سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ قرار دے کر دنیا بھر میں مقبول ہونے والی ہیٹڈ ٹوبیکو مصنوعات (Heated Tobacco Products) کے صحت پر منفی اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان مصنوعات کا صرف ایک مرتبہ استعمال بھی خون کی شریانوں کی کارکردگی متاثر کرنے، بلڈ پریشر بڑھانے اور خون کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔
یورپین جرنل آف پریوینٹو کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جرمنی کے محققین نے 30 ایسے افراد پر مطالعہ کیا جو سگریٹ نوشی کرتے تھے، تاہم مجموعی طور پر صحت مند تھے۔ تحقیق کے دوران شرکاء کو 8 سے 12 منٹ کے اندر ہیٹڈ ٹوبیکو کی دو اسٹکس استعمال کرائی گئیں اور اس کے بعد ان کے قلبی نظام پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج کے مطابق ہیٹڈ ٹوبیکو کے استعمال سے خون کی شریانوں کی کارکردگی میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سسٹولک بلڈ پریشر، یعنی بلڈ پریشر کا اوپری نمبر، تقریباً 3 پوائنٹس بڑھ گیا۔ اس کے علاوہ خون کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے آثار بھی سامنے آئے۔
ہیٹڈ ٹوبیکو ڈیوائسز عام سگریٹ کی طرح تمباکو کو جلاتی نہیں بلکہ اسے مخصوص درجہ حرارت پر گرم کرتی ہیں، جس سے نکوٹین پر مشتمل ایروسول پیدا ہوتا ہے جسے صارف سانس کے ذریعے جسم میں داخل کرتے ہیں۔ ان مصنوعات کی تشہیر عموماً روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ متبادل کے طور پر کی جاتی ہے۔
تاہم تحقیق کے سربراہ کے مطابق سامنے آنے والے نتائج ان دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہیں کہ ہیٹڈ ٹوبیکو مصنوعات قلبی نظام کے لیے روایتی سگریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم نقصان دہ ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات کو بھی روایتی سگریٹ کی طرح سخت ضابطہ جاتی نگرانی میں لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اشتہارات اور مختلف ذائقوں کی تشہیر پر پابندیاں نوجوانوں کو نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ ہیٹڈ ٹوبیکو کے طویل المدتی اثرات جاننے کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔ تاہم ابتدائی نتائج اس تصور کو کمزور کرتے ہیں کہ تمباکو کو جلانے کے بجائے گرم کرنے سے صحت کے خطرات ختم یا غیر اہم ہو جاتے ہیں۔