آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں منافع میں 53 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، تاہم کمپنی کے مالی گوشواروں کا تفصیلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ بھاری تجارتی واجبات، منافع کے مقابلے میں کم آپریٹنگ کیش فلو، بینک بیلنس میں کمی اور سرمایہ جاتی اخراجات میں نمایاں گراوٹ کمپنی کی مالی صورتحال کے اہم چیلنجز ہیں۔
30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے غیر آڈٹ شدہ مالی نتائج کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے 58 ارب 51 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 38 ارب 30 کروڑ روپے کے مقابلے میں تقریباً 53 فیصد زیادہ ہے۔
کمپنی کی آمدن بھی 96 ارب 19 کروڑ روپے سے بڑھ کر 132 ارب 41 کروڑ روپے ہوگئی، جس میں تقریباً 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مجموعی منافع 56 ارب 28 کروڑ روپے سے بڑھ کر 83 ارب 7 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
تاہم منافع میں نمایاں اضافے کے باوجود مالی گوشواروں میں ایسے کئی پہلو سامنے آئے ہیں جو کمپنی کی حقیقی مالی مضبوطی اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے حوالے سے سوالات پیدا کرتے ہیں۔
منافع بڑھا مگر آپریٹنگ کیش فلو پیچھے رہ گیا
او جی ڈی سی ایل کی مالی کارکردگی کا سب سے اہم تشویشناک پہلو اکاؤنٹنگ منافع اور حقیقی نقد آمدن کے درمیان نمایاں فرق ہے۔
کمپنی نے پہلی سہ ماہی میں 58 ارب 51 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا، لیکن آپریٹنگ سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی خالص نقد رقم صرف 34 ارب 39 کروڑ روپے رہی۔
اس طرح آپریٹنگ کیش فلو خالص منافع سے تقریباً 41 فیصد کم رہا۔
اگرچہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں آپریٹنگ کیش فلو صرف 3 ارب 71 کروڑ روپے تھا، جس کے مقابلے میں رواں سال نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم منافع کے مقابلے میں نقد رقم کی کم آمدن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپنی اپنی رپورٹ کردہ آمدن کو مکمل طور پر نقد وسائل میں تبدیل نہیں کر سکی۔
ورکنگ کیپیٹل کے اعدادوشمار بھی نقدی کے دباؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ سہ ماہی کے دوران تجارتی اور دیگر واجبات میں 12 ارب 31 کروڑ روپے کی کمی ہوئی، جبکہ رائلٹی کی ادائیگی 17 ارب 46 کروڑ روپے اور انکم ٹیکس کی ادائیگی 22 ارب 98 کروڑ روپے رہی۔
596 ارب روپے کے تجارتی واجبات، ریکوری بڑا چیلنج
او جی ڈی سی ایل کے مالی گوشواروں میں سب سے نمایاں تشویشناک پہلو تجارتی واجبات (Trade Debts) کا غیر معمولی حجم ہے۔
30 ستمبر 2026 تک کمپنی کے تجارتی واجبات 595 ارب 58 کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جبکہ 30 جون 2026 کو یہ رقم 594 ارب 84 کروڑ روپے تھی۔
تین ماہ کے دوران واجبات میں معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ کمپنی کی بھاری رقوم اب بھی صارفین اور متعلقہ اداروں کے ذمے واجب الادا ہیں اور ان کی وصولی کا مسئلہ برقرار ہے۔
پاکستان کے توانائی شعبے میں ادائیگیوں کے مسائل اور مالیاتی دباؤ کے تناظر میں تقریباً 596 ارب روپے کے تجارتی واجبات کمپنی کی لیکویڈیٹی اور مستقبل کی سرمایہ کاری کی صلاحیت کے لیے اہم خطرہ ہیں۔
اتنی بڑی رقم کی عدم وصولی کمپنی کے نقد وسائل کو محدود کر سکتی ہے اور اسے اپنے مالی معاملات چلانے کے لیے دیگر مالی اثاثوں اور سرمایہ کاری پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
بینک بیلنس میں 36 فیصد کمی
کمپنی کے مالی نتائج کا ایک اور اہم منفی پہلو نقد رقم اور بینک بیلنس میں کمی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے نقد اور بینک بیلنس 30 جون 2026 کے 62 ارب 14 کروڑ روپے سے کم ہوکر 30 ستمبر 2026 کو 39 ارب 71 کروڑ روپے رہ گئے، جو تقریباً 36 فیصد کمی ظاہر کرتے ہیں۔
یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی نے اپنے سہ ماہی منافع میں 53 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔
اگرچہ کمپنی کے نقد اور نقد مساوی اثاثے (Cash and Cash Equivalents) بڑھ کر 321 ارب 45 کروڑ روپے ہوگئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 180 ارب 4 کروڑ روپے تھے، تاہم ان دونوں مالیاتی مدات میں فرق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مزید یہ کہ کمپنی کے دیگر مالیاتی اثاثے 269 ارب 92 کروڑ روپے سے بڑھ کر 325 ارب 81 کروڑ روپے ہوگئے۔
یہ صورتحال کمپنی کے مالیاتی اثاثوں کی نوعیت، ان کی فوری دستیابی اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کے حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت ظاہر کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب تجارتی واجبات تقریباً 596 ارب روپے ہیں۔
سرمایہ جاتی اخراجات میں 47 فیصد کمی
او جی ڈی سی ایل کے سرمایہ جاتی اخراجات (Capital Expenditure) میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
کمپنی نے پہلی سہ ماہی میں سرمایہ جاتی اخراجات کی مد میں 15 ارب 59 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ اخراجات 29 ارب 21 کروڑ روپے تھے۔
اس طرح سرمایہ کاری کے لیے مختص عملی اخراجات میں تقریباً 47 فیصد کمی واقع ہوئی۔
اگرچہ کم سرمایہ جاتی اخراجات سے مختصر مدت میں نقد وسائل پر دباؤ کم ہوسکتا ہے، تاہم اگر یہ کمی مسلسل برقرار رہے تو تیل و گیس کی تلاش، نئے ذخائر کی ترقی اور موجودہ پیداواری اثاثوں کی بہتری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق ایکسپلوریشن اینڈ ایویلیوایشن اثاثوں کی مالیت جون 2026 کے 29 ارب 65 کروڑ روپے سے بڑھ کر ستمبر 2026 میں 34 ارب 78 کروڑ روپے ہوگئی، جبکہ ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن اثاثے 169 ارب 52 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔
اس کے باوجود سرمایہ جاتی اخراجات میں کمی اس بات کی وضاحت طلب کرتی ہے کہ آیا کمپنی مستقبل میں ملکی تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے اور نئے ذخائر کی تلاش کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری کی رفتار برقرار رکھ سکے گی یا نہیں۔
ٹیکسوں کی مد میں تقریباً 30 ارب روپے ادا
او جی ڈی سی ایل کو پہلی سہ ماہی میں بھاری ٹیکس اخراجات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
کمپنی نے 87 ارب 98 کروڑ روپے کے قبل از ٹیکس منافع کے مقابلے میں 29 ارب 47 کروڑ روپے ٹیکس کی مد میں ظاہر کیے، جو قبل از ٹیکس منافع کا تقریباً 33.5 فیصد بنتا ہے۔
اس طرح منافع میں نمایاں اضافے کے باوجود ٹیکسوں نے کمپنی کی مجموعی آمدن کا ایک بڑا حصہ حاصل کرلیا۔
منافع کے بجائے نقد وصولیوں اور سرمایہ کاری پر توجہ ضروری
او جی ڈی سی ایل کے پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج بظاہر مضبوط منافع کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن تفصیلی مالیاتی اعدادوشمار ایک مختلف تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔
تقریباً 596 ارب روپے کے تجارتی واجبات، خالص منافع کے مقابلے میں کم آپریٹنگ کیش فلو، بینک بیلنس میں 36 فیصد کمی اور سرمایہ جاتی اخراجات میں 47 فیصد گراوٹ ایسے معاملات ہیں جنہیں محض منافع میں اضافے کے ذریعے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ایک بڑی سرکاری توانائی کمپنی کی مالی مضبوطی کا اندازہ صرف اس کے اکاؤنٹنگ منافع سے نہیں بلکہ بروقت وصولیوں، نقد رقم پیدا کرنے کی صلاحیت، پیداواری سرمایہ کاری اور نئے ذخائر کی تلاش میں پیش رفت سے بھی لگایا جانا چاہیے۔
او جی ڈی سی ایل کے لیے اصل چیلنج اب یہ ہوگا کہ وہ اپنے بھاری تجارتی واجبات کی وصولی یقینی بنائے، آپریٹنگ کیش فلو کو بہتر کرے اور تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری برقرار رکھے۔
بصورت دیگر منافع میں 53 فیصد اضافے کے باوجود کمپنی کی مالی کارکردگی کی پائیداری اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کے حوالے سے سوالات برقرار رہیں گے۔