اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹوں کی عدم فراہمی اور وعدوں کے مطابق سہولتیں نہ ملنے کی شکایات سامنے آنے کے بعد رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں صارفین کے تحفظ اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ خاص طور پر پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف متعدد شہریوں نے ادائیگیاں کرنے کے باوجود پلاٹ نہ ملنے کی شکایات کی ہیں۔
ایک حالیہ ٹی وی پروگرام میں ان شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرین میں پاکستان کے شہریوں کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں۔ شکایت کنندگان کے مطابق بعض افراد نے پلاٹوں کی مکمل یا جزوی قیمت ادا کردی، لیکن بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ متعلقہ پلاٹوں کے لیے زمین کی دستیابی ہی موجود نہیں۔
پروگرام میں بتایا گیا کہ متاثرین کے ایک گروپ میں 200 سے زائد افراد شامل ہیں، جنہوں نے اجتماعی طور پر تقریباً 50 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ متاثرین کے مطابق اس معاملے پر قومی احتساب بیورو (نیب) سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی متاثرین میں شامل
پروگرام میں متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک پاکستانی شہری آفتاب عزیز کی شکایت بھی پیش کی گئی، جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی میں 10 مرلے کا پلاٹ خریدا تھا، لیکن ادائیگی کے باوجود انہیں پلاٹ کے لیے زمین فراہم نہیں کی گئی۔
اسی طرح دیگر شہریوں نے بھی شکایت کی کہ انہوں نے اپنی جمع پونجی سے پلاٹ خریدنے کے لیے رقوم ادا کیں، تاہم انہیں نہ تو وعدے کے مطابق زمین ملی اور نہ ہی ان کے مسائل حل کیے گئے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے شکایات کے اندراج اور اجتماعی طور پر معاملہ اٹھانے کے لیے رابطہ گروپس بھی قائم کیے ہیں۔
نیب کی تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ
پروگرام میں بتایا گیا کہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق شکایات نیب تک پہنچ چکی ہیں اور نیب راولپنڈی کے ایک تحقیقاتی افسر اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
پروگرام کے میزبان نے وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالعلیم خان سے بھی ان شکایات کا جواب دینے کا مطالبہ کیا، کیونکہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کو ان سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ عوامی عہدہ رکھنے والی شخصیات اور ان سے منسلک کاروباری اداروں کو شہریوں کے سوالات اور شکایات کا جواب دینا چاہیے۔
تاہم پروگرام میں سامنے آنے والے الزامات اور متاثرین کے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی، اس کے انتظامی حکام اور وفاقی وزیر کا مؤقف بھی اس معاملے کی مکمل تصویر سامنے لانے کے لیے اہم ہوگا۔
اسلام آباد کی دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیز بھی شکایات کی زد میں
پروگرام میں صرف پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی ہی نہیں بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی دیگر رہائشی اسکیموں کے حوالے سے بھی شکایات کا ذکر کیا گیا۔
ان میں سوہان گارڈن، کیپیٹل انکلیو، کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی، دی لائف ریزیڈینسی اور گلبرگ سمیت مختلف منصوبے شامل ہیں۔
متاثرین کی شکایات بنیادی طور پر دو نوعیت کی ہیں۔ پہلی یہ کہ مکمل ادائیگی کے باوجود انہیں پلاٹوں کا قبضہ نہیں دیا گیا، جبکہ دوسری شکایت یہ ہے کہ ہاؤسنگ اسکیموں کی تشہیر کے دوران جن بنیادی سہولتوں اور ترقیاتی منصوبوں کے وعدے کیے گئے تھے، وہ پورے نہیں ہوئے۔
اس صورتحال نے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں نگرانی، شفافیت اور سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔
ہاؤسنگ سیکٹر میں شفافیت اور صارفین کے تحفظ کا سوال
پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کو سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن غیر واضح ملکیتی ریکارڈ، زمین کی دستیابی کے مسائل، تاخیر سے قبضے اور ترقیاتی وعدوں کی عدم تکمیل شہریوں کے لیے مالی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔
خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی جمع پونجی رہائشی منصوبوں میں لگاتے ہیں، اس لیے ان کے لیے زمین کی قانونی حیثیت، متعلقہ اداروں کی منظوری اور پلاٹ کی حقیقی دستیابی کی تصدیق انتہائی اہم ہے۔
متاثرین کی شکایات کا شفاف جائزہ، متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی انتظامیہ کی جانب سے واضح جواب ہی اس معاملے کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔