پاکستان کی سب سے بڑی سرکاری تیل و گیس کمپنی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) نے 2023 سے اب تک 19 او جی ڈی سی دریافتیں ظاہر کی ہیں، جس کی بدولت کمپنی مقامی مالیاتی خبروں میں مسلسل نمایاں رہی ہے۔
تاہم کمپنی کے اپنے ریگولیٹری ریکارڈز کا قریبی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک ہی کنویں کو بار بار الگ الگ خبروں کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، جبکہ حالیہ مکمل مالی سال میں کمپنی کی پیداوار اور منافع دونوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔
کم از کم تین الگ الگ دریافتوں کی خبریں دراصل ایک ہی کنویں — خیبر پختونخوا کے نشپا بلاک میں واقع بارگزئی ایکس-01 اکتشافی کنویں — سے تعلق رکھتی ہیں۔ دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے درمیان اس کنویں کو تین مختلف ارضیاتی تہوں — کنگریالی، دتہ اور لمشیوال — میں ٹیسٹ کیا گیا، اور ہر ٹیسٹ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں الگ سے فائل کیا گیا اور مقامی میڈیا نے اسے ایک نئی، خودمختار دریافت کے طور پر رپورٹ کیا۔
دتہ تہہ کے ٹیسٹ میں یومیہ 4,100 بیرل تیل اور 10.5 ملین کیوبک فٹ گیس حاصل ہوئی، جبکہ لمشیوال ٹیسٹ نے مزید 225 بیرل اور تقریباً 1 ملین کیوبک فٹ کا اضافہ کیا — یہ اعلان اسی مقام سے پچھلے اعلان کے صرف دو دن بعد کیا گیا۔ ہر فائلنگ تکنیکی طور پر درست ہے، کیونکہ ریگولیٹری ضوابط کے تحت ہر تہہ کا ٹیسٹ ایک الگ قابلِ رپورٹ واقعہ تصور ہوتا ہے، تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی اثاثہ منڈی میں ایک بیرل پہنچانے سے پہلے ہی کئی سرخیاں بنا لیتا ہے۔
او جی ڈی سی دریافتوں کے پیچھے کمزور مالی سال
مسلسل جاری او جی ڈی سی دریافتوں کی خبریں کمپنی کی جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کی کارکردگی سے میل نہیں کھاتیں۔ خالص فروخت 463.70 ارب روپے سے کم ہو کر 401.18 ارب روپے پر آ گئی، جبکہ ٹیکس کے بعد منافع میں تقریباً 19 فیصد کمی ہوئی اور یہ 208.98 ارب روپے سے کم ہو کر 169.90 ارب روپے پر آ گیا۔ فی حصص آمدنی 48.59 روپے سے کم ہو کر 39.50 روپے رہ گئی۔
اسی سال پیداوار میں بھی مجموعی کمی دیکھی گئی: اوسط تیل کی پیداوار 6.6 فیصد کم ہو کر یومیہ 30,919 بیرل رہ گئی، جبکہ گیس کی پیداوار 9.1 فیصد کم ہو کر یومیہ 652 ملین کیوبک فٹ رہ گئی۔ کمپنی نے اس کمی کی وجہ تیل کی کم قیمت — جو اوسطاً 60.83 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ گزشتہ سال یہ 68.67 ڈالر تھی — اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز اور اُچ پاور کی جانب سے عائد کردہ جبری پیداواری کٹوتیوں کو قرار دیا۔ اسی سال دریافت ہونے والے پانچ کنووں کی مجموعی صلاحیت محض 947 بیرل تیل/کنڈینسیٹ اور 35 ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ تھی، جو تقریباً 38.56 ملین بیرل ثابت شدہ اور متوقع ذخائر کے برابر ہے — ایسی مقدار جسے منڈی تک پہنچنے کے لیے عموماً برسوں کی جانچ اور انفراسٹرکچر درکار ہوتی ہے۔
حالیہ اعداد و شمار میں بہتری دکھائی دیتی ہے: مالی سال 2026 کے لیے او جی ڈی سی نے تقریباً 242.4 ارب روپے ٹیکس کے بعد منافع، 449.2 ارب روپے فروخت، نو نئی دریافتیں اور 23 کنووں کی کھدائی رپورٹ کی، جبکہ اوسط پیداوار بڑھ کر یومیہ 32,861 بیرل تیل اور 667 ملین کیوبک فٹ گیس تک پہنچ گئی — تاہم یہ اب بھی دو سال قبل کی یومیہ 33,117 بیرل پیداوار سے کم ہے۔
ذخائر کے متضاد اعداد و شمار پر سوالات
او جی ڈی سی کا "ریزرو ریپلیسمنٹ ریشو" — یعنی پیداوار کے مقابلے میں نئے ذخائر شامل کیے جانے کی صنعتی پیمائش — کمپنی کی اپنی رپورٹس میں غیر یکساں طریقے سے پیش کیا گیا۔ ایک سیٹ کے مطابق یہ شرح مالی سال 2024 میں 56 فیصد، مالی سال 2025 میں بڑھ کر 167 فیصد اور مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں 153 فیصد رہی۔ جبکہ مکمل مالی سال 2026 کے لیے ایک الگ رپورٹ میں اسی عرصے کے لیے 236 فیصد کا حوالہ دیا گیا۔ کمپنی نے ان دونوں اعداد میں تضاد کی وضاحت نہیں کی، اور رابطہ کرنے پر بھی فوری جواب نہیں دیا۔
کمپنی کی جانب سے ترقی کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جانے والے کئی منصوبے دراصل نئے کنویں نہیں بلکہ کمپریشن اور پروسیسنگ اپ گریڈز ہیں — جن میں جھل مگسی کمپریشن منصوبہ شامل ہے جو اگست 2025 میں مکمل ہوا، جبکہ ڈھکنی، کے پی ڈی-تای کمپلیکس اور اُچ میں اسی نوعیت کے منصوبے 2026 کے وسط تک مکمل ہونے کا ہدف رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور مارکیٹ کا ردعمل
پاکستان میں سرمایہ کاروں کے فورمز اور مالیاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر او جی ڈی سی کے اکتشافی اعلانات پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ عام سرمایہ کاروں نے "نئی دریافت" کے بار بار اعلانات کو مختصر مدت میں حصص کی قیمت پر اثرانداز ہونے والا عنصر قرار دیا، جبکہ بعض مارکیٹ تجزیہ کاروں نے بارگزئی جیسے مقامات کے بار بار ذکر پر توجہ دیتے ہوئے فائلنگز کو کنویں کے ناموں سے ملا کر جانچنا شروع کر دیا۔
یہ توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان سابقہ بیانات کے بعد بڑھی جن میں انہوں نے پاکستان کو "وسیع تیل کے ذخائر" کا حامل ملک قرار دیا تھا — ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی حمایت میں ابھی تک ٹھوس ارضیاتی شواہد موجود نہیں، خاص طور پر اس ٹائٹ اور شیل گیس پائلٹ پروگرام کے حوالے سے جسے او جی ڈی سی اب تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔
ماہرین کی رائے
توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ او جی ڈی سی کا انکشافی طریقہ کار غلط نہیں — ریگولیٹری قواعد کے تحت ہر تہہ کا ٹیسٹ الگ قابلِ رپورٹ واقعہ ہے — تاہم ان کا خبردار کرنا ہے کہ صرف سرخیاں پڑھنے والے سرمایہ کار کمپنی کی ترقی کے بارے میں حد سے زیادہ خوش کن تاثر لے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی دریافت کو مسلسل آمدنی میں تبدیل ہونے کے لیے جانچی، فیلڈ ڈویلپمنٹ اور پائپ لائن انفراسٹرکچر جیسے کئی مراحل درکار ہوتے ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں نے ذخائر کی متضاد شرح کے حل نہ ہونے کو شفافیت کا مسئلہ قرار دیا، جسے کمپنی کو حصص داروں کے لیے واضح کرنا چاہیے۔
خلاصہ اعداد و شمار
| اہم اعداد و شمار | مالی سال 2025 | مالی سال 2026 |
|---|---|---|
| خالص فروخت | 401.18 ارب روپے | تقریباً 449.2 ارب روپے |
| ٹیکس کے بعد منافع | 169.90 ارب روپے | تقریباً 242.4 ارب روپے |
| فی حصص آمدنی | 39.50 روپے | واضح نہیں |
| اوسط یومیہ تیل پیداوار | 30,919 بیرل | 32,861 بیرل |
| اوسط یومیہ گیس پیداوار | 652 ملین کیوبک فٹ | 667 ملین کیوبک فٹ |
| نئی دریافتیں | 5 | 9 |
| ریزرو ریپلیسمنٹ ریشو | 167 فیصد (ایک اعداد کے مطابق) | 153 فیصد یا 236 فیصد (متضاد) |