وزیراعظم شہباز آئی ایم ایف ملاقات کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے اقوامِ متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم نے فنڈ کی مسلسل معاونت کو سراہا اور آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام کی کامیاب تکمیل کے لیے حکومت کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

پس منظر: کیا واقعی سب ٹھیک ہے؟

سرکاری بیانیے کے برعکس، شہباز آئی ایم ایف ملاقات محض رسمی خیرسگالی کی ملاقات نہیں بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کی معیشت پر بڑھتا ہوا دباؤ کارفرما ہے۔ جارجیوا نے ملاقات کے بعد کہا کہ پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام کے سخت نفاذ نے معاشی استحکام برقرار رکھنے، اعتماد بحال کرنے اور مارکیٹ تک رسائی دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔

تاہم یہ بیان اس تناظر میں دیکھنا ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان پاکستان کے آئندہ آئی ایم ایف پروگرام جائزے پر بھی بات چیت ہوئی جس میں معاشی مضبوطی اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے دی جانے والی 100 روپے فی لیٹر ہدفی سبسڈی پر کوئی سنگین تحفظات ظاہر نہیں کیے۔

یہ بیان اہم ہے کیونکہ توانائی سبسڈیز عموماً آئی ایم ایف پروگراموں کی مالیاتی شرائط سے متصادم سمجھی جاتی ہیں، اور یہ سوال باقی رہتا ہے کہ آیا فنڈ خاموشی کو رضامندی سمجھا جائے یا محض عارضی رواداری۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، نجکاری کے مشیر محمد علی، اور وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

ملاقات کے فوراً بعد دونوں رہنماؤں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تاثرات شیئر کیے۔ جارجیوا نے لکھا کہ مسلسل اصلاحات ترقی کو فروغ دیں گی اور عوام کی زندگیوں کو بہتر بنائیں گی۔

دوسری جانب شہباز شریف نے اپنی پوسٹ میں جارجیوا کے کردار کو سراہتے ہوئے پارٹنرشپ مضبوط کرنے کا ذکر کیا۔ تاہم عوامی حلقوں میں ردعمل ملا جلا رہا — جہاں حکومتی حامی اسے معاشی استحکام کی علامت قرار دے رہے ہیں، وہیں ناقدین اسے محض ایک اور "فوٹو اپورچیونٹی" کہہ کر مہنگائی اور عوامی مشکلات کے تسلسل کی جانب توجہ دلا رہے ہیں۔

ماہرانہ تجزیہ: اصلاحات یا وقتی سہارا؟

معاشی تجزیہ کاروں کے نزدیک شہباز آئی ایم ایف ملاقات کا اصل امتحان زبانی یقین دہانیوں میں نہیں بلکہ آئندہ پروگرام جائزے کے نتائج میں ہوگا۔ اگرچہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی بفرز میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے قومی ٹیرف نظام، بہتر مقامی محصولات وصولی اور نجکاری میں پیش رفت کو کامیابیوں کے طور پر پیش کر رہی ہے،

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار عام آدمی کی قوتِ خرید میں بہتری کی ضمانت نہیں دیتے۔ نجکاری کے عمل کی سست روی، توانائی شعبے کا گردشی قرضہ، اور محصولات کے اہداف کا حصول اب بھی وہ حقیقی چیلنجز ہیں جن پر عوامی سطح پر شفافیت کا فقدان محسوس کیا جاتا ہے۔