آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) میں رپورٹس کے مطابق جنرل منیجر سطح کی 12 آسامیاں خالی پڑی ہیں، جن میں انتہائی اہم جی ایم ایکسپلوریشن کا عہدہ بھی شامل ہے، جبکہ ادارے کے سرکاری کیریئر پورٹل پر فی الحال کوئی خالی آسامی ظاہر نہیں کی گئی۔

رپورٹ کردہ تعداد اور عوامی سطح پر دستیاب بھرتی صفحے کے درمیان یہ تضاد پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس تلاش اور پیداواری کمپنیوں میں سے ایک میں شفافیت سے متعلق سوالات کھڑے کرتا ہے۔

پس منظر: پورٹل پر کوئی آسامی درج نہیں

ابتدائی رپورٹ میں حوالہ دیے گئے ذرائع کے مطابق جی ایم سطح کی خالی آسامیوں کی تعداد 12 بتائی گئی ہے، تاہم اس اعداد و شمار کی او جی ڈی سی ایل کی سرکاری ویب سائٹ سے آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ کمپنی کے کیریئر پورٹل پر صرف یہ بیان درج ہے کہ نئی آسامیاں دستیاب ہونے پر جاری کی جائیں گی، یعنی فی الحال عوام کے لیے کسی انتظامی یا اعلیٰ عہدے کا کوئی اشتہار موجود نہیں۔

او جی ڈی سی ایل کے شائع کردہ سینئر مینجمنٹ صفحے پر متعدد جنرل منیجرز کے نام درج ہیں، جن میں ڈاکٹر خالد امین خان کو جی ایم ان چارج ایکسپلوریشن اور حبیب اللہ چوہان کو جی ایم ان چارج پروڈکشن کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ فرق اہم ہے: کسی افسر کا "ان چارج" یا قائم مقام کے طور پر درج ہونا لازمی طور پر یہ ظاہر نہیں کرتا کہ منظور شدہ عہدہ خالی ہے۔

او جی ڈی سی ایل کی عوامی معلومات میں منظور شدہ آسامیوں کی تعداد، خالی جگہوں، ملازمین کی تبدیلی کی شرح یا شعبہ وار عملے کی کمی سے متعلق کوئی تفصیل ظاہر نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے رپورٹ کردہ کمی کا حقیقی پیمانہ واضح نہیں ہو پاتا۔

کمپنی کے بھرتی آرکائیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں مینیجر ایکسپلوریشن، چیف جیولوجسٹ، سینئر جیوفزیسسٹ اور ڈرلنگ اسپیشلسٹس جیسی سینئر تکنیکی آسامیوں کے اشتہارات دیے جا چکے ہیں، جبکہ رگ مینٹیننس اور ڈرلنگ فلوئیڈز سے متعلق آسامیاں بھی شامل رہی ہیں — یہ تمام عہدے براہِ راست تلاش اور فیلڈ آپریشنز سے جڑے ہیں۔

اہمیت کیوں؟ او جی ڈی سی ایل کے آپریشنز کا پیمانہ

او جی ڈی سی ایل پاکستان کی سب سے بڑی تلاش اور پیداواری کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کمپنی کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس کا تلاشی رقبہ 99,287 مربع کلومیٹر ہے، جو ملک کے کل تلاشی رقبے کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے، اور اس میں 54 مکمل ملکیتی یا مشترکہ سرمایہ کاری کے لائسنس اور دیگر کمپنیوں کے زیرِ انتظام 14 بلاکس میں شراکتی مفادات شامل ہیں۔

کمپنی کا قومی سطح پر آپریشنل کردار خاصا اہم ہے: مالی سال 2024-25 کے دوران اس کے تیل، گیس اور ایل پی جی کی پیداوار بالترتیب قومی پیداوار کا تقریباً 49 فیصد، 28 فیصد اور 34 فیصد رہی، جس سے اسی سال 3.192 ارب ڈالر کی زرِمبادلہ بچت کا تخمینہ لگایا گیا۔ مئی 2026 تک او جی ڈی سی ایل نے روزانہ 36,043 بیرل خام تیل، 762 ایم ایم سی ایف گیس اور 714 میٹرک ٹن ایل پی جی کی پیداوار ظاہر کی، جس کے اثاثے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

اس وسعت کے پیشِ نظر، سینئر تکنیکی ذمہ داریوں کی موجودہ تقسیم سے متعلق سوالات عملی اہمیت رکھتے ہیں — تلاش اور ڈرلنگ کی قیادت میں تاخیر یا کمی منصوبہ بندی اور فیلڈ ایگزیکیوشن کو متاثر کر سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

توانائی کے شعبے پر نظر رکھنے والے صارفین اور ماہرین نے او جی ڈی سی ایل کی رپورٹ کردہ خالی آسامیوں اور عوامی بھرتی صفحے کے درمیان فرق کو شفافیت سے متعلق ایک تشویش قرار دیا ہے، بعض نے قومی توانائی کی پیداوار میں کمپنی کے کردار کے پیشِ نظر حقیقی صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب کچھ صارفین نے خالی کیریئر پورٹل کو قیادت کے بحران کا ثبوت سمجھنے سے گریز کی تنبیہ کی اور کئی جائز متبادل وضاحتوں کی نشاندہی کی۔

ماہرین کا تجزیہ

توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنیاں اکثر سینئر عہدے اندرونی ترقیوں، قائم مقام تقرریوں، ڈیپوٹیشنز یا مشیروں کے ذریعے بغیر عوامی اشتہار کے پُر کرتی ہیں، اس لیے خالی کیریئر پورٹل بذاتِ خود قیادت کی کمی ثابت نہیں کرتا۔

تاہم ماہرین یہ بھی زور دیتے ہیں کہ ملک کے تلاشی رقبے کے تقریباً نصف کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی کے لیے، خاص طور پر ایکسپلوریشن جیسے بنیادی تکنیکی شعبے میں منظور شدہ عہدوں سے متعلق غیر واضح صورتحال کو غیر مصدقہ رپورٹس کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے باقاعدہ وضاحت دی جانی چاہیے، کیونکہ تجربہ کار تکنیکی قیادت کا براہِ راست تعلق تلاشی سرگرمیوں، فیلڈ ڈویلپمنٹ اور پیداواری تسلسل سے ہے۔

  • تصویر Alt Text (اردو): او جی ڈی سی ایل کی عمارت، جی ایم آسامیوں کی خبر سے متعلق تصویر