پاکستان نے سعودی عرب کو ملک میں ڈیوٹی فری آئل اسٹوریج کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جس کے تحت سعودی کمپنیاں پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر تیل کے ذخائر قائم کر سکیں گی اور انہیں مقامی ٹیکسوں کی ادائیگی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس اقدام کا مقصد تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستے اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ سعودی عرب آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے وابستہ سمندری نقل و حمل کے خطرات کو کم کر سکے۔
اس مجوزہ انتظام سے سعودی عرب کو تیل کی عالمی ترسیل، سپلائی روٹس کے انتظام اور علاقائی منڈیوں تک رسائی میں زیادہ لچک حاصل ہوگی، جبکہ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی و تزویراتی تعلقات مضبوط بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔
حب بلوچستان میں بڑا آئل اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس
علی پرویز ملک نے حب، بلوچستان میں ایک بڑے آئل اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس کے قیام کے منصوبے کا بھی انکشاف کیا، جس کی قیادت ٹیکنپ انرجیز یوکے (Technip Energies UK) کرے گی۔
غیر سرکاری ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کو ویری لارج کروڈ کیریئرز (VLCCs) کی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جس سے انتہائی بڑے خام تیل بردار جہازوں کو لنگر انداز ہونے اور بڑی مقدار میں تیل اتارنے کی سہولت میسر آسکے گی۔
اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو پاکستان کی خام تیل درآمد کرنے، اتارنے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح پاکستان خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیا کے درمیان تیل کی ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے ایک اہم علاقائی مرکز کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔
تاہم منصوبے کی مالی ضروریات، تکمیل کی مدت، بندرگاہی سہولیات اور متعلقہ انفرااسٹرکچر کی دستیابی اس کی کامیابی کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔
غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کسٹمز ویئر ہاؤسز کی سہولت
حب کے منصوبے اور سعودی عرب کو پیشکش کے ساتھ پاکستان نے غیر ملکی پیٹرولیم سپلائرز کو راغب کرنے کے لیے بھی اقدامات شروع کیے ہیں۔
اس سلسلے میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے نئے ضوابط متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے تحت بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں ایندھن درآمد کرکے اسے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں ذخیرہ کر سکیں گی۔
اس نظام کے تحت غیر ملکی سپلائرز اپنی مصنوعات پاکستان میں ذخیرہ کرسکیں گے، تاہم انہیں فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ اس سے تیل کی سپلائی میں لچک پیدا کرنے اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
بزنس ریکارڈر کے ڈائریکٹر ریسرچ علی خضر نے کسٹمز ویئر ہاؤسز کے اس منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان نہ صرف اپنے علاقے میں اسٹریٹجک تیل کے ذخائر قائم کر سکے گا بلکہ اسے اضافی بحری اور مال برداری کی سرگرمیوں سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان خطے میں واقع ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی بندش سے براہ راست اسی نوعیت کے جغرافیائی اثرات کا شکار نہیں ہوتا، اس لیے موجودہ صورتحال ملک کے لیے اپنے توانائی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے اور اضافی آمدنی حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
علاقائی آئل ہب بننے کی راہ میں چیلنجز
پاکستان کے لیے سعودی تیل کے ذخائر اور حب میں مجوزہ کمپلیکس غیر ملکی سرمایہ کاری، بندرگاہی سرگرمیوں، روزگار اور توانائی کے شعبے میں آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
تاہم پاکستان کو علاقائی آئل اسٹوریج اور ٹریڈنگ مرکز بنانے کے لیے کئی بنیادی مسائل حل کرنا ہوں گے۔ ان میں بندرگاہی صلاحیت میں اضافہ، تیل کی نقل و حمل کے لیے جدید انفرااسٹرکچر، شفاف کسٹمز قوانین اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تجارتی تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ حکومت کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ ڈیوٹی فری ذخیرہ کیے جانے والے تیل کی مقامی مارکیٹ میں فروخت یا دیگر ممالک کو ترسیل کے لیے ٹیکس اور کسٹمز کا نظام کس طرح کام کرے گا۔
پاکستان کے لیے یہ منصوبے توانائی کے شعبے میں ایک اہم موقع ضرور ہیں، لیکن محض معاہدوں اور اعلانات سے ملک علاقائی آئل ہب نہیں بن سکتا۔ اس مقصد کے لیے مستقل سرمایہ کاری، مؤثر پالیسی سازی اور منصوبوں پر بروقت عمل درآمد ناگزیر ہوگا۔