امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں، قطر کے ثالثی وفود نے جمعے کے روز ایک مرتبہ پھر تہران کا دورہ کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جاسکے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ قطری ثالثی مشن کی کوششیں امریکا کے ساتھ رابطے اور مشاورت سے آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل قطر نے اتوار کے روز ایران کو امن معاہدے کا ایک مسودہ پیش کیا تھا، تاہم مذاکرات سے واقف ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے ان تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ تہران اپنے جوہری مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

مذاکرات میں بنیادی اختلافات جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے متعلق ہیں۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ جوہری معاملات کو مذاکرات کے ابتدائی مرحلے ہی سے معاہدے کا حصہ بنایا جائے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکا پہلے اپنی بندرگاہی ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا تھا کہ تہران ثالثی کرنے والے فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ایسی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جن کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی ایران کے ساتھ رابطہ کاری کا تعلق طبی سامان سے تھا۔ ان کا یہ بیان امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں نائب صدر کے رابطوں کو امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کی کوششوں سے جوڑا گیا تھا۔

قطر کی نئی سفارتی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان بنیادی شرائط پر اختلافات برقرار ہیں۔ امریکا جوہری پروگرام کو مذاکرات کا لازمی حصہ بنانا چاہتا ہے، جبکہ ایران پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے کو پیشگی شرط قرار دے رہا ہے۔

سفارتی حلقوں کی توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا قطری ثالثی ان اختلافات کو کم کرکے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں۔ فی الحال کسی حتمی معاہدے یا مذاکرات میں پیش رفت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔