برعکس، ایم ڈی کیٹ 2026 نتیجہ پانچ الگ الگ ٹیسٹنگ اداروں کی جانب سے اپنے اپنے صوبے یا علاقے کے لیے جاری کیا جا رہا ہے — پنجاب کے لیے یو ایچ ایس، خیبر پختونخوا کے لیے کے ایم یو، سندھ کے لیے سکھر آئی بی اے (STS کے ذریعے)، بلوچستان کے لیے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (BUMHS)، اور اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ریاض سینٹر کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (SZABMU)۔ اس بکھرے ہوئے نظام کا مطلب یہ ہے کہ اہل امیدوار کسی ایک ویب سائٹ پر انحصار نہیں کر سکتے، بلکہ انہیں اپنی متعلقہ یونیورسٹی کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔

اس سال کا عمل امتحان کی تاریخ میں تبدیلی کی وجہ سے بھی متاثر ہوا، جس کے باعث امتحان 20 ستمبر کو منتقل ہوا اور نتیجے کا شیڈول بھی مجموعی طور پر پیچھے چلا گیا۔ اس ہفتے تک سندھ، بلوچستان اور SZABMU کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے واضح، باقاعدہ اپ ڈیٹ شدہ نتائج عوامی صفحات پر دستیاب نہیں تھے، جس کے باعث ملک بھر میں 138,000 سے زائد امتحان دینے والے امیدواروں میں سے ایک بڑا حصہ اب بھی اپنی پوزیشن جاننے کا منتظر ہے۔

عوامی اور سوشل میڈیا ردعمل

نتیجے کے دن، ماضی کی طرح، پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی ہلچل دیکھی گئی، ایم ڈی کیٹ اور ایم بی بی ایس داخلوں سے متعلق ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے رہے جب پنجاب اور کے پی کے امیدواروں نے اپنی مارک شیٹس شیئر کرنا اور ٹاپرز کے نمبروں پر ردعمل دینا شروع کیا۔

زیادہ نمبر لینے والوں کی خوشی کے ساتھ ساتھ، ان صوبوں کے امیدواروں کی شکایات کا سلسلہ بھی جاری رہا جو تاحال نتیجے کے منتظر ہیں، اور کئی نے یہ سوال اٹھایا کہ جب امتحان تمام علاقوں میں ایک ہی تاریخ کو ہوا تو کچھ بورڈز نے چند دنوں میں نتائج کیوں مکمل کر لیے جبکہ دیگر تاحال ایسا نہیں کر سکے۔

غیر سرکاری نتیجہ چیک کرنے والی ویب سائٹس کے حوالے سے خدشات بھی دوبارہ سامنے آئے، تعلیمی صفحات اور داخلہ مشیروں نے ایک بار پھر یہی مشورہ دہرایا کہ امیدوار اپنا شناختی کارڈ نمبر یا رول نمبر اپنے صوبے کی سرکاری یونیورسٹی پورٹل کے سوا کہیں اور درج نہ کریں۔

ماہرانہ تجزیہ

تعلیمی شعبے کے مبصرین کے مطابق مرحلہ وار اعلانات بنیادی طور پر کسی بے قاعدگی کے بجائے نظام کی ساخت کا نتیجہ ہیں، کیونکہ ہر صوبے کا ٹیسٹنگ ادارہ اپنا الگ پرچہ ترتیب دیتا اور جانچتا ہے، جس کے باعث نتائج حقیقی معنوں میں مختلف اوقات میں تیار ہوتے ہیں نہ کہ جان بوجھ کر روکے جاتے ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے، جو امتحان کی قومی سطح پر نگرانی کرتی ہے، ایک متحدہ نتیجہ صفحہ نہ ہونا امیدواروں اور والدین کے لیے شفافیت سے اس عمل کو سمجھنا مشکل بنا دیتا ہے۔

نمبروں کے حوالے سے، داخلہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یو ایچ ایس کی تقریباً 79 فیصد ایم بی بی ایس اہلیت اور کے ایم یو کی 66 فیصد مجموعی کامیابی کی شرح کو براہ راست موازنہ نہ سمجھا جائے، کیونکہ دونوں اعداد و شمار مختلف چیزیں ناپتے ہیں — پہلا ایم بی بی ایس کم از کم شرط پوری کرنے والوں کا تناسب ہے جبکہ دوسرا صوبے کی مجموعی کامیابی کی شرح۔

ماہرین زور دیتے ہیں کہ داخلے کا حتمی فیصلہ صرف ایم ڈی کیٹ نمبروں پر نہیں بلکہ حتمی ایگریگیٹ پر ہوتا ہے، جس میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نمبروں کو بھی وزن دیا جاتا ہے، لہٰذا اچھا ایم ڈی کیٹ نتیجہ اکیلے نشست کی ضمانت نہیں دیتا۔