پاکستان فٹبال ٹیم نے فیفا آسیان کپ میں فلپائن کے خلاف پہلے ہاف میں دو گول کے خسارے کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے میچ 2-2 سے برابر کر دیا۔ یہ کسی فیفا ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم کا پہلا پوائنٹ ہے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے مطابق آج رات کیے گئے دونوں گول اس ٹورنامنٹ میں ٹیم کے پہلے گول ہیں۔

انڈونیشیا کے سی جلک ہرپت اسٹیڈیم میں فلپائن کے سینڈرو رئیس نے 24ویں منٹ میں پہلا گول کیا۔ اس کے چند منٹ بعد محمد فضل کے ہینڈ بال پر ملنے والی پنالٹی کو بیورن کرسٹینسن نے گول میں بدل کر برتری 2-0 کر دی۔ دوسرے ہاف کے آغاز میں علی اکبر خان نے اپنا پہلا بین الاقوامی گول کیا۔ اس کے بعد عبدالصمد ارشد نے دائیں جانب سے باکس میں گھس کر برابری کا گول کر دیا۔

پاکستان فٹبال ٹیم کے کھلاڑی فلپائن کے خلاف فیفا آسیان کپ میچ میں دوسرا گول کرنے کے بعد جشن مناتے ہوئے

پاکستان فٹبال ٹیم کے لیے پس منظر: ایک مشکل آغاز کے بعد ابھرنے والا نتیجہ

عالمی رینکنگ میں 198ویں نمبر کی پاکستان فٹبال ٹیم کا مقابلہ 135ویں یا 136ویں نمبر کی فلپائنی ٹیم سے تھا، یعنی 60 سے زائد درجوں کا فرق۔ ٹورنامنٹ میں پاکستان کا آغاز اچھا نہیں رہا تھا۔ ٹیم کو ڈویژن ون گروپ بی کے پہلے میچ میں تھائی لینڈ کے ہاتھوں 4-0 سے شکست ہوئی تھی۔ ٹورنامنٹ میں 14 ٹیمیں دو ڈویژنز میں شریک ہیں اور یہ 24 ستمبر سے 5 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

اس نتیجے کو سمجھنے کے لیے ایک وضاحت ضروری ہے۔ فیڈریشن کا دعویٰ فیفا ٹورنامنٹ کے حوالے سے ہے۔ فیفا کی اپنی رپورٹ کے مطابق پاکستان ماضی میں ورلڈ کپ کوالیفائرز میں ایک اور براعظمی کوالیفائرز میں پانچ میچ جیت چکا ہے۔ اس لیے یہ "پہلے گول" کا ریکارڈ آسیان کپ کے تناظر میں ہے، ورلڈ کپ کوالیفائرز کے تناظر میں نہیں۔ پھر بھی پاکستان فٹبال ٹیم کے لیے یہ نتیجہ ایک اہم سنگِ میل ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

میچ کے بعد پاکستانی مداحوں نے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک فین پیج نے اسے پاکستانی فٹبال کی شاندار واپسی قرار دیا اور کھلاڑیوں کے حوصلے کی تعریف کی۔ ایک اور فٹبال پیج نے دونوں گول کرنے والوں کی ویڈیو شیئر کی۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ 4-0 کی شکست کے بعد ٹیم نے کردار کا مظاہرہ کیا۔

ماہرانہ تجزیہ: پاکستان فٹبال ٹیم کی کارکردگی میں کیا اچھا اور کیا کمزور رہا

کھیل کے پہلے ہاف میں پاکستان کا دفاع بار بار کراسز کے سامنے دباؤ میں رہا۔ پہلا گول گول کیپر کے سامنے ایک ریباؤنڈ پر ہوا، جبکہ دوسرا گول ہینڈ بال کی غلطی کا نتیجہ تھا۔ یہ دونوں غلطیاں ایسی تھیں جن سے بچا جا سکتا تھا۔

دوسرے ہاف میں کوچ نولبرٹو سولانو کی تبدیلیوں کے بعد ٹیم زیادہ جارحانہ نظر آئی اور دو منٹ میں پہلا گول ہو گیا۔ گول کیپر اور مہر اللہ (محب اللہ) آفریدی کے اہم بلاکس نے برابری برقرار رکھی۔ اسی لیے پاکستان فٹبال ٹیم کو خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ اگر پہلے ہاف کی یہ غلطیاں نہ ہوتیں تو کیا نتیجہ مزید بہتر ہو سکتا تھا۔

ایک اور بات: مختلف رپورٹس میں دوسرے گول کرنے والے کھلاڑی کا نام مختلف لکھا گیا ہے۔ ڈان، جیو اور دیگر اداروں نے عبدالصمد ارشد لکھا، جبکہ فیفا کی میچ رپورٹ میں عبدالشہزاد کا نام آیا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کی تصدیق کے بعد اس کی وضاحت متوقع ہے۔

آگے کیا؟ پاکستان فٹبال ٹیم کو درکار نتیجہ

پاکستان کا آخری گروپ میچ 2 اکتوبر کو ویتنام کے خلاف ہے۔ ٹیم کی گول ڈفرنس منفی 4 ہے، اس لیے اگلے مرحلے کا راستہ مشکل ہے۔ رپورٹس کے مطابق تھائی لینڈ اور فلپائن کے میچ میں ڈرا کی صورت میں پاکستان کو ویتنام کو چار گول سے زیادہ کے فرق سے ہرانا ہوگا۔