آبنائے ہرمز کے قریب پاکستان کے لیے قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے بحری جہاز پر حملے نے ملک کی توانائی سپلائی اور خلیجی سمندری راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جہاز کو مبینہ طور پر حملے سے چند گھنٹے قبل ایرانی حکام کی جانب سے محفوظ گزرگاہ کی اجازت مل چکی تھی۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے سفر کرنے والا ایل این جی بردار جہاز ال مایدہ (Al Mayeda) جمعہ کے روز آبنائے ہرمز کے قریب حملے کا نشانہ بنا۔ جہاز قطر سے ایل این جی لے کر پاکستان کی جانب آ رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے جہاز کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے ایرانی حکام سے پہلے ہی سفارتی رابطے کیے تھے۔ معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے حملے سے صرف چند گھنٹے قبل جہاز کو گزرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اجازت کے باوجود جہاز کو کس جانب سے اور کن حالات میں نشانہ بنایا گیا۔
حملے کے بعد جہاز نے اپنا راستہ تبدیل کیا اور واپس خلیج فارس کی جانب چلا گیا۔ بھارتی وزیرِ جہاز رانی سربانند سونووال نے بتایا کہ جہاز کو ایک پروجیکٹائل حملے میں نشانہ بنایا گیا، تاہم عملے کے تمام 25 ارکان محفوظ ہیں، جن میں چھ بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔
قطر کی گیس ٹرانسپورٹ کمپنی نکلات (Nakilat) نے اتوار کو تصدیق کی کہ ال مایدہ کو نقصان پہنچا ہے، تاہم جہاز بدستور چلنے کے قابل ہے۔ کمپنی کے مطابق جہاز کی حالت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ جہاز اپنا سفر دوبارہ شروع کرکے پاکستان پہنچ سکے گا یا اس کی ایل این جی کی کھیپ کسی متبادل انتظام کے تحت فراہم کی جائے گی۔
پاکستان کی توانائی سپلائی کے لیے نیا خطرہ
پاکستان گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے قطری ایل این جی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد جہاز ایرانی حکام سے رابطوں کے بعد کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کرکے خلیج عمان پہنچے تھے۔
تاہم ال مایدہ پر حملہ ان سفارتی انتظامات کے لیے ایک نیا امتحان بن سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی علاقائی تنازع کے باعث توانائی کی قلت اور درآمدی ایندھن کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر یہ کھیپ پاکستان نہ پہنچ سکی تو حکومت کو متبادل ایل این جی خریدنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز سے ایل این جی کی ترسیل جنگ سے پہلے کے حجم کے تقریباً 30 فیصد تک محدود رہی، جو خطے میں توانائی کی تجارت میں جاری رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہے۔
عالمی ایل این جی تجارت پر دباؤ
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ قطر سمیت خلیجی ممالک کی ایل این جی اور تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس راستے پر حملوں اور جہاز رانی کے خطرات میں اضافے سے نہ صرف ترسیل متاثر ہوتی ہے بلکہ انشورنس، شپنگ اور متبادل خریداری کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
قطر نے ستمبر سے آبنائے ہرمز کے ذریعے ایل این جی کی برآمدات جاری رکھی ہوئی ہیں، تاہم خطرات اور اضافی انشورنس اخراجات کم کرنے کے لیے بعض پرانے جہاز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے صورتحال اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ ملک اپنی ایل این جی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک قطر پر انحصار کرتا ہے۔ ایک جہاز کی تاخیر یا واپسی بھی گیس کی دستیابی، بجلی کی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہے۔
ال مایدہ پر حملے کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے لیے ایرانی اجازت کے باوجود خلیجی سمندری راستوں سے توانائی کی محفوظ ترسیل ممکن رہے گی؟ اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ سفارتی اجازت کے باوجود جنگی حالات میں تجارتی جہازوں کی سلامتی کی ضمانت دینا آسان نہیں۔