وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی ہے کہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کی جانب سے تقریباً 8 ہزار سوالات پر مشتمل ایم ڈی کیٹ کوسچن بینک تیار کیا گیا ہے۔ یہ امتحان 20 ستمبر 2026 کو ملک بھر میں رجسٹرڈ 138,160 امیدواروں کے لیے منعقد کیا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ملک بھر سے 80 کے قریب مضمون کے ماہرین، جن میں کیمبرج سٹریم سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی شامل تھے، کو کوسچن بینک کی تیاری کے لیے مامور کیا گیا اور انہیں تقریباً دو ماہ تک ایک محفوظ اور تنہا ماحول میں سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت رکھا گیا تاکہ عمل کی رازداری اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
پس منظر: نئے نظام کے تحت امتحان، ماضی کے تنازعات کے سائے میں
وزیر موصوف نے MDCAT 2026 کے لیے پی ایم اینڈ ڈی سی کی جانب سے فراہم کردہ ریگولیٹری فریم ورک کی وضاحت کی اور اس بات پر زور دیا کہ صوبائی حکام اور نامزد یونیورسٹیاں امتحان کے شفاف اور منصفانہ انعقاد، بشمول سکیورٹی اور امتحانی انتظامات، کی ذمہ دار ہوں گی۔
ہر صوبے کے لیے علیحدہ سوالیہ پرچے تیار کیے گئے ہیں، اور ہر صوبے کو کم از کم دو علیحدہ پرچے فراہم کیے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک میں 180 سوالات شامل ہیں، تاکہ متعلقہ صوبہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنا پرچہ منتخب کر سکے۔
یہ ایم ڈی کیٹ کوسچن بینک پر مبنی امتحان ملک بھر کے 34 شہروں اور قصبوں کے علاوہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں بین الاقوامی سطح پر بھی منعقد ہوگا۔
امتحان پانچ نامزد یونیورسٹیاں منعقد کریں گی: پنجاب کے لیے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، سندھ کے لیے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، خیبرپختونخوا کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور، بلوچستان کے لیے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ، جبکہ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ریاض کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد۔
حکام نے واضح کیا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی کی ذمہ داری امیدواروں کی رجسٹریشن، یکساں نصاب اور کوسچن بینک کی فراہمی تک محدود ہے، جبکہ پرچوں کی چھپائی، ذخیرہ اندوزی، ترسیل اور نتائج کا اعلان اب متعلقہ صوبوں اور یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہوگی۔ کسی بھی پرچہ لیک یا شفافیت کی ناکامی کی صورت میں متعلقہ یونیورسٹی جوابدہ ہوگی — یہ ماضی کے مرکزی نظام سے ایک واضح تبدیلی ہے جس پر متعدد بار تنقید ہو چکی ہے، جس میں ایک سابقہ لیک بھی شامل ہے جس کے باعث ملک بھر میں امتحان منسوخ کرنا پڑا تھا۔
امتحان سے قبل پی ایم اینڈ ڈی سی کی ایک نئی ہدایت نے بھی بحث چھیڑ دی ہے: کونسل نے تمام امتحان منعقد کرنے والی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو ایک خط کے ذریعے ہدایت دی ہے کہ امتحان کے فوراً بعد امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لیے جائیں اور کسی امیدوار کو پرچہ نہ دیا جائے — یہ فیصلہ خاص طور پر پنجاب میں تشویش کا باعث بنا ہے جہاں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز روایتی طور پر امتحان کے بعد امیدواروں کو پرچہ فراہم کرتی رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل
اس اعلان پر آن لائن ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد امیدواروں اور والدین نے امتحانی ذمہ داری کو صوبائی یونیورسٹیوں تک منتقل کیے جانے کو، برسوں کے سکینڈلز کے بعد، جوابدہی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔ تاہم امتحان کے بعد امیدواروں کو پرچہ نہ دینے کی نئی ہدایت پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی، خاص طور پر پنجاب میں جہاں صارفین نے اس اقدام کے شفافیت پر اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے۔
یہ بحث ماضی کے ایم ڈی کیٹ سیزنز کی یاد دلاتی ہے جب #reconductMDCAT اور #MDCAT جیسے ہیش ٹیگز بار بار ٹرینڈ کرتے رہے، جن میں پرچہ لیک ہونے، غلط آنسر کیز اور نصاب سے باہر سوالات کے الزامات شامل تھے۔ اس سال بعض صارفین نے محتاط پرامیدی کا اظہار کیا کہ 80 ماہرین — بشمول کیمبرج سٹریم کے ماہرین — کی جانب سے دو ماہ تک تنہا ماحول میں تیار کیا گیا کوسچن بینک لیک کے امکانات کم کر سکتا ہے، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ نئے اقدامات کی کامیابی کا حقیقی امتحان 20 ستمبر کو ہی سامنے آئے گا۔
ماہرین کی رائے
تعلیمی پالیسی سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی مضمون کے ماہرین کے ساتھ کیمبرج سٹریم کے ماہرین کو شامل کرنا کوسچن بینک کو بین الاقوامی معیارات کے قریب لانے کی کوشش ہے، جبکہ ایف ایس سی پر مبنی بنیادی نصاب کو برقرار رکھا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پرچوں کی چھپائی، ترسیل اور نتائج کی ذمہ داری کو پی ایم اینڈ ڈی سی اور متعلقہ یونیورسٹیوں کے درمیان تقسیم کرنا اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ کوئی ایک ادارہ پورے عمل پر کنٹرول نہ رکھے — یہ ماضی میں یو ایچ ایس لاہور اور ڈی یو ایچ ایس کراچی جیسے اداروں کو درپیش لیک الزامات کے تناظر میں ایک ساختی جواب ہے۔
تاہم بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ 34 مراکز اور ریاض کے مرکز میں یکساں نگرانی ٹیکنالوجی کے بغیر عدم مرکزیت مختلف صوبوں میں سکیورٹی معیار میں فرق پیدا کر سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ امتحان کے بعد امیدواروں سے پرچہ واپس لینے کی ہدایت، اگرچہ مستقبل میں دہرائے جانے والے سوالات کے لیک ہونے کو روکنے کے لیے ہے، لیکن یہ امیدواروں کے لیے اپنے جوابات کی تصدیق کرنے کی شفافیت کو کم کر سکتی ہے — یہ معاملہ نتائج کے اعلان تک متنازع رہنے کا امکان ہے۔