پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئی ایم ایف چوتھا جائزہ مذاکرات کا باقاعدہ مرحلہ آج سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف مشن، جو گزشتہ تین روز سے کراچی میں اسٹیٹ بینک حکام کے ساتھ تکنیکی سطح کی بات چیت کر رہا تھا، آج اسلام آباد پہنچے گا جہاں پیر سے وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ یہ مذاکرات 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے چوتھے جائزے اور موسمیاتی فنانسنگ (RSF) کے تیسرے جائزے پر مرکوز ہوں گے۔
پس منظر: دعوے بمقابلہ زمینی حقائق
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے وفاق کو سرپلس بجٹ کی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 30 جون تک صوبے کی ٹیکس آمدنی 593 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس آمدنی دگنی ہو کر 80 ارب روپے سے زائد رہی۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک نے زرِمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے زیادہ رکھنے کا "ہدف حاصل" ہونے کا دعویٰ کیا۔
تاہم قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ تمام اعداد و شمار حکومتی ذرائع کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں اور آئی ایم ایف کی جانب سے ابھی تک آزادانہ طور پر ان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس آئی ایم ایف چوتھا جائزہ کے دوران فنڈ کی جانچ 30 جون 2026 تک کی کارکردگی پر مبنی ہوگی، جو محض دعوؤں پر نہیں بلکہ مقررہ کارکردگی کے معیارات (performance criteria) اور ساختیاتی بینچ مارکس پر پرکھی جائے گی۔
خاص طور پر توانائی کے شعبے کا سرکلر ڈیبٹ ایک متنازع نکتہ رہا ہے — رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں گیس سرکلر ڈیبٹ سے متعلق مذاکرات آئی ایم ایف کے ساتھ بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے تھے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی بریفنگز میں پیش کی جانے والی "بہتری" کی تصویر اور فنڈ کی تشویشات کے درمیان فاصلہ موجود ہے۔ اسی طرح گورننس اینڈ اینٹی کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ اور سرکاری اداروں (SOEs) کی نجکاری سے متعلق قانون سازی پر پیش رفت بھی جائزے کا اہم حصہ ہوگی، جن پر ماضی میں حکومتی رفتار سست رہی ہے۔
کامیاب جائزے کی صورت میں پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر EFF کی پانچویں قسط اور 200 ملین ڈالر RSF کے تحت مل سکتے ہیں، جس سے مجموعی طور پر رواں پروگرام کے تحت وصولیاں تقریباً 5.8 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر آئی ایم ایف مذاکرات کے آغاز پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ایک طبقہ زرِمبادلہ ذخائر اور محصولات میں بہتری کے سرکاری دعووں کو "بجٹ کی حقیقی تصویر چھپانے کی کوشش" قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومتی حلقے ان اعداد و شمار کو معاشی استحکام کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
عام صارفین کی جانب سے سب سے زیادہ تشویش مہنگائی اور بجلی و گیس کے نرخوں میں ممکنہ اضافے پر ظاہر کی جا رہی ہے، جو ماضی میں آئی ایم ایف جائزوں کے بعد اکثر دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرینِ معیشت کا تجزیہ
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محض ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی میں اضافے کے اعداد و شمار پیش کرنا کافی نہیں، بلکہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ آمدنی مستقل بنیادوں پر برقرار رہ سکتی ہے یا وقتی نوعیت کی ہے۔
ماہرین کے مطابق زرِمبادلہ ذخائر میں بہتری کا انحصار بڑی حد تک بیرونی قرضوں اور ری فنانسنگ پر ہے، نہ کہ برآمدات یا ترسیلاتِ زر میں کسی بنیادی تبدیلی پر — جو طویل المدتی استحکام کے لیے کافی نہیں سمجھا جاتا۔
توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیبٹ پر تعطل اور گورننس اصلاحات کی سست رفتار کو بھی ممکنہ رکاوٹوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو حتمی معاہدے میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں۔
- تصویر Alt ٹیکسٹ (اردو): آئی ایم ایف چوتھا جائزہ مشن اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ حکام کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے