عام طور پر پراسیسڈ فوڈز کو صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان میں سے بیشتر میں چینی، نمک، غیر صحت بخش چکنائی، مصنوعی اجزا اور پریزرویٹوز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم غذائی ماہرین کے مطابق ہر پراسیسڈ غذا یکساں طور پر نقصان دہ نہیں ہوتی اور بعض ایسی غذائیں متوازن خوراک کا مفید حصہ بن سکتی ہیں۔

غذاؤں کو محفوظ رکھنے، ان کی تیاری آسان بنانے یا غذائی افادیت برقرار رکھنے کے لیے مختلف طریقوں سے پراسیس کیا جاتا ہے۔ اسی لیے صرف پیکنگ یا پراسیسنگ کی بنیاد پر کسی غذا کو غیر صحت بخش قرار دینا درست نہیں۔ اصل اہمیت اس کے اجزا، غذائی معیار اور استعمال کی مقدار کی ہے۔

1۔ خشک میوہ جات اور بیج

بادام، اخروٹ، پستہ، مونگ پھلی، کدو کے بیج اور سورج مکھی کے بیج غذائیت سے بھرپور غذاؤں میں شامل ہیں۔

ان میں پروٹین، فائبر اور ضروری فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جو جسمانی صحت کے لیے اہم ہیں۔ یہ دل کی صحت اور مجموعی غذائی ضروریات پوری کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تاہم بہتر ہے کہ بغیر نمک، اضافی چینی اور مصنوعی ذائقوں والے خشک میوہ جات اور بیج استعمال کیے جائیں۔

2۔ نٹ بٹرز

مونگ پھلی، بادام اور دیگر خشک میوہ جات سے تیار کردہ بٹرز بھی صحت مند خوراک کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ایسے نٹ بٹرز کا انتخاب بہتر ہے جن میں صرف خشک میوہ جات شامل ہوں اور اضافی چینی، غیر ضروری تیل یا ہائی فرکٹوز کارن سیرپ موجود نہ ہو۔

ان میں پروٹین، غیر سیر شدہ چکنائیاں اور دیگر غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، تاہم زیادہ مقدار میں استعمال سے کیلوریز کی مقدار بھی بڑھ سکتی ہے۔

3۔ ڈیری دودھ

عام ڈیری دودھ کو محفوظ بنانے کے لیے عموماً پاسچرائز کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے اسے مخصوص درجہ حرارت پر گرم کرکے نقصان دہ جراثیم کی تعداد کم کی جاتی ہے۔

اس عمل کے باوجود دودھ کیلشیم اور پروٹین کا اہم ذریعہ رہتا ہے۔ اس میں وٹامن بی 12، فاسفورس اور دیگر ضروری غذائی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں۔

لہٰذا پاسچرائزڈ دودھ کو پراسیسڈ ہونے کی وجہ سے غیر صحت بخش قرار دینا درست نہیں۔

4۔ نباتاتی دودھ

سویا، بادام، جئی، چاول اور دیگر نباتاتی ذرائع سے تیار کردہ دودھ بھی ڈیری دودھ کا متبادل بن سکتا ہے۔

تاہم ان مصنوعات کی غذائی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں۔ بعض میں کیلشیم، وٹامن ڈی اور وٹامن بی 12 شامل کیے جاتے ہیں، جبکہ کچھ میں اضافی چینی بھی موجود ہوتی ہے۔

صارفین کو چاہیے کہ خریداری سے پہلے پیکٹ پر درج غذائی معلومات کا جائزہ لیں اور بغیر اضافی چینی والے متبادل کو ترجیح دیں۔ خصوصاً سویا ملک میں پروٹین کی مقدار دیگر کئی نباتاتی اقسام سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

5۔ دہی

دہی ایک ایسی پراسیسڈ غذا ہے جسے دودھ میں مفید بیکٹیریا شامل کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو فرمنٹیشن کہا جاتا ہے، جس کے دوران دودھ میں موجود لیکٹوز کا کچھ حصہ لیکٹک ایسڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

دہی میں کیلشیم، فاسفورس اور وٹامن بی گروپ کے اجزا پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ زندہ بیکٹیریل کلچرز نظامِ ہاضمہ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔

سادہ اور بغیر اضافی چینی والا دہی روزمرہ خوراک میں شامل کرنے کا ایک اچھا انتخاب ہے۔

6۔ پیک شدہ سلاد اور سبزیاں

بازار میں دستیاب پیک شدہ سلاد اور کٹی ہوئی سبزیاں بھی پراسیسڈ فوڈز میں شمار ہوتی ہیں، کیونکہ انہیں دھونے، کاٹنے اور پیک کرنے کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔

ان کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں استعمال کرنے کے لیے زیادہ تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ مصروف افراد کے لیے سبزیوں کے استعمال کو آسان بناتی ہیں اور ان میں وٹامنز، معدنیات اور فائبر موجود رہتے ہیں۔

تاہم خریداری کے وقت پیکنگ کی حالت، تاریخِ استعمال اور محفوظ رکھنے کی ہدایات ضرور دیکھنی چاہئیں۔

7۔ منجمد پھل اور سبزیاں

فروزن پھل اور سبزیاں غذائیت کے اعتبار سے تازہ پیداوار سے لازماً کم تر نہیں ہوتیں۔

انہیں عموماً پکنے کے مناسب مرحلے پر منجمد کیا جاتا ہے، جس سے ان کے بہت سے غذائی اجزا محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں طویل فاصلے سے منتقل ہونے والی تازہ سبزیوں اور پھلوں کے مقابلے میں ان کی غذائی افادیت بہتر بھی ہو سکتی ہے۔

منجمد سبزیاں اور پھل ان افراد کے لیے بھی مفید انتخاب ہیں جو ہر وقت تازہ پیداوار حاصل نہیں کر سکتے۔

پراسیسڈ فوڈز خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟

غذائی ماہرین کے مطابق پراسیسڈ فوڈز کے انتخاب میں چند بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے:

  • اضافی چینی اور نمک کی مقدار کم رکھنے والی مصنوعات منتخب کریں۔

  • غیر ضروری مصنوعی اجزا اور پریزرویٹوز سے حتی الامکان گریز کریں۔

  • غذائی لیبل پر کیلوریز، پروٹین، فائبر اور چکنائی کی مقدار دیکھیں۔

  • خشک میوہ جات، بیج اور نٹ بٹرز مناسب مقدار میں استعمال کریں۔

  • تازہ، منجمد اور کم سے کم پراسیسڈ غذاؤں کو متوازن خوراک کا حصہ بنائیں۔

اصل بات یہ ہے کہ ہر پراسیسڈ غذا نقصان دہ نہیں ہوتی۔ غذا کے انتخاب میں اس کی تیاری کا طریقہ، اجزا، غذائی افادیت اور استعمال کی مقدار زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔