امریکا میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کا آغاز چند گھنٹوں میں ہونے جا رہا ہے، جہاں لاکھوں امریکی ووٹرز کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ سمیت اہم ریاستی عہدوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔
یہ انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان تصور کیے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کے نتائج سے نہ صرف کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی گرفت کا فیصلہ ہوگا بلکہ آئندہ دو برسوں کے دوران وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخابات شامل ہیں۔ تقریباً 25 کروڑ اہل امریکی شہری ووٹ ڈالنے کے حق دار ہیں۔
ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں برتری کی امید
انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کو ایوانِ نمائندگان میں کامیابی اور ریپبلکن اکثریت ختم کرنے کا بہتر موقع حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کو ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے تین نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔
دوسری جانب سینیٹ کا مقابلہ زیادہ سخت دکھائی دے رہا ہے، جہاں متعدد ریاستوں میں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو اپنی موجودہ اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت انتخابی چیلنج کا سامنا ہے۔
سیاسی مبصرین کی توجہ بالخصوص ٹیکساس، اوہائیو، مشی گن، آئیووا، کینساس، الاسکا اور مین کی اہم نشستوں پر مرکوز ہے، جہاں نتائج سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی طاقت کا تعین کر سکتے ہیں۔
مہنگائی، ایران جنگ اور امیگریشن اہم انتخابی موضوعات
انتخابی مہم میں امریکی معیشت، بڑھتی ہوئی مہنگائی، توانائی اور صحت کی سہولیات کے اخراجات، ایران کے ساتھ جنگ اور امیگریشن پالیسی نمایاں موضوعات رہے ہیں۔
ڈیموکریٹس نے مہنگائی اور زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت کو بنیاد بناتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اس کے برعکس ریپبلکن امیدواروں نے ٹیکسوں میں کمی، امیگریشن پر سخت اقدامات، ملکی صنعت کے فروغ اور معاشی خودمختاری کو اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنایا ہے۔
ٹرمپ کی سیاسی طاقت کا بھی امتحان
وسط مدتی انتخابات امریکی صدارتی مدت کے دو سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور انہیں عام طور پر برسراقتدار صدر کی کارکردگی پر عوامی رائے کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی نگرانی، تحقیقات اور قانون سازی کے معاملات میں ان کا کردار بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس ریپبلکن پارٹی کی کامیابی صدر ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے مزید سیاسی گنجائش فراہم کرے گی۔
انتخابی نتائج کب سامنے آئیں گے؟
امریکا میں مختلف ریاستوں کے انتخابی اوقات مختلف ہیں، اس لیے ووٹنگ کے اختتام اور ابتدائی نتائج کے اعلانات بھی مختلف اوقات میں ہوں گے۔ بعض ریاستوں میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے بند ہونا شروع ہوگی، جبکہ مغربی ریاستوں میں یہ عمل رات گئے تک جاری رہے گا۔
ابتدائی نتائج سے ایوانِ نمائندگان کی ممکنہ صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تاہم سینیٹ کی بعض سخت مقابلے والی نشستوں کے حتمی نتائج کے لیے مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔
انتخابی حکام نے ووٹوں کی گنتی، اہلیت، نتائج کی تصدیق اور ممکنہ قانونی چیلنجز کے باعث تاخیر کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔
یہ انتخابات 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل امریکی سیاست کا ایک اہم مرحلہ ہوں گے اور ان کے نتائج سے ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی اور دونوں بڑی جماعتوں کے مستقبل کے انتخابی امکانات کی سمت بھی متعین ہو سکتی ہے۔