فوجی فاؤنڈیشن نے پاکستان کی معروف ہوٹل چین پرل کانٹی نینٹل (PC) کی مالک کمپنی پاکستان سروسز لمیٹڈ (PSL) میں 19.70 فیصد حصص حاصل کر لیے ہیں۔ اس بڑی سرمایہ کاری کی مالیت تقریباً 6 ارب 55 کروڑ روپے (2 کروڑ 37 لاکھ ڈالر) بتائی گئی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو منگل کے روز جمع کرائے گئے نوٹس کے مطابق فوجی فاؤنڈیشن نے 2 نومبر 2026 کو پاکستان سروسز لمیٹڈ کے 64 لاکھ 6 ہزار 797 ووٹنگ شیئرز خریدے۔ یہ حصص 1,022 روپے 42 پیسے فی شیئر کے حساب سے حاصل کیے گئے، جس کے بعد کمپنی میں فوجی فاؤنڈیشن کی مجموعی حصص داری 19.70 فیصد ہوگئی ہے۔

پاکستان سروسز لمیٹڈ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بتایا کہ اسے 2 نومبر کو فوجی فاؤنڈیشن کی جانب سے باضابطہ خط موصول ہوا، جس میں حصص کی خریداری سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئیں۔

یہ انکشاف سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کی دفعہ 110 اور لسٹڈ کمپنیز (سبسٹینشل ایکوزیشن آف ووٹنگ شیئرز اینڈ ٹیک اوورز) ریگولیشنز 2017 کے تحت کیا گیا ہے۔

پاکستان سروسز لمیٹڈ 1958 میں قائم ہونے والی ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے، جو ملک بھر میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹلز کی ملکیت اور انتظامی امور سنبھالتی ہے۔ کمپنی اپنے برانڈ اور ٹریڈ مارک کے استعمال کے لیے فرنچائز بھی فراہم کرتی ہے، جبکہ لاہور میں بجٹ ہوٹل کی سہولت بھی چلا رہی ہے۔

پاکستان سروسز لمیٹڈ میں حالیہ برسوں کے دوران بڑے پیمانے پر حصص کی خرید و فروخت اور ملکیتی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

گزشتہ سال جولائی میں اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے پاکستان سروسز لمیٹڈ کے 27.95 فیصد حصص 6 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد میں خریدے تھے۔ اسی روز داؤد جان محمد نے بھی کمپنی کے 28 فیصد ووٹنگ شیئرز 700 روپے فی شیئر کے حساب سے حاصل کیے تھے۔

بعد ازاں ٹھٹھہ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے بھی پاکستان سروسز لمیٹڈ میں 28 فیصد حصص حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سودے کی مالیت تقریباً 6 ارب 45 کروڑ روپے، جبکہ فی شیئر قیمت 710 روپے بتائی گئی تھی۔

ستمبر 2026 میں ٹھٹھہ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان سروسز لمیٹڈ کی مجوزہ تنظیم نو کے حوالے سے اصولی مفاہمت طے پانے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیش رفت کا مقصد اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا معاملے کو باہمی رضامندی سے حل کرنا تھا۔

فوجی فاؤنڈیشن کی حالیہ سرمایہ کاری پاکستان سروسز لمیٹڈ کے حصص کی ملکیت میں ایک اور اہم پیش رفت ہے، تاہم اس حوالے سے کمپنی کے انتظامی ڈھانچے یا مستقبل کی حکمت عملی میں کسی تبدیلی کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔