عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس (LNG) کی قیمتوں میں رواں سال فروری کے مقابلے میں 150 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ یورپ اور ایشیا کے درمیان محدود عالمی سپلائی پر شدید مسابقت ہے۔
سردیوں سے قبل یورپی ممالک کی جانب سے ایل این جی کی بھاری خریداری اور قطر کی برآمدات میں تعطل نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو غیر معمولی بلندی تک پہنچا دیا ہے — ایک ایسی صورتحال جس کے اثرات پاکستان جیسے ایل این جی درآمد کنندہ ممالک کے لیے بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
پس منظر اور وسیع تر رجحان
رپورٹ کے مطابق ایشیائی ممالک کی ایل این جی درآمدات میں رواں ماہ کمی متوقع ہے — ستمبر میں تخمینہ 20.09 ملین ٹن رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ سال کے 22.27 ملین ٹن سے کم ہے، کیونکہ قیمتوں سے حساس خریدار کوئلے جیسے متبادل ایندھن کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس یورپی درآمدات میں اضافہ متوقع ہے، ستمبر میں 7.98 ملین ٹن سے بڑھ کر اکتوبر میں 10.53 ملین ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے، کیونکہ یورپی ممالک میں گیس ذخائر پانچ سالہ اوسط سے کافی کم ہیں۔
قطر کی ایل این جی برآمدی سہولیات بڑی حد تک بند ہیں، اور قطر انرجی 2031 تک امریکی مائع گیس کے معاہدے تلاش کر رہی ہے تاکہ مقامی سپلائی کے نقصان کی تلافی ہو سکے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور موجودہ قیمت 26 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ تک پہنچ چکی ہے۔
روسی پائپ لائن گیس پابندیوں کے باعث یورپ کے لیے دستیاب نہیں، جبکہ روسی مائع گیس کی درآمد پر بھی جنوری سے پابندی لاگو ہونے والی ہے، جس سے یورپ کے پاس مہنگی ایل این جی خریدنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
دوسری جانب چین طویل المدتی اور تیل سے منسلک معاہدوں پر انحصار برقرار رکھے ہوئے ہے اور روس سے پائپ لائن گیس بھی حاصل کر رہا ہے، جس سے وہ اسپاٹ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے کسی حد تک محفوظ ہے — ایک حکمت عملی جو پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی سبق آموز قرار دی جا رہی ہے۔
پاکستان کے لیے کیا مضمرات ہیں؟
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے۔
عالمی اسپاٹ قیمتوں میں اس نوعیت کا اضافہ ملک کے لیے دو بڑے چیلنجز کھڑے کر سکتا ہے: بجلی اور گیس کی پیداواری لاگت میں اضافہ، اور توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے میں مزید اضافہ۔
سردیوں کے موسم میں گھریلو گیس کی طلب بڑھنے کے ساتھ، عالمی منڈی میں مہنگی اسپاٹ کارگوز کا حصول پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
توانائی امور پر گفتگو کرنے والے صارفین نے اس خبر پر تشویش کا اظہار کیا، خصوصاً یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا پاکستان سردیوں میں ماضی کی طرح گیس بحران کا سامنا کرے گا۔
کچھ صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طویل المدتی معاہدوں کو ترجیح دی جائے تاکہ اسپاٹ مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال سے بچا جا سکے، جبکہ دیگر نے کوئلے اور مقامی متبادل ذرائع پر انحصار بڑھانے کی تجویز دی۔
ماہرین کی رائے
توانائی تجزیہ کاروں کے مطابق یورپ کے پاس مہنگی ایل این جی خریدنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا کیونکہ ناروے کی پیداوار پہلے ہی عروج پر ہے اور روسی گیس مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ 2022 کی سردیوں کے برعکس، جب یورپ کو کچھ روسی پائپ لائن گیس دستیاب تھی، اس بار ایسا کوئی ریلیف موجود نہیں، جس سے قیمتوں میں کمی کا امکان کم ہے۔
پاکستانی توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو طویل المدتی سپلائی معاہدوں اور توانائی ذخائر کے تنوع کی حکمت عملی اپنانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے تحفظ حاصل کیا جا سکے۔