تازہ ترین
اردو لیڈ UrduLead

ای پیپر

جمعرات، 29 اکتوبر 2026 · شمارہ 9

اردو لیڈ

جمعرات، 29 اکتوبر 2026شمارہ 9urdulead

پاکستان کی معاشی بحالی کو نئے خطرات، مہنگائی 10.3 فیصد، درآمدات میں 14.3 فیصد اضافہ

پاکستان کی معیشت کو درپیش مسائل، جن میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، درآمدی دباؤ اور صنعتی ترقی کی سست رفتار شامل ہیں۔

مہنگائی میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں، مالیاتی سرپلس میں کمی، سودی ادائیگیوں کا بوجھ بڑھ گیا

پاکستان کی معیشت میں بہتری کے حکومتی دعووں کے باوجود مہنگائی، درآمدات میں تیز رفتار اضافہ، سودی ادائیگیوں کا بڑھتا بوجھ، مالیاتی سرپلس میں کمی اور صنعتی ترقی کی سست رفتار معیشت کے لیے اہم چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔

باقی صفحہ 2 (معیشت) پر

انڈس موٹر کا منافع 10 فیصد بڑھ گیا، مگر سکڑتا مارجن، نقدی کی کمی اور بڑھتی مالیاتی لاگت رپورٹ میں نظر انداز

انڈس موٹر کمپنی کے پلانٹ میں ٹویوٹا کرولا اور فارچونر گاڑیاں، جو انڈس موٹر کا منافع اور پہلی سہ ماہی کی فروخت ظاہر کرتی ہیں

مارکیٹ شیئر کے اعداد و شمار میں تضاد ، انتظامیہ کے پالیسی مطالبات اور متضاد پیغامات

ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں انڈس موٹر کا منافع 9.9 فیصد اضافے کے ساتھ 7.38 ارب روپے رہا۔ بورڈ نے 56 روپے فی شیئر …

باقی صفحہ 2 (معیشت) پر

وزن کم کرنے کے لیے فائبر سے بھرپور 6 غذائیں، جو پیٹ دیر تک بھرا رکھیں

فائبر سے بھرپور غذائیں جن میں کوئنوآ، ایووکاڈو، رسبری، بلیک بیری، بادام، اخروٹ، بھنڈی اور مٹر شامل ہیں، جو صحت مند وزن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

فائبر کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے فائبر سے بھرپور غذاؤں کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق متوازن غذا میں ریشہ …

باقی صفحہ 3 (صحت) پر

صفحہ 1 / 4
اردو لیڈ جمعرات، 29 اکتوبر 2026 معیشت صفحہ 2

معیشت

پاکستان کی معاشی بحالی کو نئے خطرات، مہنگائی 10.3 فیصد، درآمدات میں 14.3 فیصد اضافہ

مہنگائی میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں، مالیاتی سرپلس میں کمی، سودی ادائیگیوں کا بوجھ بڑھ گیا

پاکستان کی معیشت کو درپیش مسائل، جن میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، درآمدی دباؤ اور صنعتی ترقی کی سست رفتار شامل ہیں۔

پاکستان کی معیشت میں بہتری کے حکومتی دعووں کے باوجود مہنگائی، درآمدات میں تیز رفتار اضافہ، سودی ادائیگیوں کا بڑھتا بوجھ، مالیاتی سرپلس میں کمی اور صنعتی ترقی کی سست رفتار معیشت کے لیے اہم چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کی اکتوبر 2026 کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر، غیر ملکی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی، تاہم اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معاشی بحالی ابھی بیرونی مالی معاونت، عالمی توانائی کی قیمتوں اور محدود صنعتی ترقی سے متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ کر 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ خسارہ 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔ اس دوران اشیا کی درآمدات 14.3 فیصد اضافے سے 17.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ برآمدات میں 7.7 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 8.5 ارب ڈالر رہا۔

یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ درآمدات میں اضافے کی رفتار برآمدات سے کہیں زیادہ ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کی دستیابی پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

درآمدات میں اضافہ، برآمدات کی رفتار کم

پاکستان کی بیرونی تجارت میں عدم توازن بدستور ایک اہم مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی میں مشینری کی درآمدات میں 19.3 فیصد، دھاتوں کی درآمدات میں 24 فیصد اور ٹرانسپورٹ آلات کی درآمدات میں 19.2 فیصد اضافہ ہوا۔

پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات بھی 6.5 فیصد بڑھ گئیں، جس سے توانائی کی ضروریات اور عالمی قیمتوں کے اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب اشیا کی برآمدات میں اضافے کے باوجود درآمدی بل میں ہونے والا اضافہ بیرونی تجارت کے فرق کو کم کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔ غذائی اشیا کی برآمدات میں 25.3 فیصد اضافہ ہوا، جس میں چاول کی برآمدات کا نمایاں کردار رہا، جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات میں 5.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کو برآمدات میں پائیدار اور وسیع البنیاد اضافے کی ضرورت ہے۔ اگر معاشی سرگرمیوں کے ساتھ درآمدات بھی تیزی سے بڑھتی رہیں تو بیرونی کھاتے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

مہنگائی میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں

ستمبر 2026 میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہوکر 10.3 فیصد ہوگئی، جو اگست میں 11.1 فیصد تھی۔ تاہم یہ شرح گزشتہ سال ستمبر کی 5.8 فیصد مہنگائی سے کہیں زیادہ ہے۔

مہنگائی کی رفتار میں کمی کو عوامی اخراجات میں حقیقی کمی نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ضروری اشیا اور خدمات کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 27.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے شعبے میں قیمتیں 12.4 فیصد بڑھیں۔

اسی طرح خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں میں 11.8 فیصد اور دیگر غذائی اشیا میں 7.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے میں بھی 0.65 فیصد اضافہ ہوا۔ اس ہفتے 19 اشیا مہنگی، 12 سستی اور 20 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

وزارتِ خزانہ نے اکتوبر کے لیے مہنگائی کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، تاہم عالمی توانائی کی قیمتیں، غذائی رسد اور علاقائی کشیدگی اس پیش گوئی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

شرح سود میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے چیلنج

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بڑھتے ہوئے افراطِ زر کے خدشات کے پیش نظر پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرکے 12 فیصد کردیا، جس کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوا۔

مرکزی بینک کا مقصد مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا ہے، تاہم بلند شرح سود کاروباروں اور صارفین کے لیے قرض حاصل کرنا مہنگا کرسکتی ہے۔

زیادہ مالیاتی لاگت کے باعث کاروباری اداروں کے لیے نئی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور کاروبار کی توسیع مشکل ہوسکتی ہے۔ توانائی اور خام مال کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ مہنگا قرض صنعتی سرگرمیوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 16 اکتوبر تک نجی شعبے نے مجموعی طور پر 5.7 ارب روپے کے بجائے صرف 5.7 ارب روپے کی خالص قرض گیری کی، یعنی نجی شعبے کا خالص قرضی بہاؤ 5.7 ارب روپے رہا۔ گزشتہ سال اسی مدت میں نجی شعبے نے 21.1 ارب روپے کے قرضے واپس کیے تھے۔

اگرچہ قرضی بہاؤ کی سمت میں بہتری آئی، تاہم خالص رقم محدود رہی۔ یہ اعداد و شمار وسیع پیمانے پر کاروباری قرض گیری میں مضبوط بحالی کی تصدیق نہیں کرتے۔

مالیاتی سرپلس میں کمی، سودی ادائیگیوں کا بوجھ بڑھ گیا

حکومتی مالیات کے شعبے میں بھی دباؤ کے آثار نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے ابتدائی عرصے میں مجموعی مالیاتی سرپلس کم ہوکر 1.198 کھرب روپے رہ گیا، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.8 فیصد ہے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ سرپلس 2.124 کھرب روپے یا جی ڈی پی کا 1.7 فیصد تھا۔

اسی طرح بنیادی مالیاتی سرپلس 2.939 کھرب روپے سے کم ہوکر 2.311 کھرب روپے رہ گیا۔

حکومتی اخراجات میں مجموعی طور پر 20.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ترقیاتی اخراجات 69.5 فیصد بڑھ گئے۔ دوسری جانب قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 36.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سرکاری مالیات پر قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سبسڈی کے اخراجات میں بھی 90 فیصد کمی ہوئی۔ تاہم رپورٹ اس کمی کے عوام، کاروباری اداروں یا مختلف شعبوں پر پڑنے والے اثرات کی تفصیلی وضاحت نہیں کرتی۔

ایف بی آر نے جولائی تا ستمبر کے دوران 3.086 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ اور مقررہ ہدف سے 33.2 ارب روپے زائد تھا۔

تاہم ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے باوجود مالیاتی سرپلس میں کمی اور سودی ادائیگیوں میں تیز رفتار اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو آمدن بڑھانے اور اخراجات کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

صنعتی ترقی سست، مینوفیکچرنگ میں غیر یکساں صورتحال

پاکستان کے بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار میں جولائی تا اگست مالی سال 2026-27 کے دوران صرف 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ شرح 4.8 فیصد تھی۔

اگست میں صنعتی پیداوار سالانہ بنیاد پر 0.7 فیصد بڑھی، لیکن جولائی کے مقابلے میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

خوراک، کیمیکلز اور ادویات کے شعبوں میں کم پیداوار نے صنعتی کارکردگی کو متاثر کیا، جبکہ گاڑیوں، پٹرولیم مصنوعات، ملبوسات اور فرنیچر کے شعبوں نے کچھ سہارا فراہم کیا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صنعتی بحالی تمام شعبوں میں یکساں نہیں، بلکہ چند صنعتوں کی بہتر کارکردگی مجموعی پیداوار کو سہارا دے رہی ہے۔

جولائی تا ستمبر کے دوران گاڑیوں کی پیداوار میں بہتری آئی۔ کاروں کی پیداوار 31.8 فیصد اور ٹرکوں و بسوں کی پیداوار 54.2 فیصد بڑھی۔ تاہم ٹریکٹروں کی پیداوار میں 15.3 فیصد کمی ہوئی۔

سیمنٹ کی مجموعی ترسیلات 3.9 فیصد اضافے سے 13.1 ملین ٹن ہوگئیں، لیکن برآمدات 11.3 فیصد کم ہوکر 2.3 ملین ٹن رہ گئیں۔ مقامی طلب میں اضافے کے باوجود سیمنٹ برآمدات میں کمی بیرونی منڈیوں میں مسابقت اور برآمدی کارکردگی پر مزید توجہ کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔

کپاس کی پیداوار میں کمی ٹیکسٹائل شعبے کے لیے تشویش

زرعی شعبے نے مجموعی معاشی سرگرمیوں کو سہارا دیا، تاہم بڑی فصلوں کی پیداوار میں یکساں بہتری نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار 12.1 فیصد اضافے سے 9.98 ملین ٹن، گنے کی پیداوار 8.8 فیصد اضافے سے 97.3 ملین ٹن اور چاول کی پیداوار 1.8 فیصد اضافے سے 10.2 ملین ٹن رہی۔

اس کے برعکس کپاس کی پیداوار 4.8 فیصد کمی کے بعد 6.71 ملین گانٹھوں تک محدود ہوگئی۔

کپاس کی پیداوار میں کمی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ شعبہ پاکستان کی برآمدی آمدن میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ مقامی کپاس کی دستیابی میں کمی کی صورت میں درآمدی خام مال کی ضرورت بڑھ سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار صنعتی طلب اور مقامی رسد پر ہوگا۔

زرعی قرضوں کی تقسیم میں جولائی تا اگست کے دوران 32.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ رقم 540.5 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ خریف سیزن میں یوریا کھاد کی کھپت 8.4 فیصد بڑھی، لیکن ڈی اے پی کھاد کی کھپت میں 25.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چند فصلوں میں بہتر پیداوار کے باوجود زرعی شعبے کے تمام اشاریے مثبت نہیں ہیں۔

زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے، مگر بیرونی مالی وسائل پر انحصار برقرار

16 اکتوبر 2026 تک پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 26.8 ارب ڈالر ہوگئے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 21.5 ارب ڈالر موجود تھے۔

ستمبر میں 3 ارب ڈالر کے خودمختار یورو بانڈ کا اجرا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری کی آمد نے بیرونی مالی پوزیشن بہتر بنانے میں مدد دی۔

پہلی سہ ماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 20 فیصد اضافے سے 719.7 ملین ڈالر رہی، جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں تقریباً 2.93 ارب ڈالر کی خالص آمد ریکارڈ کی گئی۔

تاہم بہتر ذخائر اور بیرونی مالی وسائل تک رسائی کو بنیادی معاشی مسائل کے خاتمے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ جاری کھاتے کا خسارہ اور درآمدات میں تیز رفتار اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ بیرونی شعبے میں عدم توازن اب بھی موجود ہے۔

غیر ملکی قرضے اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری، برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن یا دیگر مستقل ذرائع سے مختلف ہیں۔ ان کی دستیابی عالمی مالیاتی حالات، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مستقبل کی مالی ضروریات سے متاثر ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ تفصیل بھی موجود نہیں کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی صورت میں موجودہ ذخائر کتنے عرصے تک درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی رہیں گے۔ اس لیے صرف ذخائر کی بلند سطح کی بنیاد پر معیشت کی طویل مدتی مزاحمت کا حتمی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

عالمی تیل کی قیمتیں معیشت کے لیے بڑا خطرہ

عالمی توانائی کی قیمتیں پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے اہم خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 116.8 ڈالر فی بیرل رہی، جو اگست کے مقابلے میں 28.4 فیصد زیادہ تھی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل بڑھانے کے ساتھ ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعتی پیداوار اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھنے اور کاروباری لاگت میں اضافے کا خدشہ رہتا ہے۔

وزارتِ خزانہ نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، خلیجی خطے میں تنازعات، عالمی تجارت میں رکاوٹوں اور بلند عالمی مہنگائی کو معاشی منظرنامے کے لیے منفی خطرات قرار دیا ہے۔

ان حالات میں پاکستان کی معاشی کارکردگی کا انحصار زرمبادلہ کی آمدنی برقرار رکھنے، برآمدات بڑھانے، توانائی کے مؤثر استعمال اور ساختی اصلاحات پر ہوگا۔

معاشی استحکام کے باوجود عوامی سطح پر بہتری کا امتحان باقی

پاکستان کی نظرثانی شدہ قومی آمدن کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.65 فیصد رہی، جو پہلے لگائے گئے 3.70 فیصد کے تخمینے سے معمولی کم ہے۔ اس دوران زراعت میں 3.50 فیصد، صنعت میں 3.34 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 3.81 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔

وزارتِ خزانہ کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 میں بہتر زرعی پیداوار، تعمیراتی سرگرمیوں، منتخب صنعتی شعبوں، ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات سے معاشی نمو کو سہارا ملے گا۔

تاہم رپورٹ کے اپنے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی بحالی اب بھی کئی خطرات سے دوچار ہے۔ دو ہندسی مہنگائی، بلند شرح سود، نجی شعبے کی محدود خالص قرض گیری، جاری کھاتے کا بڑھتا خسارہ اور سودی ادائیگیوں میں اضافہ معاشی امکانات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

اصل چیلنج صرف زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانا یا مالیاتی سرپلس برقرار رکھنا نہیں، بلکہ ان کامیابیوں کو پائیدار برآمدات، صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری، روزگار اور عوام کی قوتِ خرید میں بہتری میں تبدیل کرنا ہے۔

اگر ان شعبوں میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو مالیاتی استحکام کے موجودہ فوائد عالمی تیل کی قیمتوں، بیرونی مالی ضروریات اور ملکی معاشی کمزوریوں کے باعث دباؤ کا شکار رہ سکتے ہیں۔

انڈس موٹر کا منافع 10 فیصد بڑھ گیا، مگر سکڑتا مارجن، نقدی کی کمی اور بڑھتی مالیاتی لاگت رپورٹ میں نظر انداز

مارکیٹ شیئر کے اعداد و شمار میں تضاد ، انتظامیہ کے پالیسی مطالبات اور متضاد پیغامات

انڈس موٹر کمپنی کے پلانٹ میں ٹویوٹا کرولا اور فارچونر گاڑیاں، جو انڈس موٹر کا منافع اور پہلی سہ ماہی کی فروخت ظاہر کرتی ہیں

ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں انڈس موٹر کا منافع 9.9 فیصد اضافے کے ساتھ 7.38 ارب روپے رہا۔ بورڈ نے 56 روپے فی شیئر (560 فیصد) پہلے عبوری نقد منافع منقسمہ کی سفارش بھی کی ہے۔ تاہم کمپنی کے اپنے گوشواروں میں مارجن میں کمی، مالیاتی لاگت میں تقریباً پانچ گنا اضافہ، نقدی میں بڑی کمی اور غیر بنیادی آمدن پر بڑھتا انحصار نظر آتا ہے۔ ڈائریکٹرز رپورٹ ان میں سے کسی کا ذکر نہیں کرتی۔

انڈس موٹر کا منافع فروخت کے مقابلے میں سست رفتار

کمپنی کے مطابق گاڑیوں کی فروخت 34 فیصد بڑھ کر 13,380 یونٹ، پیداوار 39.2 فیصد بڑھ کر 14,240 یونٹ اور آمدن 19.9 فیصد بڑھ کر 74.01 ارب روپے ہو گئی۔ لیکن فروخت کی لاگت 22.5 فیصد بڑھی، یعنی آمدن سے تیز۔ اس کے نتیجے میں:

  • مجموعی منافع صرف 7.3 فیصد بڑھ کر 11.31 ارب روپے رہا۔
  • مجموعی مارجن تقریباً 17.1 فیصد سے گھٹ کر تقریباً 15.3 فیصد رہ گیا۔
  • خالص مارجن تقریباً 10.9 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 10.0 فیصد ہو گیا۔

فی گاڑی آمدن بھی کمزور دکھائی دیتی ہے۔ آمدن کو فروخت شدہ یونٹس پر تقسیم کریں تو یہ تقریباً 55.3 لاکھ روپے فی گاڑی بنتی ہے، جبکہ گزشتہ سال تقریباً 61.9 لاکھ روپے تھی، یعنی تقریباً 10 فیصد کمی۔ یہ محض تخمینہ ہے کیونکہ آمدن میں گاڑیوں کے علاوہ دیگر مدات بھی شامل ہیں، مگر اس سے اشارہ ملتا ہے کہ فروخت میں اضافہ کم قیمت والے ماڈلز کی طرف جھکاؤ یا کم قیمتوں کے ذریعے حاصل ہوا۔ رپورٹ "مؤثر لاگت کنٹرول" کا کریڈٹ لیتی ہے، مگر اخراجات کی مدات فروخت سے تیز بڑھتی نظر آتی ہیں۔

انڈس موٹر کا منافع دیگر آمدن پر منحصر، مالیاتی لاگت میں اضافہ

دیگر آمدن 3.22 ارب روپے رہی، جو قبل از ٹیکس منافع کا تقریباً 27 فیصد ہے۔ ورکرز فنڈز کے بعد بنیادی آپریشنز کا منافع صرف 7.3 فیصد بڑھا، جو مجموعی منافع کی شرحِ نمو سے سست ہے۔

مالیاتی لاگت 4.97 کروڑ روپے سے بڑھ کر 20.37 کروڑ روپے ہو گئی، یعنی 300 فیصد سے زائد اضافہ۔ رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ 87.6 ارب روپے کی قلیل مدتی سرمایہ کاری رکھنے والی کمپنی کی مالیاتی لاگت اتنی کیوں بڑھی۔ مؤثر ٹیکس بوجھ بھی قبل از ٹیکس منافع کا تقریباً 37.6 فیصد ہے۔

نقدی کی صورتحال: انڈس موٹر کا منافع بمقابلہ نقدی کا زوال

بیلنس شیٹ اور کیش فلو اسٹیٹمنٹ منافع کی سطر کے مقابلے میں کم تسلی بخش ہیں:

  • نقد و بینک بیلنس 30 جون کے 11.19 ارب روپے سے گھٹ کر 4.94 ارب روپے رہ گئے۔
  • نقد اور نقد کے مساوی مدت کے اختتام پر 4.94 ارب روپے تھے، جبکہ ایک سال پہلے 22.92 ارب روپے تھے۔
  • آپریٹنگ سرگرمیوں میں خالص نقد استعمال 23.89 ارب روپے رہا۔ صرف آپریشنز میں نقد کا استعمال 19.68 ارب روپے تھا، حالانکہ منافع 7.4 ارب روپے تھا۔
  • صارفین اور ڈیلرز کی ایڈوانس رقوم 65 فیصد کم ہو کر 30.26 ارب روپے سے 10.47 ارب روپے رہ گئیں، یعنی صارفین کی ایڈوانس رقوم کی صورت میں ملنے والی سستی فنڈنگ سکڑ رہی ہے۔
  • قلیل مدتی سرمایہ کاری 14.9 فیصد گھٹ کر 103.0 ارب روپے سے 87.6 ارب روپے رہ گئی۔
  • اسٹاک اِن ٹریڈ 16.7 فیصد بڑھ کر 42.93 ارب روپے اور تجارتی قابلِ وصول رقوم 39.6 فیصد بڑھ کر 3.91 ارب روپے ہو گئیں۔

پیداوار (14,240 یونٹ) فروخت (13,380 یونٹ) سے 860 گاڑیاں زیادہ رہی، جو اسٹاک میں اضافے کی جزوی وضاحت کرتی ہے۔ کمپنی نے صارفین کی ایڈوانس رقوم پر 2.93 کروڑ روپے بطور معاوضہ ادا کیے، جو گزشتہ سال 1.23 کروڑ روپے تھے۔ رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ یہ کس مد سے متعلق ہے۔

مارکیٹ شیئر کے اعداد و شمار میں تضاد

ڈائریکٹرز رپورٹ کے مطابق پاما (PAMA) کی صنعتی فروخت تقریباً 50,480 یونٹ رہی اور کمپنی کا "مستحکم مارکیٹ شیئر" تقریباً 17 فیصد ہے۔ مگر کمپنی کے اپنے 13,380 یونٹ کو 50,480 پر تقسیم کریں تو حصہ تقریباً 26 فیصد بنتا ہے۔ رپورٹ اس فرق کی وضاحت نہیں کرتی۔ ممکن ہے اس کی وجہ سیگمنٹس کی مختلف تعریف ہو، لیکن قارئین کو کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ صنعت کی پیداواری گنجائش کا استعمال بھی صرف 45 فیصد ہے، یعنی شعبہ معمول کی سطح سے ابھی بہت دور ہے۔

غیر ادا شدہ منافع منقسمہ اور دیگر واجبات

غیر ادا شدہ منافع منقسمہ 30 جون کے 37.6 کروڑ روپے سے بڑھ کر 4.07 ارب روپے ہو گیا۔ اس کی بڑی وجہ سال کے اختتام کے بعد اعلان کردہ 470 فیصد حتمی منافع منقسمہ (3.69 ارب روپے) ہے، مگر سہ ماہی میں صرف 26 لاکھ روپے ادا ہوئے۔ سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی ذمہ داری بھی بڑی ہے، تقریباً 4.96 ارب روپے (3.57 ارب غیر جاری اور 1.39 ارب جاری)۔ وارنٹی ذمہ داریاں 3.22 ارب روپے تک بڑھ گئیں۔ 30 جون 2026 کی بیلنس شیٹ پر "ری اسٹیٹڈ" کا لیبل لگا ہے، مگر دستیاب صفحات میں یہ وضاحت نہیں کہ کیا ری اسٹیٹ کیا گیا۔

انتظامیہ کے پالیسی مطالبات اور متضاد پیغامات

رپورٹ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ گفٹ اسکیم کے ذریعے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد روکی جائے، آٹو فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے تک نرم کی جائے، گاڑیوں کی برآمد پر ڈیوٹی میں ریلیف دیا جائے اور گاڑیوں کی قیمتوں پر ٹیکس معقول بنائے جائیں۔ یہ زیادہ تر وہی اقدامات ہیں جن سے کمپنی کی اپنی فروخت کو فائدہ ہوگا۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں جس 420 فیصد اضافے کا ذکر ہے، اس میں 5,897 یونٹ کا موازنہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی سے نہیں بلکہ پچھلی سہ ماہی کے 1,132 یونٹ سے کیا گیا ہے، جس سے اضافہ زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

آؤٹ لک بھی ملا جلا ہے۔ انتظامیہ منافع کا سہرا "نسبتاً سازگار شرحِ تبادلہ" کو دیتی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر میں کمی اور قوتِ خرید میں کمی سے خبردار بھی کرتی ہے۔ افراطِ زر کی اوسط 10.2 فیصد رہی، پالیسی ریٹ 11.50 فیصد ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر رہا۔

تجزیہ: انڈس موٹر کا منافع کیا بتاتا ہے؟

BeNewz/UrduLead کا یہ جائزہ کمپنی کے اپنے اعداد و شمار پر مبنی ہے، کسی بیرونی تجزیہ کار کا بیان نہیں۔ اس کے مطابق فروخت میں بحالی حقیقی ہے، مگر آمدن کا معیار کمزور ہو رہا ہے۔ انڈس موٹر کا منافع فروخت سے سست بڑھا، مارجن سکڑے اور منافع کی نمو جزوی طور پر دیگر آمدن پر منحصر رہی۔ آپریٹنگ کیش فلو بہت منفی رہا، جس کی جزوی وجہ صارفین کی ایڈوانس رقوم کا کم ہونا ہے، جبکہ قرض کی لاگت تیزی سے بڑھی۔ 56 روپے فی شیئر منافع منقسمہ (فی شیئر آمدن کا تقریباً 60 فیصد، کل تقریباً 4.4 ارب روپے) سرمایہ کاری کے ذخیرے کے پیش نظر قابلِ ادائیگی نظر آتا ہے، مگر سرمایہ کاروں کو آئندہ سہ ماہیوں میں نقد وصولی اور مارجن پر نظر رکھنی چاہیے۔

خلاصہ ڈیٹا ٹیبل (روپے ہزار میں، جہاں دوسرا ذکر نہ ہو)

اشاریہپہلی سہ ماہی مالی سال 27 (30 ستمبر 2026)پہلی سہ ماہی مالی سال 26 (30 ستمبر 2025)تبدیلیآمدن74,014,95961,737,936+19.9%فروخت کی لاگت62,701,69251,196,522+22.5%مجموعی منافع11,313,26710,541,414+7.3%مجموعی مارجنتقریباً 15.3%تقریباً 17.1%1.8 پوائنٹ کمیدیگر آمدن3,220,9142,900,106+11.1%مالیاتی لاگت203,74749,700+310%بعد از ٹیکس منافع7,384,3766,719,280+9.9%فی شیئر آمدن (روپے)93.9585.49+9.9%آپریشنز میں خالص نقد استعمال(23,894,961)(24,669,014)بدستور شدید منفیمدت کے اختتام پر نقد و مساوی4,937,59722,916,65578.5% کمیفروخت شدہ یونٹس13,3809,976+34%صارفین کی ایڈوانس رقوم (30 جون 2026 کے مقابلے)10,468,89930,261,97565.4% کمیاسٹاک اِن ٹریڈ (30 جون 2026 کے مقابلے)42,927,74936,793,565+16.7%

صفحہ 2 / 4
اردو لیڈ جمعرات، 29 اکتوبر 2026 صحت صفحہ 3

صحت

وزن کم کرنے کے لیے فائبر سے بھرپور 6 غذائیں، جو پیٹ دیر تک بھرا رکھیں

فائبر کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

فائبر سے بھرپور غذائیں جن میں کوئنوآ، ایووکاڈو، رسبری، بلیک بیری، بادام، اخروٹ، بھنڈی اور مٹر شامل ہیں، جو صحت مند وزن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے فائبر سے بھرپور غذاؤں کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق متوازن غذا میں ریشہ دار اجزا شامل کرنے سے نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے، پیٹ بھرنے کے احساس کو برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو سہارا دینے میں مدد ملتی ہے۔

عام طور پر وزن کم کرنے کے لیے کم کاربوہائیڈریٹس والی غذا کو ترجیح دی جاتی ہے، تاہم صحت مند وزن برقرار رکھنے کے لیے کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم کرنا ہی واحد راستہ نہیں۔ ثابت اناج، سبزیاں، پھل، دالیں اور گری دار میوے بھی متوازن غذا کا اہم حصہ ہیں۔ ان میں موجود فائبر وزن کو قابو میں رکھنے کی کوششوں میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

فائبر کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

فائبر پودوں سے حاصل ہونے والی غذاؤں کا وہ حصہ ہے جسے انسانی جسم مکمل طور پر ہضم نہیں کر پاتا۔ یہ پھلوں، سبزیوں، اناج اور دیگر نباتاتی غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔

فائبر آنتوں کی معمول کی کارکردگی بہتر بنانے، قبض سے بچاؤ اور پیٹ بھرنے کے احساس کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح بار بار بھوک لگنے اور غیر ضروری اسنیکنگ کو کم کرنے میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔

خواتین کو روزانہ تقریباً 25 گرام جبکہ مردوں کو عموماً 30 سے 38 گرام فائبر درکار ہوتا ہے۔ تاہم عمر، توانائی کی ضروریات اور صحت کی صورت حال کے مطابق مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔

فائبر سے بھرپور 6 غذائیں

1۔ کوئنوآ (Quinoa)

کوئنوآ ایک غذائیت سے بھرپور اناج نما بیج ہے، جسے متوازن غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ایک کپ پکی ہوئی کوئنوآ، جس کا وزن تقریباً 185 گرام ہوتا ہے، میں لگ بھگ 5.2 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔

اس میں آئرن، وٹامن بی 6، میگنیشیم اور پوٹاشیم بھی موجود ہوتے ہیں۔ اسے سلاد، سبزیوں یا دیگر صحت مند کھانوں کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

2۔ ایووکاڈو (Avocado)

ایووکاڈو فائبر اور صحت مند چکنائی کا اچھا ذریعہ ہے۔ تقریباً 150 گرام ایووکاڈو میں 10 گرام فائبر پایا جا سکتا ہے، جو پیٹ بھرنے کے احساس کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

اس میں وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے، وٹامن بی 6، فولیٹ اور پوٹاشیم بھی شامل ہیں۔ تاہم وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کو اس کی مقدار کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اس میں کیلوریز بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔

3۔ بیریز (Berries)

رسبری اور بلیک بیری فائبر سے بھرپور پھل ہیں اور صحت مند غذا میں اہم جگہ رکھتے ہیں۔

ایک کپ رسبری میں تقریباً 8 گرام جبکہ ایک کپ بلیک بیری میں تقریباً 7.6 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔ ان پھلوں میں وٹامن سی، وٹامن کے اور دیگر مفید غذائی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں۔

انہیں ناشتے، دہی یا دلیے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا استعمال میٹھی اشیا کے بجائے ایک بہتر متبادل بھی فراہم کر سکتا ہے۔

4۔ گری دار میوے (Nuts)

بادام اور اخروٹ فائبر کے ساتھ پروٹین، صحت مند چکنائی اور مختلف وٹامنز و معدنیات بھی فراہم کرتے ہیں۔

تقریباً 95 گرام بادام میں 11.6 گرام جبکہ 117 گرام اخروٹ میں 7.8 گرام فائبر موجود ہو سکتا ہے۔ بادام میں وٹامن ای، میگنیشیم اور مینگنیز پائے جاتے ہیں، جبکہ اخروٹ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز، کاپر اور فاسفورس کا ذریعہ ہیں۔

گری دار میوے توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں، اس لیے وزن کم کرنے کے دوران انہیں مناسب مقدار میں کھانا زیادہ بہتر ہے۔

5۔ بھنڈی (Okra)

بھنڈی فائبر سے بھرپور سبزیوں میں شامل ہے۔ تقریباً 80 گرام بھنڈی میں 2 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔

اس میں وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے، کیلشیم، آئرن اور دیگر غذائی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں۔ بھنڈی کو کم تیل میں پکا کر یا متوازن سبزیوں والی غذا کا حصہ بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

6۔ مٹر (Peas)

مٹر فائبر اور نباتاتی پروٹین کا اچھا ذریعہ ہیں۔ ایک کپ پکے ہوئے مٹر، جس کا وزن تقریباً 160 گرام ہوتا ہے، میں لگ بھگ 8.8 گرام فائبر موجود ہوتا ہے۔

مٹر میں وٹامن سی، وٹامن کے، وٹامن بی 6، فولیٹ، مینگنیز اور وٹامن اے بھی پائے جاتے ہیں۔ انہیں سالن، سوپ، سلاد یا دیگر سبزیوں کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وزن کم کرنے کے لیے فائبر کا استعمال کیسے بڑھائیں؟

ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کے لیے صرف ایک مخصوص غذا پر انحصار کرنے کے بجائے مجموعی غذائی عادات بہتر بنانا ضروری ہے۔ روزانہ کی خوراک میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں اور مناسب مقدار میں گری دار میوے شامل کیے جا سکتے ہیں۔

فائبر کی مقدار بتدریج بڑھانا اور مناسب پانی پینا بھی اہم ہے، کیونکہ اچانک زیادہ فائبر کھانے سے گیس، پیٹ پھولنے یا دیگر ہاضمے کی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔

یاد رکھیں: فائبر سے بھرپور غذائیں وزن کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن مؤثر نتائج کے لیے مجموعی کیلوریز، متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی اور نیند کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ کوئی ایک غذا اکیلے وزن کم کرنے کی ضمانت نہیں دیتی۔

صفحہ 3 / 4
اردو لیڈ جمعرات، 29 اکتوبر 2026 ریٹس اور موسم صفحہ 4

آج کے ریٹس

KSE-100 167,193.43 پوائنٹس ↑ +1,456.68
ڈالر (انٹربینک، تقریباً) 276.60 روپے ↓ -0.31
سونا — عالمی قیمت 415,965 روپے فی تولہ ↓ -4,427
پیٹرول 377.91 روپے فی لیٹر ↑ +1.85
ڈیزل 399.82 روپے فی لیٹر ↑ +1.75

موسم

  • اسلام آباد 16° صاف آسمان 26° / 16°
  • لاہور 18° صاف آسمان 27° / 18°
  • راولپنڈی 15° صاف آسمان 27° / 15°
  • فیصل آباد 17° صاف آسمان 27° / 17°
  • ملتان 19° صاف آسمان 31° / 19°
  • گوجرانوالہ 18° صاف آسمان 27° / 17°
  • سیالکوٹ 17° صاف آسمان 27° / 17°
  • سرگودھا 16° صاف آسمان 27° / 16°

یہ اعداد ایڈیشن تیار ہوتے وقت (30 اکتوبر، 06:00) کے ہیں · ذرائع: PSX، Exchange Rate API، gold-api.com، Open-Meteo، ڈیسک۔ صرف معلومات کے لیے، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔

صفحہ 4 / 4