پاکستان میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود ٹیکس ادائیگیوں میں کمی نے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس اصلاحات اور محصولات بڑھانے کی حکمت عملی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تازہ اعدادوشمار کے مطابق ٹیکس سال 2026 میں 30 ستمبر تک ایف بی آر کو 57 لاکھ 67 ہزار 384 انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی تاریخ تک یہ تعداد 39 لاکھ 80 ہزار 692 تھی۔ اس طرح گوشواروں کی تعداد میں تقریباً 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم ٹیکس نیٹ میں اس نمایاں توسیع کے باوجود گوشواروں کے ساتھ جمع ہونے والے ٹیکس میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی سامنے آئی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق گوشواروں کے ساتھ ادا کیا جانے والا ٹیکس 83.3 ارب روپے سے کم ہو کر 77.3 ارب روپے رہ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب ٹیکس کی ادائیگی کرنے والے فائلرز کی تعداد 38 فیصد اضافے سے 33 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ صرف زیادہ افراد کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے سے حکومتی آمدن میں متناسب اضافہ یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

لاکھوں افراد کے گوشوارے تاحال صفر آمدن ظاہر کرتے ہیں

پاکستان کے ٹیکس نظام کا ایک بڑا مسئلہ صفر قابل ٹیکس آمدن ظاہر کرنے والے گوشواروں کی مسلسل بڑی تعداد ہے۔

ٹیکس سال 2026 میں جمع ہونے والے تقریباً 39 فیصد گوشواروں میں قابل ٹیکس آمدن صفر ظاہر کی گئی۔ یہ شرح گزشتہ سال کے قریب ہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائلرز کی تعداد بڑھنے کے باوجود ٹیکس نظام میں بنیادی خامیاں برقرار ہیں۔

اس صورتحال میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا ایف بی آر واقعی غیر دستاویزی آمدن رکھنے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لا رہا ہے یا محض ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو گوشوارے جمع کرانے کے باوجود قابل ٹیکس آمدن ظاہر نہیں کرتے۔

ریٹیل، ہول سیل تجارت، رئیل اسٹیٹ، ٹرانسپورٹ اور مختلف پیشہ ورانہ خدمات جیسے شعبوں میں آمدن کی درست رپورٹنگ اور مؤثر نگرانی اب بھی ٹیکس حکام کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

غیر تنخواہ دار طبقہ ٹیکس نیٹ میں شامل، مگر آمدن میں اضافہ کیوں نہیں؟

ٹیکس گوشواروں کی تعداد میں اضافے کا ایک اہم پہلو غیر تنخواہ دار طبقے کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق ٹیکس سال 2026 میں تاجروں، دکانداروں، پیشہ ور افراد اور خود روزگار افراد کے گوشواروں کی تعداد 60 فیصد اضافے سے 23 لاکھ 80 ہزار سے بڑھ کر 38 لاکھ 10 ہزار ہو گئی۔

اس طرح تقریباً 14 لاکھ 30 ہزار اضافی گوشوارے جمع ہوئے، جو مجموعی اضافے کا تقریباً 80 فیصد بنتے ہیں۔

دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کے گوشواروں میں بھی 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

غیر تنخواہ دار طبقے کی بڑھتی ہوئی شمولیت بظاہر مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ پاکستان کا ٹیکس نظام طویل عرصے سے تنخواہ دار ملازمین پر زیادہ انحصار کرتا رہا ہے، جن کی آمدن سے ٹیکس براہ راست منہا کر لیا جاتا ہے۔

تاہم صرف گوشوارے جمع کرانے کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ تاجروں اور کاروباری طبقے نے اپنی اصل آمدن کے مطابق ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔

گوشواروں کے ساتھ ٹیکس ادائیگی میں 7 فیصد کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹیکس نیٹ کی توسیع کے باوجود محصولات کی حقیقی بنیاد مضبوط نہیں ہو رہی۔

ٹیکس سال 2024 میں امیر طبقے کی آمدن چھپانے کا بڑا خلا سامنے آیا

پاکستان میں زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کی محدود ٹیکس ڈیکلریشن کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔

ٹیکس سال 2024 کے ایف بی آر اعدادوشمار کے مطابق صرف 57 ہزار 380 افراد نے ایک کروڑ روپے یا اس سے زیادہ سالانہ قابل ٹیکس آمدن ظاہر کی، جبکہ 10 کروڑ روپے سے زیادہ آمدن ظاہر کرنے والوں کی تعداد محض 3 ہزار 651 تھی۔

اس سال تقریباً 59 لاکھ 40 ہزار افراد نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے، جن میں سے تقریباً 22 لاکھ 50 ہزار افراد نے صفر قابل ٹیکس آمدن ظاہر کی۔

یہ اعدادوشمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں زیادہ آمدن اور اثاثے رکھنے والے طبقے کی ٹیکس ڈیکلریشن اور اصل معاشی حیثیت کے درمیان نمایاں فرق موجود ہو سکتا ہے۔

اگرچہ ٹیکس سال 2025 اور 2026 میں فائلرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم ان دونوں سالوں کے لیے ایک کروڑ اور 10 کروڑ روپے سے زیادہ آمدن ظاہر کرنے والوں کی تازہ اور مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

اس لیے فی الحال یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ ٹیکس نیٹ کی توسیع سے امیر طبقے کی ٹیکس ادائیگیوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔

تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ برقرار

پاکستان کے ٹیکس نظام میں تنخواہ دار طبقے پر انحصار ایک اور اہم مسئلہ ہے۔

تنخواہ دار ملازمین کی آمدن کا ریکارڈ عموماً آجروں کے پاس موجود ہوتا ہے اور انکم ٹیکس براہ راست تنخواہ سے منہا کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس تاجروں، کاروباری افراد، جائیداد کے مالکان اور خود روزگار پیشہ ور افراد کی اصل آمدن کا تعین کرنے کے لیے مؤثر نگرانی اور مالی ریکارڈ کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔

اگر ایف بی آر ان شعبوں میں ٹیکس چوری، آمدن چھپانے اور کم گوشوارے جمع کرانے کے رجحان پر قابو نہیں پاتا تو حکومت کے لیے پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

اثاثوں کی درست تفصیلات کے لیے ایف بی آر کے اقدامات

ایف بی آر نے ٹیکس گوشواروں میں اثاثوں کی تفصیلات بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔

ٹیکس فارم میں اثاثوں کی مالیت صفر ظاہر کرنے پر پابندی اور جائیدادوں کی مارکیٹ ویلیو درست طور پر ظاہر کرنے کی ہدایات اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔

ان اقدامات کا مقصد ٹیکس دہندگان کے اثاثوں کا زیادہ درست ریکارڈ مرتب کرنا اور ظاہر کردہ مالیت اور اصل معاشی حیثیت کے درمیان فرق کم کرنا ہے۔

تاہم صرف ڈیجیٹل ریکارڈ اور سخت شرائط متعارف کرانے سے ٹیکس چوری کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس کے لیے مؤثر آڈٹ، آمدن کی تصدیق، قانون پر عمل درآمد اور ٹیکس واجبات کی وصولی بھی ضروری ہے۔

فائلرز کی تعداد نہیں، حقیقی ٹیکس وصولی اصل کامیابی ہے

تازہ اعدادوشمار پاکستان کے ٹیکس نظام کی ایک ملی جلی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ایک طرف گوشواروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ اور غیر تنخواہ دار طبقے کی بڑھتی ہوئی شمولیت مثبت پیش رفت ہے، لیکن دوسری طرف صفر آمدن والے گوشواروں کی بڑی تعداد اور ٹیکس ادائیگیوں میں کمی اصلاحاتی عمل کی کمزوریوں کو نمایاں کرتی ہے۔

حکومت کے لیے اصل امتحان صرف فائلرز کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ غیر ظاہر شدہ آمدن کی نشاندہی، زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا اور مختلف معاشی شعبوں سے ان کی حقیقی ٹیکس استعداد کے مطابق محصولات وصول کرنا ہے۔

جب تک رئیل اسٹیٹ، ہول سیل، ریٹیل، کاروباری خدمات اور دیگر غیر دستاویزی شعبوں میں مؤثر ٹیکس نفاذ یقینی نہیں بنایا جاتا، پاکستان کا ٹیکس نظام چند پہلے سے دستاویزی اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے طبقات پر انحصار کرتا رہے گا۔

یوں فائلرز کی تعداد میں اضافہ تو جاری رہ سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت کو پائیدار ٹیکس آمدن کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔