امریکی کمپنیوں کے ایک نجی کنسورشیم نے ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت کے ساتھ پاکستان میں 4.4 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری سے مربوط ایل این جی منصوبہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت درآمدی گیس کی ذخیرہ اندوزی، ری گیسیفکیشن، ترسیل اور بڑے صارفین کو فروخت کے لیے ایک جامع نظام تیار کیا جائے گا۔

مجوزہ منصوبے میں پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل اور اسٹوریج کی سہولت کے علاوہ ملک کے بالائی علاقوں تک گیس پہنچانے کے لیے تقریباً 1,100 کلومیٹر طویل پائپ لائن بھی تعمیر کی جائے گی۔

اس منصوبے کو تجارتی بنیادوں پر چلانے کی تجویز ہے، جس کے تحت کنسورشیم درآمدی ایل این جی کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، گیس کی ترسیل اور فروخت سے آمدن حاصل کرے گا۔ اس کاروباری ماڈل میں حکومت کی جانب سے کسی ایک خریدار یا لازمی سرکاری خریداری کے معاہدے پر انحصار نہیں کیا جائے گا۔

امریکی کنسورشیم میں کون سی کمپنیاں شامل ہیں؟

مجوزہ منصوبے میں گلوبل وژن انرجی پارٹنرز (GVEP) اور خانجی ہولڈنگز کے علاوہ دیگر ممالک کے اسٹریٹجک سرمایہ کار اور لکسمبرگ میں قائم جنرل میڈیٹیرینین ہولڈنگ (GMH) شامل ہیں۔

منصوبے کے اسپانسرز نے پورٹ قاسم اتھارٹی سے مجوزہ منصوبے کے لیے جگہ کی منظوری حاصل کر لی ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں ابتدائی لائسنس کے حصول کے لیے درخواست بھی جمع کرا دی گئی ہے۔

اس منصوبے کے لیے ایک خصوصی مقصد کی کمپنی (SPV) بھی قائم کی گئی ہے، جسے منصوبے کے اثاثوں، واجبات اور مالیاتی ذمہ داریوں کو الگ رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

دستاویزات کے مطابق فی سرمایہ کار ابتدائی سرمایہ کاری کا تخمینہ 5 کروڑ ڈالر سے شروع ہوتا ہے۔

مجوزہ حصص کی تقسیم کے مطابق گلوبل وژن انرجی پارٹنرز کے پاس 26 فیصد، جنرل میڈیٹیرینین ہولڈنگ کے پاس 24 فیصد، جبکہ خانجی ہولڈنگز اور اسٹریٹجک شریک سرمایہ کاروں کے پاس 20، 20 فیصد حصص ہوں گے۔ باقی 10 فیصد حصص مقامی سرمایہ کاروں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

کنسورشیم عالمی توانائی اور انفراسٹرکچر فنڈز کے علاوہ گرے راک انویسٹمنٹ پارٹنرز، کے کے آر (KKR)، بلیک اسٹون، سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی جیسے اداروں کی ممکنہ شمولیت کی بھی توقع رکھتا ہے۔

تاہم ان اداروں کی شرکت ابھی حتمی نہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے جانچ پڑتال، متعلقہ منظوریوں اور باضابطہ معاہدوں کی تکمیل ضروری ہوگی۔ اب تک کسی سرمایہ کار کی جانب سے حتمی اور پابند ایکویٹی سرمایہ کاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔

گیس ٹرمینل اور پائپ لائن کے مجوزہ ٹیرف

منصوبے کے کاروباری ماڈل کے تحت ایل این جی ٹرمینل، اسٹوریج اور گیس کی ترسیل کے لیے مختلف ٹیرف مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

دستاویزات کے مطابق ٹرمینل اور اسٹوریج کی مجوزہ فیس 4.93 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (MMBtu) رکھی گئی ہے، جبکہ گیس پائپ لائن کے ذریعے ترسیل کا ابتدائی ٹیرف 1.91 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگا۔

پہلے 10 سال کے بعد ان ٹیرف میں کمی کی تجویز ہے، جس کے تحت ٹرمینل اور اسٹوریج کا ٹیرف 2.20 ڈالر جبکہ پائپ لائن کی ترسیل کا ٹیرف 0.92 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رہ جائے گا۔

ان نرخوں کی حتمی منظوری اور اطلاق متعلقہ ریگولیٹری اور تجارتی معاہدوں سے مشروط ہوگا۔

سابقہ روسی گیس پائپ لائن منصوبے سے مماثلت

پاکستان اس سے قبل روس کے تعاون سے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی کام کرنے کی کوشش کر چکا ہے، تاہم مجوزہ امریکی منصوبے کا تجارتی ڈھانچہ مختلف ہے۔

اس سے پہلے لکی گروپ اور قطر انرجی پر مشتمل انرجی گیس (Energas) کنسورشیم بھی اسی نوعیت کے منصوبے میں پیش پیش تھا، لیکن اس نے پاکستان کی توانائی پالیسی اور ضروریات میں بنیادی تبدیلیوں اور طویل عرصے سے حل طلب پالیسی و مالیاتی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے منصوبے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

سرمایہ کاری کے ساتھ پالیسی اور مالیاتی خطرات بھی اہم

4.4 ارب ڈالر کا مجوزہ منصوبہ پاکستان کے توانائی انفراسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کئی اہم عوامل سے مشروط ہوگی۔

ان میں اوگرا سے لائسنس اور ٹیرف کی منظوری، حتمی سرمایہ کاری معاہدے، تعمیراتی لاگت، ایل این جی کی مسلسل فراہمی، مقامی گیس کی طلب اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی اہم ہوگا کہ جب ملکی گیس کی طلب کم ہو یا عالمی منڈی میں ایل این جی مہنگی ہو تو تجارتی بنیادوں پر چلنے والا منصوبہ اپنی صلاحیت کس حد تک استعمال کر سکے گا۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف ایل این جی ذخیرہ کرنے اور گیس کی ترسیل کا نیا نظام قائم کرنا نہیں بلکہ اسے ایسے مالیاتی اور تجارتی ڈھانچے کے تحت چلانا ہوگا جس سے قومی توانائی ضروریات پوری ہوں اور صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ بھی نہ پڑے۔

اگر منصوبے کو مطلوبہ منظوری، سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدے حاصل ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستان کو علاقائی ایل این جی اسٹوریج اور تجارت کے مرکز کے طور پر متعارف کرانے کی بنیاد بن سکتا ہے۔