صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ذیابیطس کی علامات اتنی ہلکی ہو سکتی ہیں کہ مریض کو احساس تک نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں خون میں گلوکوز کی بلند سطح سے جڑی چھ علامات بتائی گئی ہیں: شدید تھکن، غیر معمولی بھوک، دھندلی نظر، بار بار پیشاب، منہ کی خشکی اور بلا وجہ وزن میں کمی۔ رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ بیماری جتنی جلد معلوم ہو، اسے سنبھالنا اتنا آسان ہوتا ہے۔

ذیابیطس کی علامات کیا ہیں؟

رپورٹ کے مطابق یہ تمام علامات خون میں گلوکوز، یعنی ایک قسم کی شکر، کی معمول سے زیادہ مقدار کا نتیجہ ہیں۔

1. شدید تھکن: رپورٹ کے مطابق خون میں گلوکوز کی مقدار گھٹتی بڑھتی رہے تو جسم کو توانائی کے لیے کافی گلوکوز نہیں ملتا اور شدید تھکن رہتی ہے۔ رپورٹ اسے "ڈائبیٹیز فٹیگ سنڈروم" کہتی ہے، مگر یہ باضابطہ طبی تشخیص کی اصطلاح نہیں ہے۔

2. بھوک میں اضافہ: طبی زبان میں اسے پولیفیجیا کہتے ہیں۔ جسم خون کے گلوکوز سے خلیوں کو توانائی دیتا ہے، لیکن یہ نظام بگڑ جائے تو خلیے گلوکوز جذب نہیں کر پاتے اور جسم مسلسل ایندھن مانگتا رہتا ہے۔

3. دھندلی نظر: بلند شوگر آنکھوں کے پردے (ریٹینا) کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور آنکھوں کے گرد سیال کی سطح بدل سکتی ہے، جس سے بینائی دھندلی یا کمزور ہو جاتی ہے۔

4. بار بار پیشاب: خون میں اضافی شکر کو سنبھالنے کے لیے گردوں پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے، اس لیے مریض کو بار بار واش روم جانا پڑتا ہے۔

5. منہ کی خشکی: جب جسم کا پانی پیشاب بنانے میں صرف ہوتا ہے تو باقی جسم کے لیے نمی کم رہ جاتی ہے۔ پانی کی کمی سے منہ خشک محسوس ہوتا ہے۔

6. بلا وجہ وزن میں کمی: جسم کو خوراک سے توانائی نہ ملے تو وہ پٹھے اور چربی جلانے لگتا ہے، چنانچہ کھانے پینے میں تبدیلی کے بغیر بھی وزن گھٹ سکتا ہے۔

پس منظر: خاموش بیماری کا پھیلاؤ

ذیابیطس دنیا میں سب سے زیادہ تشخیص ہونے والی بیماریوں میں شمار ہوتی ہے۔ بین الاقوامی اندازوں کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کی شرح دنیا کی بلند ترین شرحوں میں ہے، اس لیے ذیابیطس کی علامات سے آگاہی یہاں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس برسوں تک بغیر واضح علامات کے موجود رہ سکتی ہے۔ اسی لیے علامات کا انتظار کرنے کے بجائے وقفے وقفے سے ٹیسٹ کروانا زیادہ محفوظ حکمت عملی ہے۔

ماہرانہ تجزیہ: کیا یہ فہرست مکمل ہے؟

طبی اصولوں کے مطابق یہ علامات حقیقی ہیں، مگر رپورٹ میں کئی باریکیاں شامل نہیں:

  • دھندلی نظر: شوگر میں اتار چڑھاؤ سے عارضی دھندلاہٹ آ سکتی ہے، جبکہ ریٹینا کو نقصان عموماً طویل عرصے تک بے قابو شوگر کا نتیجہ ہوتا ہے۔
  • وزن میں کمی: یہ علامت زیادہ تر ٹائپ 1 یا بے قابو ذیابیطس میں نمایاں ہوتی ہے۔ ٹائپ 2 کے کئی مریضوں کا وزن بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
  • تشخیص: ذیابیطس کی علامات کسی ٹیسٹ کا متبادل نہیں۔ تصدیق خون کے ٹیسٹ جیسے فاسٹنگ گلوکوز اور HbA1c سے ہوتی ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔