ماہرین نے ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول تیار کیا ہے جو انسانی آواز کی مختصر ریکارڈنگ کا تجزیہ کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق تقریباً 20 سیکنڈ کی ریکارڈنگ، جو فون پر بھی لی جا سکتی ہے، اس بیماری کی تیز، بغیر چیر پھاڑ اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی اسکریننگ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

آواز سے ذیابیطس کی تشخیص کا یہ طریقہ امید افزا ہے، لیکن نتائج میں غلط مثبت کیسز کی بلند شرح کے باعث اسے خون کے ٹیسٹ کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔

آواز سے ذیابیطس کی تشخیص: تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

یہ ٹول ٹیکنالوجی کمپنی تھائمیا (Thymia) اور آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے محققین نے تیار کیا ہے۔ ماڈل کو برطانیہ کے 21,129 افراد کے 63,283 صوتی نمونوں پر تربیت دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق یہ نتائج یورپی ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف ڈائیبیٹیز کے میلان میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔

آواز سے ذیابیطس کی جانچ کے لیے ٹول آواز میں بھراہٹ، تناؤ اور بولتے وقت سانس پر قابو پانے میں دشواری جیسی تبدیلیوں کو دیکھتا ہے۔

اصل جانچ 801 افراد کے ذیلی گروپ پر ہوئی جنہوں نے آواز ریکارڈ کرانے کے تین ماہ کے اندر گھر پر HbA1c ٹیسٹ کرایا۔ ماڈل نے 75 فیصد مواقع پر ذیابیطس کے مریض کو غیر مریض سے زیادہ رسک اسکور دیا اور 82 فیصد مریضوں کی درست نشاندہی کی۔

آواز سے ذیابیطس کی تشخیص میں سب سے بڑا سوال: غلط الارم

سرکاری پریس ریلیز جیسی رپورٹوں میں عموماً 82 فیصد کا عدد نمایاں ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک اہم پہلو دب جاتا ہے۔ اسی ذیلی گروپ میں ماڈل کی غلط مثبت شرح 47 فیصد رہی، اور تحقیق کاروں کے مطابق اس کے استعمال سے پہلے مزید کلینکل توثیق ضروری ہے۔ سادہ الفاظ میں، جن لوگوں کو ذیابیطس نہیں تھی ان میں سے تقریباً نصف کو بھی ماڈل نے خطرے میں ڈال دیا۔ ایسی اسکریننگ سے غیر ضروری پریشانی اور اضافی ٹیسٹوں کا بوجھ بڑھ سکتا ہے، خصوصاً پاکستان جیسے ملک میں جہاں لیبارٹری سہولتیں پہلے ہی محدود ہیں۔

مزید یہ کہ محققین کے مطابق سیاہ فام شرکاء میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی اطلاع دینے والوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ماڈل کی کارکردگی اس گروپ میں کمزور رہی۔ یعنی آواز سے ذیابیطس کی تشخیص کا یہ نظام ہر آبادی پر یکساں کام کرے گا، اس کی ابھی ضمانت نہیں۔ تحقیق برطانوی نمونوں پر ہوئی ہے، اس لیے پاکستانی آبادی اور اردو یا دیگر مقامی زبانوں پر اس کی کارکردگی الگ سے جانچنا ہوگی۔

پس منظر: آواز اور بیماری کا تعلق

یہ پہلی کوشش نہیں۔ 2023 میں ایک تحقیق ‎Mayo Clinic Proceedings: Digital Health‎ میں شائع ہوئی تھی جس میں 267 شرکاء کی اسمارٹ فون ریکارڈنگ کا جائزہ لے کر ذیابیطس اور غیر ذیابیطس افراد کی آواز میں نمایاں فرق پایا گیا۔

اس وقت کے ایک ماہر نے کہا تھا کہ بلند بلڈ شوگر آواز کی نالیوں کی لچک پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی رجحان کی کڑی موجودہ کام ہے، اور اسی وجہ سے آواز سے ذیابیطس کی تشخیص پر تحقیق تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ "کولائیو وائس" مطالعے کے محققین بھی اسی سمت میں کام کر رہے ہیں، اور ان کے مطابق دنیا میں تقریباً 40 کروڑ ذیابیطس کے کیسز غیر تشخیص شدہ ہیں۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

اس خبر کی اشاعت کو ابھی ایک دن ہی ہوا ہے اور آواز سے ذیابیطس کی تشخیص پر سوشل میڈیا ردعمل کا کوئی مستند جائزہ دستیاب نہیں۔ زیادہ تر بحث صحت کی خبروں کی ویب سائٹس تک محدود نظر آتی ہے۔ ردعمل سامنے آنے پر اس حصے کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ماہرین کی رائے

تھائمیا کے محقق گیڈریوس سیبیکائٹس کے مطابق ٹول خون کے ٹیسٹ کا متبادل نہیں، تاہم فون یا ایپ کے ذریعے آواز کا نمونہ ان لوگوں تک پہنچنے میں مدد دے سکتا ہے جو باقاعدہ چیک اپ نہیں کراتے۔ یہ بات درست ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اسکریننگ کے بعد فالو اپ نظام موجود ہو۔

آواز سے ذیابیطس کا اشارہ دینے والا کوئی نظام اگر مثبت نتیجے پر صارف کو خون کے ٹیسٹ تک نہ پہنچائے تو اس کا فائدہ محدود رہے گا۔ اس کے علاوہ، تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ کچھ دیگر کیفیات، جو اکثر ذیابیطس کے ساتھ پائی جاتی ہیں، آواز میں ملتی جلتی تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہیں۔ اس سے غلط نتائج کا خدشہ مزید بڑھ جاتا ہے۔