پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے غیر ملکی میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں داخلہ لینے والے پاکستانی طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ کی شرط ختم کر دی ہے۔ کونسل کے پبلک نوٹس کے مطابق یہ فیصلہ 14 ستمبر 2026 کے اجلاس میں ہوا۔

کونسل کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج کے مطابق فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا تاکہ بیرون ملک پڑھنے کے خواہشمند طلبہ کو غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ ہو۔ تاہم یہ ریلیف صرف داخلے کے مرحلے تک ہے، اور پاکستان میں ٹرانسفر یا پریکٹس کے لیے دیگر امتحانات بدستور لازم ہیں۔

ایم ڈی کیٹ کی شرط ختم: کیا بدلا اور کیا نہیں

نوٹس کے مطابق غیر ملکی کالجز میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کو ایم ڈی کیٹ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔ لیکن پاکستان کے اندر میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ اب بھی لازمی ہے۔ جو طالب علم بعد میں پاکستان ٹرانسفر ہونا یا یہاں پریکٹس کرنا چاہے، اسے نیشنل ایگزامینیشن بورڈ (این ای بی) یا نیشنل رجسٹریشن امتحان جیسی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

یعنی ایم ڈی کیٹ کی شرط ختم ہونے سے داخلے کا دروازہ کھلا ہے، مگر ڈاکٹر بن کر پاکستان میں کام کرنے کا معیار نہیں بدلا۔

کن طلبہ کو فائدہ ہوگا

رپورٹ کے مطابق چین، وسطی ایشیا، مشرقی یورپ اور دیگر ممالک کے میڈیکل کالجز کا رخ کرنے والے ہزاروں طلبہ مستفید ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری میڈیکل کالجز کی محدود نشستوں اور نجی کالجز کی بھاری فیسوں کے باعث بہت سے خاندان بیرون ملک تعلیم کو متبادل سمجھتے ہیں۔ ایسے میں ایم ڈی کیٹ کی شرط ختم ہونے سے کم از کم ایک امتحانی مرحلہ کم ہو جائے گا۔

تنقیدی سوالات: جن کے جواب نوٹس میں نہیں

پی ایم ڈی سی کا بیان فیصلے کی بنیاد بتاتا ہے، مگر کئی اہم نکات واضح نہیں:

  • معیار کی ضمانت کیا ہے؟ ایم ڈی کیٹ داخلے کے وقت کم از کم تعلیمی صلاحیت کا فلٹر تھا۔ اس کے بغیر کمزور تیاری والے طلبہ بھی داخلہ لے سکیں گے، اور اصل چھانٹی بعد میں این ای بی کے مرحلے پر ہوگی۔ تب تک طلبہ سال اور لاکھوں روپے خرچ کر چکے ہوں گے۔
  • مالی خطرہ طلبہ پر منتقل ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم داخلے کے بعد این ای بی پاس نہ کر سکا تو ڈگری کے باوجود پاکستان میں پریکٹس مشکل ہو سکتی ہے۔ نوٹس میں اس خطرے پر کوئی انتباہی تفصیل نہیں ملتی۔
  • ادارے کی منظوری کا معاملہ۔ پی ایم ڈی سی نے خود طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ غیر ملکی ادارہ کونسل کی منظور شدہ فہرست میں ہے یا نہیں، یہ ضرور جانچیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر تسلیم شدہ اداروں کا خطرہ موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس فہرست کی تصدیق کا آسان اور شفاف نظام کیا ہوگا۔
  • اطلاق کی تاریخ اور طریقہ کار۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ استثنیٰ کب سے نافذ ہوگا، کیا پہلے سے داخل طلبہ پر بھی لاگو ہوگا، اور اس کے لیے کوئی تصدیقی دستاویز درکار ہوگی یا نہیں۔
  • پارلیمانی سفارش کی تفصیل۔ کمیٹی کی سفارش کس بنیاد پر تھی اور کیا کسی تعلیمی ماہر کی رائے لی گئی، یہ سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کا تجزیہ

  • سہولت اور معیار میں توازن۔ داخلہ آسان ہونے سے اس معاملے میں فیصلہ طلبہ اور والدین کے ہاتھ آ گیا ہے، مگر پاکستان میں پریکٹس کا معیار برقرار رکھنے کا بوجھ اب مکمل طور پر این ای بی پر ہے۔
  • این ای بی کی اہمیت بڑھ گئی۔ جب داخلے کی رکاوٹ ہٹی تو اصل امتحان بعد میں ہوگا۔ اس لیے این ای بی کی تیاری اور پاس ہونے کی شرح کے اعداد و شمار طلبہ کے لیے فیصلہ کن معلومات ہوں گے، جو عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔
  • تعلیمی کاروبار کا خدشہ۔ بیرون ملک داخلے کے لیے مشاورتی ایجنسیاں پہلے ہی سرگرم ہیں۔ شرط ہٹنے کے بعد گمراہ کن دعووں اور غیر منظور شدہ اداروں کی تشہیر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے ریگولیٹر کی نگرانی ضروری ہوگی۔