پاکستان میں صحافت کا شعبہ شدید معاشی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ کئی صحافیوں کی تنخواہیں برسوں سے نہیں بڑھیں، بعض کو مہینوں تنخواہ نہیں ملتی، جبکہ میڈیا اداروں میں برطرفیوں اور نیوز رومز کی بندش نے ملازمتوں کا تحفظ مزید کمزور کر دیا ہے۔ صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ متعدد تجربہ کار رپورٹرز کو اپنے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے صحافت کے ساتھ کاروبار یا اضافی کام بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بحران محض صحافیوں کی ذاتی مالی مشکلات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات خبر رسانی، تحقیقاتی صحافت اور چھوٹے شہروں میں میڈیا کی موجودگی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ مالی عدم تحفظ کے باعث صحافیوں کے لیے ادارتی دباؤ سے آزاد رہ کر کام کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
صحافیوں کو اضافی کاروبار کا سہارا
دی فرائیڈے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فیصل آباد میں جیو نیوز سے وابستہ حامد شفاعت، جو 15 برس سے زائد عرصے سے الیکٹرانک میڈیا میں کام کر رہے ہیں، کی تنخواہ میں طویل عرصے سے اضافہ نہیں ہوا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث انہیں گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آن لائن کپڑوں کا کاروبار شروع کرنا پڑا۔
اسی طرح دنیا نیوز کے رپورٹر ذوالقرنین طاہر نے آمدن میں اضافے کے لیے پیزا شاپ کھول لی ہے۔ ان کے مطابق کم تنخواہ اور کئی کئی ماہ کی تاخیر سے ادائیگی نے صحافت کو مستقل روزگار کے بجائے غیر یقینی ذریعہ آمدن بنا دیا ہے۔
روزنامہ جنگ سے وابستہ کرائم رپورٹر اشفاق ہاشمی کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں سے زیادہ تجربے کے باوجود انہیں ملنے والی تنخواہ پنجاب کی مقررہ کم از کم اجرت کے نصف سے بھی کم ہے، جبکہ ادائیگی بھی اکثر تاخیر سے ہوتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں یکم جولائی 2025 سے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے مقرر تھی، جبکہ وفاقی سطح پر یکم جولائی 2026 سے اسے بڑھا کر 40 ہزار 700 روپے کیا گیا۔ تاہم میڈیا کے بعض کارکنوں کی آمدن اس قانونی حد سے بھی کم ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
خواتین صحافیوں کو دوہری مشکلات
خواتین صحافیوں کو کم تنخواہوں، غیر مستقل ملازمتوں اور ترقی کے محدود مواقع جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ سابقہ ہم نیوز سے وابستہ رانا حنا جمیل کے مطابق خواتین صحافیوں کو اکثر مرد ساتھیوں کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا جاتا ہے اور ان کے پیشے کو باقاعدہ ملازمت کے بجائے ذاتی دلچسپی سمجھنے کا رویہ بھی موجود ہے۔
چھوٹے شہروں میں کم تنخواہیں اور محدود ملازمتیں خواتین کے لیے اس شعبے میں داخل ہونے اور طویل عرصے تک کام جاری رکھنے میں مزید رکاوٹ بنتی ہیں۔ ملک میں صنفی بنیاد پر تنخواہوں کے فرق سے متعلق جامع اور عوامی سطح پر دستیاب اعدادوشمار نہ ہونے کے باعث اس مسئلے کی مکمل شدت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
ویج بورڈ کا نظام بھی غیر مؤثر
پاکستان میں اخباری کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے 1973 کا اخبارات کے ملازمین کی شرائطِ ملازمت سے متعلق قانون موجود ہے، جس کے تحت ویج بورڈ تنخواہوں اور مراعات کے پیمانے مقرر کرنے کا مجاز ہے۔ اس قانون کے دائرے میں رپورٹرز، سب ایڈیٹرز اور فوٹوگرافرز سمیت اخبارات کے اہل ملازمین آتے ہیں۔
تاہم اس نظام پر عمل درآمد طویل عرصے سے سوالات کی زد میں ہے۔ فریڈم نیٹ ورک پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کے مطابق آٹھویں ویج ایوارڈ کا اعلان 16 سال کی تاخیر سے کیا گیا، جس کے باعث صحافیوں کی آمدن مہنگائی کے ساتھ مطابقت پیدا نہیں کر سکی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نویں ویج بورڈ کی تشکیل فوری عمل میں لائی جائے۔
اس قانون کا ایک بڑا خلا یہ بھی ہے کہ ٹی وی، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا کے کارکن اس کے تحفظ سے باہر ہیں، حالانکہ میڈیا کی افرادی قوت کا بڑا حصہ اب انہی شعبوں میں کام کرتا ہے۔
پنجاب میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سنگین مسئلہ
فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر حمید یاسین کا اندازہ ہے کہ پنجاب کے 5 ہزار سے زائد رجسٹرڈ اخبارات میں سے تقریباً 90 فیصد اپنے صحافیوں کو ماہانہ تنخواہیں ادا نہیں کرتے۔ یہ تخمینہ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں، تاہم اس سے میڈیا اداروں میں ملازمتوں اور ادائیگیوں کے نظام میں شفافیت کی کمی کا اندازہ ہوتا ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ اخبارات کی سرکولیشن کی تصدیق کرنے والے آڈٹ بیورو آف سرکولیشنز کو فراہم کردہ عملے اور تنخواہوں کی تفصیلات عام کی جائیں۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے مختلف میڈیا اداروں کو دیے جانے والے اشتہارات کی ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی سامنے آنا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ سرکاری اشتہارات سے فائدہ اٹھانے والے ادارے اپنے کارکنوں کو بروقت تنخواہیں دے رہے ہیں یا نہیں۔
میڈیا اداروں میں برطرفیاں اور بندشیں
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کی پاکستان پریس فریڈم رپورٹ 2025-26 کے مطابق میڈیا انڈسٹری میں تنخواہوں کے بقایاجات، غیر محفوظ ملازمتوں اور ملازمین کے حقوق کے کمزور تحفظ کے ساتھ بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔
رپورٹ میں نیوز ون ٹی وی، ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی اور سما ٹی وی سمیت مختلف اداروں میں ملازمتوں کے خاتمے کا ذکر کیا گیا ہے۔ جون 2026 میں ایک نیوز کے کم از کم 20 ملازمین کو فارغ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ متاثرہ کارکنوں اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مطابق بعض ملازمین کو دو ماہ کی تنخواہیں نہیں ملی تھیں اور برطرفی کے وقت تحریری نوٹس یا واجبات کی دستاویزات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
آئی ایف جے کے مطابق میٹرو ون نیوز اور اے ٹی وی کی بندش سے تقریباً 270 ملازمین متاثر ہوئے۔ ان واقعات نے واضح کیا ہے کہ میڈیا انڈسٹری میں روزگار کا تحفظ مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔
میڈیا انڈسٹری کے مالی مسائل کی وجوہات
اخبارات کی کم ہوتی سرکولیشن، کاغذ اور طباعت کے بڑھتے اخراجات، نجی اشتہارات کا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹی وی کی جانب منتقل ہونا میڈیا اداروں کے لیے آمدن کے بڑے مسائل بن چکے ہیں۔
کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل تنویر شوکت کے مطابق بیشتر اخبارات سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ سرکاری اشتہارات کے نرخ کئی برس سے نہیں بڑھے۔ اس صورت حال میں اداروں کی آمدن متاثر ہونے کا بوجھ اکثر ملازمین کی تنخواہوں اور ملازمتوں پر منتقل ہو جاتا ہے۔
پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن سے بھی الیکٹرانک میڈیا میں تنخواہوں کی تاخیر اور مالی مشکلات پر مؤقف طلب کیا گیا، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا نوٹس
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے 3 ستمبر 2026 کے اجلاس میں میڈیا کارکنوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
کمیٹی نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اداروں کو کی جانے والی ادائیگیوں، زیر التوا واجبات اور بقایا دعوؤں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ پیمرا سے بھی ٹی وی چینلز کی مالی ذمہ داریوں، واجب الادا رقوم اور ان کی وصولی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی رپورٹ طلب کی گئی۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر کا نقصان میڈیا کارکنوں کو نہیں اٹھانا چاہیے اور ملازمین کو بروقت تنخواہیں دینا میڈیا مالکان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم اصل امتحان ان ہدایات پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی جواب دہی کا ہے۔
شفافیت کے بغیر اصلاحات مشکل
رپورٹ کے مطابق پنجاب کے محکمہ اطلاعات و ثقافت، محکمہ محنت اور پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن سے معلومات کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ اسی طرح ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن سے بھی ریکارڈ طلب کیا گیا، تاہم مقررہ وقت تک جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ اس معاملے پر متعلقہ اطلاعاتی کمیشنز میں اپیلیں بھی دائر کی گئیں۔
یونیسکو اور فری پریس اَن لمیٹڈ نے سرکاری اشتہارات کی تقسیم کے لیے شفاف اور سیاسی اثرورسوخ سے آزاد نظام قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ ان تجاویز میں سرکاری اشتہارات کو باقاعدہ ملازمتوں کے معاہدوں اور بروقت تنخواہوں کی ادائیگی سے مشروط کرنا بھی شامل ہے۔
دیگر تجاویز میں مقامی خبر رساں اداروں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر استعمال ہونے والے مواد کا مناسب معاوضہ، عوامی مفاد کی صحافت کے لیے ٹیکس میں رعایت، اشاعتی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے معاونت اور آزاد میڈیا کے لیے گرانٹس شامل ہیں۔
صحافیوں کی معاشی بدحالی عوام کے حقِ معلومات کا مسئلہ
صحافیوں کی تنخواہوں اور ملازمتوں کا بحران صرف میڈیا مالکان اور کارکنوں کے درمیان تنازع نہیں۔ اس کے اثرات براہ راست عوام تک پہنچتے ہیں۔ جب رپورٹر کو گھر چلانے کے لیے دوسرا کاروبار کرنا پڑے، تجربہ کار صحافی ملازمت کھونے کے بعد پیشہ چھوڑ دے اور چھوٹے شہروں کے نیوز رومز سکڑ جائیں تو عوام کو مقامی مسائل، سرکاری کارکردگی اور اہم معاشی و سماجی معاملات پر معلومات بھی کم ملتی ہیں۔
مالی مشکلات صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت یا دیانت داری کا پیمانہ نہیں، لیکن مسلسل معاشی دباؤ انہیں بااثر حلقوں اور تجارتی مفادات کے سامنے زیادہ کمزور کر سکتا ہے۔
آزاد صحافت کے لیے صرف سنسرشپ اور جسمانی خطرات سے تحفظ کافی نہیں۔ صحافیوں کو بروقت تنخواہ، محفوظ ملازمت، قانونی حقوق اور باوقار زندگی کے مواقع بھی درکار ہیں۔ اگر میڈیا ادارے اپنے کارکنوں کو بنیادی معاشی تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو آزاد اور تحقیقاتی صحافت کا مستقبل بھی خطرے میں رہے گا۔