ماہرِ غذائیت کے مطابق معدے کی صحت کا براہِ راست تعلق ہماری روزمرہ کھانے کی عادات سے ہے۔ جلدی جلدی کھانا، رات کو دیر سے ڈنر کر کے فوراً سو جانا اور کھانے کے دوران ضرورت سے زیادہ پانی پینا وہ تین عادات ہیں جنہیں ہاضمے کے مسائل کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ تینوں عادات پاکستانی گھرانوں میں بھی عام ہیں۔
معدہ اعصابی نظام سے جڑا ہے، اس لیے ذہنی دباؤ، جذبات اور کھانے کا انداز ہاضمے پر اثر ڈالتے ہیں۔
معدے کی صحت اور پاکستانی کھانے کا انداز
ڈاکٹر کے مطابق کام کرتے ہوئے، موبائل دیکھتے ہوئے یا ذہنی دباؤ میں کھانا معدے کے تیزاب اور ہاضمے کے خامروں (انزائمز) کی پیداوار میں خلل ڈال سکتا ہے۔ نوالہ اچھی طرح نہ چبانے سے معدے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، جس سے پیٹ پھولنے اور بدہضمی کا امکان بڑھتا ہے۔
پاکستان میں دفتر کی میز پر لنچ، ٹی وی کے سامنے کھانا اور بچوں کا موبائل کے ساتھ نوالے نگلنا معمول بن چکا ہے۔ اس لحاظ سے یہ نصیحت دور کے کسی ملک کی نہیں، ہمارے اپنے دسترخوان کی ہے۔
دیر سے ڈنر: شہروں کی عام عادت
ماہرین کے مطابق غذا کی قسم کے لحاظ سے ہاضمے میں دو سے چھ گھنٹے یا اس سے زیادہ لگ سکتے ہیں۔ اگر معدہ فارغ ہونے سے پہلے لیٹ جائیں تو تیزابیت اور سینے کی جلن کا خطرہ بڑھتا ہے اور نیند کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔
لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں رات 10 یا 11 بجے ڈنر، شادیوں کی دعوتیں اور بھاری تلی ہوئی غذائیں عام ہیں۔ معدے کی صحت کے نقطہ نظر سے یہ طرزِ زندگی خاص طور پر پریشان کن ہے۔
کھانے کے ساتھ زیادہ پانی؟ ایک متنازع مشورہ
رپورٹ کے مطابق کھانے کے ساتھ بہت زیادہ مائع معدے کے تیزاب کو پتلا کر سکتا ہے اور ہاضمے کی کارکردگی گھٹا سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے سوپ سمیت کھانے کے دوران کل مائع 200 ملی لیٹر سے کم رکھنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ 50 سے 100 ملی لیٹر کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔
ایک اہم نکتہ: یہ حد ایک ڈاکٹر کی رائے ہے اور رپورٹ میں اس کے حق میں کسی تحقیق کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ طبی حلقوں میں کھانے کے ساتھ پانی کے اثرات پر رائے منقسم ہے، اور معتدل مقدار کو عموماً نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان میں سالن، شوربہ، لسی اور چائے کھانے کے ساتھ عام ہیں، اس لیے 200 ملی لیٹر کی حد پر عمل ہر ایک کے لیے آسان یا ضروری نہیں۔
سوشل میڈیا اور عوامی رجحان
کھانے کے اوقات، بھاری ڈنر اور کھانے کے بعد چائے پر گھریلو بحث ہمارے یہاں پرانی ہے۔ ایسے مشورے سوشل میڈیا پر اکثر بغیر سیاق و سباق کے وائرل ہو جاتے ہیں، اس لیے انہیں حتمی طبی ہدایت سمجھنے کے بجائے عمومی رہنمائی کے طور پر لینا چاہیے۔
ماہرین کا تجزیہ: کیا کریں؟
رپورٹ میں معدے کی صحت کے لیے یہ تجاویز دی گئی ہیں:
- ہر کھانے پر 20 سے 30 منٹ لگائیں اور ہر نوالہ 20 سے 50 بار چبائیں
- کھانے کے ذائقے، ساخت اور شکل پر توجہ دیں، اس سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور پیٹ بھرنے کا احساس جلد ہو جاتا ہے
- ناشتہ چھوڑے بغیر دن میں تین باقاعدہ کھانے کھائیں
- پراسیسڈ، چکنائی والی، زیادہ نمکین اور دھویں پر پکی غذاؤں سے پرہیز کریں
- معدے کے السر کے مریض زیادہ بھوکا رہنے یا ضرورت سے زیادہ کھانے سے بچیں، الکحل، تمباکو، مرچ مصالحے اور کھٹی اشیاء محدود کریں، اور تھوڑا تھوڑا کر کے کئی بار کھائیں۔ روٹی جیسی نشاستہ دار غذائیں تیزاب جذب کرنے میں مدد دے سکتی ہیں
ماہرین عموماً یہ بھی کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں معدے کے جرثومے (ایچ پائلوری) کے کیسز نسبتاً زیادہ ہیں، اس لیے بار بار جلن، درد یا بدہضمی کی صورت میں خود علاج کے بجائے مستند معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔