امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص بھی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 9 فیصد کمی کے بعد 94.30 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 8 فیصد کمی کے بعد 87.35 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوتا رہا۔

عالمی تیل کی قیمتوں میں اس نمایاں کمی کے ساتھ امریکی ایس اینڈ پی انرجی انڈیکس بھی 4.77 فیصد گر کر 976.18 پوائنٹس پر آگیا۔ سرمایہ کاروں میں یہ توقع پیدا ہوئی ہے کہ امریکی انتخابی نتائج کے بعد واشنگٹن کی خارجہ اور توانائی پالیسی میں تبدیلی آسکتی ہے۔

توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کی تشویش کی ایک وجہ ٹیکساس اور جارجیا میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی نمایاں کامیابی بھی ہے۔ ان امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی مخالفت کو اہم موضوع بنایا تھا۔

ڈیٹا سینٹرز کو قدرتی گیس کی طلب میں اضافے کا ایک اہم محرک سمجھا جاتا ہے اور توانائی کے شعبے کے تجزیہ کار مستقبل میں ان مراکز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو قدرتی گیس کی کھپت میں اضافے سے جوڑتے رہے ہیں۔

تاہم نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر محدود کرنا ایران جنگ ختم کرنے کے مقابلے میں نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کو پیچیدہ سیاسی، فوجی اور سفارتی فیصلے کرنا ہوں گے۔

انتخابی نتائج ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے کے بجائے حملوں پر بھی آمادہ کر سکتے ہیں

تیل اور توانائی کمپنیوں کے حصص میں حالیہ کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار ایران جنگ کے خاتمے کی امید لگا رہے ہیں، تاہم بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کو کشیدگی کم کرنے کے بجائے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائیوں کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اب یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ آیا ٹرمپ انتخابی نقصان کے بعد سفارتی راستہ اختیار کریں گے یا اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں میں شدت لائیں گے۔

ابوظہبی میں قائم امارات پالیسی سینٹر کی صدر ابتسام الکتبی کے مطابق اگر تہران یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کو کسی معاہدے کی ضرورت ہے، لیکن وہ محض کوئی بھی معاہدہ نہیں بلکہ ایک حقیقی اور قابل عمل سمجھوتا چاہتے ہیں، تو جنگ ختم کرنے کا ایک اہم موقع پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم ان کے مطابق اگر ایران انتخابی نتائج کو امریکی عزم اور فوجی قوت میں کمزوری سمجھتا ہے تو اس سے ٹرمپ کو نئی فوجی کشیدگی بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

ایران ہائی الرٹ، عالمی توانائی سلامتی کو خطرات

رائٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے والے ایرانی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران بدستور ہائی الرٹ ہے اور اسے خدشہ ہے کہ انتخابی شکست کے بعد صدر ٹرمپ اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں عالمی توانائی منڈیوں کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی میں اضافے سے تیل کی ترسیل، سمندری تجارتی راستوں اور عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

سرمایہ کاروں نے فی الحال جنگ کے خاتمے اور سفارتی پیش رفت کی امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی کی ہے، لیکن اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے اور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

یوں امریکی انتخابات کے بعد تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کو مستقل رجحان قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ عالمی توانائی منڈی کا مستقبل بڑی حد تک ٹرمپ کے ایران سے متعلق آئندہ فیصلے اور مشرق وسطیٰ میں امن یا مزید کشیدگی پر منحصر ہے۔