حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج لکی مروت سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ 8 اکتوبر کو خیر آباد پہنچ کر آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہ ہونے دینے کا مؤقف دہرایا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان کا ذکر کیا ہے۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ کا اعلان اور مشاورت
سہیل آفریدی کے بیان کے مطابق پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا آغاز لکی مروت سے ہوگا۔ مارچ کی اگلی سمت کا فیصلہ 8 اکتوبر کو خیر آباد پہنچنے کے بعد کیا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارچ کا مکمل روٹ یا حتمی منزل تاحال عوام کے سامنے نہیں رکھی گئی۔
اعلان سے قبل وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سہیل آفریدی نے جنید اکبر اور عاطف خان سے لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورت کی۔ پی ٹی آئی کے مطابق مشاورت کا مقصد مارچ کی حکمت عملی طے کرنا تھا، تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
حکومت اپوزیشن مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی لانگ مارچ کی راہ ہموار
رپورٹس کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات رات تقریباً ڈھائی بجے تک جاری رہے، مگر کسی مسودے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ اسی ناکامی کے بعد تحریک انصاف نے پی ٹی آئی لانگ مارچ آج سے شروع کرنے کا اعلان کیا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فی الحال مذاکرات کا کوئی وقت طے نہیں ہوا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔ ان کا مؤقف ہے کہ لانگ مارچ “انٹیکٹ” ہے اور ہو کر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کی آڑ میں ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے صوبے کے عوام میں تناؤ پیدا ہو۔ ان کے بقول سیاست میں کوئی چیز آخری نہیں ہوتی، تاہم یہ بھی تسلیم کیا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے پر فریقین میں اتفاق نہیں ہوا۔
بلاول بھٹو کی تنبیہ: پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کر کے سیاسی حل نکالا جائے
بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی قیادت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے دہشت گردی کے خلاف وفاق کا ساتھ نہ دیا تو “شاید” خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی طرف جانا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ہر دوسرے دن دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی توجہ سیاست پر ہے، اور وہ نہیں چاہتے کہ ایمرجنسی لگا کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا پڑے۔
بلاول کے مطابق پی ٹی آئی لانگ مارچ اور احتجاج بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور اسلام آباد دس دن سے بند پڑا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اب مارچ ختم کر کے معاملے کا سیاسی حل نکالا جائے اور سیاسی بحران کو قومی مفاد سے الگ رکھا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے اس کے جواب میں واضح کیا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہو سکتا۔
تجزیہ اور تنقیدی نکات
پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق تمام بیانات متعلقہ فریقوں کے اپنے مؤقف پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ چند نکات توجہ طلب ہیں:
مذاکرات کا مسودہ: رات ڈھائی بجے تک بات چیت ہوئی، مگر نہ یہ بتایا گیا کہ مسودے میں کیا تھا اور نہ یہ کہ اختلاف کن نکات پر رہا۔ عوام کو ناکامی کی وجہ معلوم نہیں۔
متضاد دعوے: بلاول کا کہنا ہے کہ اسلام آباد دس دن سے بند ہے، جبکہ رانا ثناء اللہ کا اعلان ہے کہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لکی مروت سے آج شروع ہونے والے مارچ کے تناظر میں یہ دونوں باتیں ایک ساتھ واضح نہیں ہوتیں، اور اس پر کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔
بلاول کا دہرا پیغام: ایک طرف انہوں نے احتجاج کو “بڑی حد تک کامیاب” کہا، دوسری طرف ایمرجنسی یا گورنر راج کا اشارہ دیا۔ اس بیان کو سیاسی دباؤ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور احتجاج کو ایک دوسرے سے جوڑا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی اندرونی ہم آہنگی: بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مارچ “انٹیکٹ” ہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے اگلا لائحہ عمل 8 اکتوبر تک مؤخر رکھا ہے۔ آئندہ مراحل کی وضاحت نہ ہونے سے غیر یقینی برقرار ہے۔
تناؤ کا اعتراف: بیرسٹر گوہر نے خود صوبے کے عوام میں تناؤ نہ بڑھانے کی بات کی، جو مارچ کے ممکنہ اثرات پر جماعت کے اندر بھی تشویش کی نشاندہی کرتا ہے۔
مجموعی طور پر پی ٹی آئی لانگ مارچ کا مستقبل 8 اکتوبر کے فیصلے اور مذاکرات کی بحالی پر منحصر دکھائی دیتا ہے۔