پاکستان ویتنام میچ میں قومی فٹبال ٹیم فیفا آسیان کپ کے آخری گروپ میچ میں 4-2 سے ہار گئی۔

ٹیم نے پہلے ہاف میں محب اللّٰہ کے گول کی بدولت برتری حاصل کی، لیکن دوسرے ہاف میں چار گول کھا کر میچ اور ٹورنامنٹ دونوں ہاتھ سے دے دیے۔ جکارتہ میں کھیلے گئے اس مقابلے کے بعد پاکستان کی مہم صرف ایک پوائنٹ پر ختم ہوگئی۔

جکارتہ میں فیفا آسیان کپ کے پاکستان ویتنام میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑی گول کے بعد جشن مناتے ہوئے

پاکستان ویتنام میچ سے پہلے کی صورتحال

ویتنام عالمی رینکنگ میں پاکستان سے 99 درجے اوپر ہے، اس لیے مقابلہ کاغذ پر یک طرفہ لگتا تھا۔ پاکستان نے اس سے پہلے فلپائن کے خلاف دو گول کے خسارے سے واپس آ کر میچ 2-2 سے برابر کیا تھا۔ اس کارکردگی کے بعد توقع تھی کہ ٹیم ویتنام کے خلاف بھی جم کر کھیلے گی۔ پہلے ہاف میں ایسا ہی ہوا، لیکن پورے میچ کے نتیجے پر نظر ڈالیں تو یہی توقعات سوال بھی کھڑے کرتی ہیں۔

میچ کی تفصیل: پہلے ہاف میں پاکستان، دوسرے میں ویتنام

پانچویں منٹ میں شائیک دوست کا ہیڈر ہدف سے باہر گیا اور عبدالصمد کا شاٹ ویتنامی گول کیپر نے روک لیا۔ 31ویں منٹ میں محب اللّٰہ نے ویتنام کے دفاع سے گیند چھین کر گول کیپر پیٹرک گیانگ لے کو چکمہ دیا اور پاکستان کو 1-0 کی برتری دلادی۔ ویتنام نے پہلے ہاف کے اختتام پر دباؤ بڑھایا، مگر پاکستان وقفے تک برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

دوسرے ہاف کے آغاز پر کوچ نولبرٹو سولانو نے عالمگیر غازی اور عمر نواز کو میدان میں اتارا، لیکن کھیل کا رُخ ویتنام کی طرف مڑ گیا:

  • 50ویں منٹ: لانگ ہائی نگوین کا گول، اسکور 1-1
  • 57ویں منٹ: ڈک ہوانگ نگوین کا گول، ویتنام 2-1 سے آگے
  • 80ویں منٹ: بیک ڈنھ نگوین کا گول، اسکور 3-1
  • 88ویں منٹ: علی اکبر کے شاٹ پر کلیم اللّٰہ خان کا گول، اسکور 3-2
  • اضافی لمحات: بیک ڈنھ نگوین کے پاس پر ہوانگ منہ ولیمز کا گول، حتمی اسکور 4-2

سوشل میڈیا اور شائقین کا ردعمل

پاکستان ویتنام میچ کے بعد شائقین کی بحث دو نکات پر مرکوز ہو سکتی ہے: پہلے ہاف کی اچھی کارکردگی، اور برتری کے بعد ٹیم کا اچانک بکھر جانا۔ سوشل میڈیا پر دستیاب اصل پوسٹس کے مطابق یہ حصہ مکمل کیا جائے۔

ماہرانہ تجزیہ: پاکستان ویتنام میچ سے کیا سبق ملتا ہے؟

اعداد و شمار ایک مثبت اور ایک تشویشناک پہلو دکھاتے ہیں۔ مثبت یہ کہ ٹیم نے لگاتار دو میچوں میں مضبوط حریفوں کے خلاف گول کیے اور پیچھے رہ کر بھی واپسی کی کوشش جاری رکھی۔ تشویشناک یہ کہ دوسرے ہاف کے آغاز کے سات منٹ میں دو گول ہوگئے، جو دفاعی ترتیب اور ذہنی دباؤ سنبھالنے کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔

کوچ کی ابتدائی تبدیلیاں بھی میچ کا رُخ نہ موڑ سکیں۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ برتری کے بعد کھیل پر کنٹرول رکھنے کی حکمت عملی کیا تھی۔ ایک پوائنٹ کے ساتھ پہلی فیفا مقابلے کی مہم مکمل کرنا تجربے کے لحاظ سے اہم ہے، مگر نتائج کے لحاظ سے اطمینان بخش نہیں۔

ٹورنامنٹ میں پوزیشن

اس نتیجے کے بعد ویتنام گروپ میں تھائی لینڈ کے بعد دوسرے اور فلپائن تیسرے نمبر پر رہا۔ پاکستان نے مہم ایک پوائنٹ کے ساتھ مکمل کی۔