عالمی توانائی منڈی میں جنگی حالات اور سپلائی میں غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کی بڑی آئل ریفائنریز کے منافع میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ جولائی تا ستمبر 2026 کی سہ ماہی کے دوران بڑی ریفائنریز کے مجموعی منافع میں تقریباً 1,860 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم دوسری جانب پیٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتوں نے صارفین کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔

نِکّی ایشیا (Nikkei Asia) کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل اور تیار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے درمیان فرق، جسے ریفائننگ مارجن یا کریک اسپریڈ کہا جاتا ہے، میں نمایاں اضافے نے پاکستانی ریفائنریز کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچایا۔ خاص طور پر ڈیزل کے مارجنز میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات عالمی سپلائی میں رکاوٹیں اور جاری جنگی تنازعات کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہیں۔

پاکستان کی تین بڑی لسٹڈ ریفائنریز نے بھی سہ ماہی کے دوران منافع میں ہزار فیصد سے زیادہ اضافہ رپورٹ کیا۔

اٹک ریفائنری لمیٹڈ (ARL) نے جولائی تا ستمبر کے دوران 18.65 ارب روپے خالص منافع کمایا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 1.45 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 1,184 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (PRL) کا خالص منافع 13.97 ارب روپے رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں یہ تقریباً 1.02 ارب روپے تھا۔ اس طرح کمپنی کے منافع میں تقریباً 1,274 فیصد اضافہ ہوا۔

نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (NRL) نے بھی 11.57 ارب روپے خالص منافع رپورٹ کیا، جو گزشتہ سال کے 1.03 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 1,029 فیصد زیادہ ہے۔

ان تینوں کمپنیوں کا مجموعی منافع تقریباً 44.2 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تقریباً 3.5 ارب روپے تھا۔ اس طرح صرف تین بڑی ریفائنریز نے ایک سال کے دوران اپنے منافع میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا۔

دیگر پیٹرولیم کمپنیوں، جن میں پاکستان آئل فیلڈز اور اٹک پیٹرولیم شامل ہیں، نے بھی اپنی آمدنی میں بہتری رپورٹ کی ہے۔

منافع میں اضافے کی وجوہات

ریفائنریز کی مالی کارکردگی بہتر ہونے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما رہے۔ عالمی منڈی میں ڈیزل اور دیگر تیار پیٹرولیم مصنوعات کے بہتر نرخ، خام تیل کی قیمت اور تیار مصنوعات کی قیمتوں کے درمیان بڑھتا فرق، انوینٹری گینز اور حکومت کی جانب سے جولائی 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کے نظام نے بھی اس رجحان میں کردار ادا کیا۔

عالمی توانائی منڈی میں جنگی تنازعات کے باعث سپلائی کے خدشات بڑھنے سے تیار مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کا فائدہ ان ریفائنریز کو پہنچا جو خام تیل کو مقامی سطح پر پیٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات میں تبدیل کرتی ہیں۔

حکومت کا ریفائننگ مارجنز پر کنٹرول

ریفائنریز کے منافع میں غیر معمولی اضافے کے باوجود ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتوں نے حکومت پر صارفین کو ریلیف دینے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال میں اسلام آباد نے ریفائننگ مارجنز کو محدود کرنے کے اقدامات کیے ہیں تاکہ عالمی منڈی میں بڑھنے والے مارجنز کا پورا بوجھ مقامی صارفین پر منتقل نہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کے زیادہ سے زیادہ کریک اسپریڈ کی حد کم کرکے 38 ڈالر فی بیرل مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس کی کم از کم حد 11.33 ڈالر فی بیرل رکھی گئی ہے۔ اس سے پہلے عارضی طور پر زیادہ سے زیادہ حد تقریباً 41.89 ڈالر فی بیرل تھی۔

حکومتی اقدام کا مقصد ریفائننگ مارجنز میں غیر معمولی اضافے کو محدود کرنا اور اس کے اثرات سے مقامی صارفین کو کسی حد تک تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ مارجنز پر حد مقرر کرنے سے پیٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں صارفین کو کتنا حقیقی ریلیف مل سکے گا۔

ریفائنریز کو جدید بنانے کے لیے اربوں ڈالر درکار

غیر معمولی منافع کے باوجود پاکستان کی ریفائنری صنعت کو طویل مدتی ساختی مسائل کا سامنا ہے۔ مقامی ریفائنریز کو جدید بنانے، پیداواری صلاحیت بہتر کرنے اور عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈیشن کے لیے تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔

براؤن فیلڈ ریفائننگ پالیسی کے تحت موجودہ ریفائنریز کو جدید بنانے کے منصوبے اہمیت رکھتے ہیں، تاہم ان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور مالی وسائل کی ضرورت ہے۔

ریفائنری صنعت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں بہتر مارجنز برقرار رہنا ضروری ہے تاکہ کمپنیاں اپنے اپ گریڈیشن منصوبوں میں ایکویٹی کی مد میں مطلوبہ سرمایہ فراہم کر سکیں۔ اس کے برعکس حکومت کی ترجیح پیٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتوں سے پریشان صارفین کو ریلیف دینا ہے۔

عارضی منافع، مستقل مسائل

پاکستانی ریفائنریز کے لیے موجودہ منافع ایک غیر معمولی مالی موقع ضرور ہے، لیکن اس کی بنیاد بڑی حد تک عالمی جنگی حالات اور توانائی کی منڈی میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال پر ہے۔ اگر عالمی سپلائی معمول پر آتی ہے اور ریفائننگ مارجنز کم ہوتے ہیں تو موجودہ منافع کی سطح برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ ریفائنریز موجودہ اضافی آمدنی کو کس حد تک جدید کاری، پیداواری استعداد اور مقامی توانائی تحفظ میں تبدیل کر پاتی ہیں۔ دوسری جانب حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ صارفین کو ریلیف دینے اور ریفائنری صنعت کو سرمایہ کاری کے قابل رکھنے کے درمیان ایسا توازن قائم کیا جائے جس سے ملک کی توانائی ضروریات اور طویل مدتی صنعتی ترقی متاثر نہ ہو۔