پاکستان اقتصادی شرح نمو رواں مالی سال 3.7 فیصد رہنے کا امکان، اے ڈی بی نے افراط زر 8.3 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کر دی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے بدھ کے روز جاری اپنی
رپورٹ میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو کے حوالے سے اہم پیش گوئی کی ہے۔
منیلا میں قائم قرض دہندہ ادارے کے مطابق رواں مالی سال میں پاکستان کی معیشت 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی، جو حکومت کے مقرر کردہ 4 فیصد کے بجٹ ہدف سے کم ہے۔
اے ڈی بی نے افراط زر کی شرح 8.3 فیصد رہنے کا تخمینہ بھی لگایا ہے، جو سرکاری تخمینے 7 فیصد سے زیادہ ہے۔ ادارے نے اس صورتحال کی بڑی وجہ
مشرق وسطیٰ کے تنازع سے جڑے خطرات کو قرار دیا ہے۔
پس منظر: معیشت کا سفر اور بڑھتے خطرات
اے ڈی بی کی ستمبر کی تازہ رپورٹ میں جولائی میں دیا گیا 3.7 فیصد کا تخمینہ برقرار رکھا گیا ہے، حالانکہ اپریل میں ادارے نے 4.5 فیصد ترقی کی توقع ظاہر کی تھی۔ یعنی چند ماہ کے دوران پاکستان کی اقتصادی شرح نمو کا تخمینہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔
بینک کے مطابق مالی سال 2026 میں معیشت کی کارکردگی بہتر رہی اور شرح نمو گزشتہ سال کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ بہتری خدمات کے شعبے کی مضبوطی، صنعتی پیداوار میں بحالی، زراعت میں بہتری اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے کی بدولت ممکن ہوئی، تاہم مالی سال کی آخری سہ ماہی میں مشرق وسطیٰ کے تنازع نے اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر دیا۔
رپورٹ میں زرمبادلہ ذخائر میں اضافے، ایس اینڈ پی اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری، اور یورو بانڈ و پانڈا بانڈ کے ذریعے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ خبردار بھی کیا گیا ہے کہ حکومتی سطح پر کفایت شعاری کے اقدامات کی واپسی، عالمی مالیاتی حالات میں سختی، ٹیکس محاصل میں کمی، موسمیاتی جھٹکوں اور توانائی شعبے کی اصلاحات میں تاخیر جیسے عوامل معیشت کے لیے مزید خطرہ بن سکتے ہیں۔
افراط زر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 میں اوسط شرح 7.1 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے 4.5 فیصد سے کہیں زیادہ تھی، جس کی بڑی وجہ خوراک کی بڑھتی قیمتیں اور عالمی سطح پر تیل کی گرانی رہی۔
سماجی رابطوں پر عوامی ردعمل
رپورٹ کے منظرِعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مخلوط ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ایک طبقہ زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کو حکومتی معاشی پالیسیوں کی کامیابی قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ افراط زر کے بجٹ ہدف سے تجاوز اور ترقی کی شرح میں کمی کو عام آدمی کی مشکلات میں اضافے سے جوڑ رہا ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے مسلسل دباؤ پر تشویش کا اظہار کرتی نظر آئی۔
ماہرین کی رائے
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی اقتصادی شرح نمو میں کمی کا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرونی جھٹکوں، خصوصاً توانائی کی قیمتوں اور علاقائی کشیدگی کے اثرات، مقامی معیشت پر گہرے مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ اور بانڈز کے اجرا سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، تاہم اصلاحاتی عمل میں تسلسل کے بغیر یہ فوائد پائیدار ثابت نہیں ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ کفایت شعاری کے اقدامات کو دوبارہ نافذ کرنے سے قبل حکومت کو داخلی طلب اور نجی سرمایہ کاری پر ممکنہ منفی اثرات کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔