OGDCL میں 12 جی ایم آسامیاں خالی، ادارے کے کیریئر پورٹل پر کوئی ووکینسی موجود نہیں
او جی ڈی سی ایل جی ایم آسامیاں زیرِ بحث، ایکسپلوریشن سمیت 12 سینئر عہدے مبینہ طور پر خالی جبکہ کیریئر پورٹل پر کوئی ووکینسی موجود نہیں۔
ہیش ٹیگ
او جی ڈی سی ایل جی ایم آسامیاں زیرِ بحث، ایکسپلوریشن سمیت 12 سینئر عہدے مبینہ طور پر خالی جبکہ کیریئر پورٹل پر کوئی ووکینسی موجود نہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن بورڈ تشکیلِ نو ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی ایل، پی ایس او سمیت سات دیگر اداروں میں نامکمل، گورننس اور شفافیت پر سوالات — UrduLead تحقیقاتی رپورٹ۔
او جی ڈی سی بڑھتے اخراجات — آپریٹنگ لاگت، ایکسپلوریشن اخراجات اور خشک کنوؤں کے نقصانات — نے ریکارڈ ڈیویڈنڈ کے باوجود مالی سال 2026 کے منافع کے معیار پر سوالات کھڑے کر دیے۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کردیا ہے۔ اوگرا نے نظرثانی شدہ قیمتوں کے تحت نئی ایکس ڈپو قیمتیں جاری کردی ہیں۔
اوگرا نے اگست کے لیے آر ایل این جی کی قیمت میں ریکارڈ 32 فیصد اضافہ کردیا، جبکہ گیس یوٹیلیٹیز کی کم ریونیو ضرورت سے صارفین کو ملنے والا تقریباً 50 ارب روپے کا ریلیف بھی سرکلر ڈیٹ ایڈجسٹمنٹ میں استعمال ہوگا۔
سینیٹ کمیٹی میں نیپرا نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برس کے دوران آئی پی پیز کو 7,275 ارب روپے کی کیپیسٹی ادائیگیاں کی گئیں
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے برآمدات بڑھانے کے لیے تین نئی مالیاتی اسکیموں، بجلی کے شعبے کے لیے 4 ارب روپے کی گرانٹ اور توانائی، پیٹرولیم و سماجی تحفظ سے متعلق متعدد پالیسی فیصلوں کی منظوری دے دی۔
جنوبی کوریا کی سرکاری توانائی کمپنی کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی (KOEN) نے پاکستان میں تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے دو پن بجلی منصوبوں کی منظوری میں تاخیر اور ریگولیٹری رکاوٹوں پر وزیراعظم شہباز شریف سے فوری مداخلت کی اپیل
سرکاری ملکیتی پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے مختلف ڈپوؤں میں تقریباً تین لاکھ میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں مبینہ ردوبدل اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کے بحران کے حل کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے سامنے نئی شرائط رکھ دی ہیں
پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 31 مئی 2026 تک بڑھ کر 1.924 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جس سے حکومت کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کیا گیا ہدف حاصل کرنا ممکن نہ رہا۔
حکومت 3.44 کھرب روپے سے زائد کے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے باوجود یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے نئے گیس ٹیرف کا نوٹیفکیشن جاری کرنے میں ناکام رہی
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں توانائی، دفاع، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، سکیورٹی اور ترقیاتی شعبوں کے لیے متعدد ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (TSGs) اور اہم پالیسی اقدامات کی منظوری دے دی گئی۔