فرانس میں ہونے والی دو نئی سائنسی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے بعض کیمیائی پریزرویٹوز (Preservatives) کا تعلق کینسر اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرات سے ہو سکتا ہے۔
برطانوی میڈیکل جرنل (British Medical Journal) اور جریدے نیچر کمیونیکیشنز (Nature Communications) میں شائع ہونے والی ان تحقیقات میں عام استعمال کے غذائی اجزا اور انسانی صحت پر ان کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیق کے دوران ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد بالغ افراد کے غذائی معمولات اور صحت سے متعلق معلومات کا تجزیہ کیا گیا۔ محققین نے بعض ایسے غذائی اضافوں کی نشاندہی کی جن کا استعمال مختلف بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے منسلک پایا گیا۔
تحقیقی نتائج کے مطابق کھانے کی اشیا کی مدتِ استعمال بڑھانے کے لیے شامل کیے جانے والے بعض پریزرویٹوز طویل مدت میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ ان اجزا کے استعمال سے براہِ راست کینسر یا ذیابیطس لاحق ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان نتائج سے غذائی مصنوعات میں استعمال ہونے والے کیمیائی اضافوں، ان کی مقدار اور طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔
تحقیق کے تناظر میں ماہرین نے تازہ اور کم سے کم پراسیس شدہ غذاؤں کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق پھل، سبزیاں، دالیں، اناج اور گھر میں تیار کردہ کھانے غذائی معیار بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
بازار سے پیک شدہ اشیا خریدتے وقت ان کے اجزا کی فہرست، غذائی لیبل اور پریزرویٹوز کی موجودگی پر توجہ دینا بھی اہم ہے۔ خصوصاً ایسی مصنوعات کا مسلسل اور زیادہ استعمال کم کرنے کی ضرورت ہے جن میں متعدد مصنوعی غذائی اضافے شامل ہوں۔
یہ تحقیقات پراسیس شدہ غذاؤں کے استعمال اور صحت کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں، تاہم کسی ایک غذائی جز کو کینسر کی براہِ راست وجہ قرار دینے کے بجائے سائنسی شواہد، استعمال کی مقدار اور مجموعی غذائی عادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔