قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پختون اسٹوڈنٹس کونسل (PSC) کی جانب سے منعقدہ ویلکم پارٹی اور میوزیکل نائٹ کے دوران پنجاب اور لاہور کے خلاف مبینہ توہین آمیز شاعری کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے کو نسلی تعصب اور صوبائی منافرت سے جوڑتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، تقریب میں لکی مروت سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ پشتون شاعر نے اپنی شاعری میں پنجاب کے وسائل، لاہور اور پنجابی برادری کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے جنہیں ناقدین نے توہین آمیز اور نسلی بنیادوں پر امتیازی قرار دیا۔ شاعری کے دوران موجود طلبہ کی جانب سے تالیاں بجانے پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے حوالے سے صارفین کا کہنا ہے کہ ثقافتی تقریبات میں اپنی زبان، ادب اور روایات کا اظہار ہر گروہ کا حق ہے، تاہم کسی دوسری قومیت یا صوبے کی تضحیک کو ثقافتی آزادی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

تاحال یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس مخصوص تقریب، شاعر کے بیان یا کونسل کے خلاف کسی باضابطہ انکوائری اور کارروائی کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے پختون اسٹوڈنٹس کونسل اور تقریب کے منتظمین سے وضاحت طلب کی ہے۔ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ قائداعظم یونیورسٹی جیسے قومی تعلیمی ادارے میں نسلی بنیادوں پر کسی صوبے یا اس کے شہریوں کی تضحیک کیسے قابل قبول ہو سکتی ہے۔

ناقدین کے مطابق، تعلیمی اداروں میں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے طلبہ کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی ضرورت ہے، لیکن اگر طلبہ تنظیمیں قومیتی شناخت کو دوسرے گروہوں کے خلاف استعمال کریں تو اس سے تعلیمی ماحول اور قومی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔

کونسلوں کا ’یرغمال‘ کیمپس

قائداعظم یونیورسٹی میں نسلی کونسلوں کے کردار پر بحث نئی نہیں۔ ماضی میں بھی طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم، تشدد اور انتظامی کنٹرول کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔

قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے مئی 2026 میں اپنے تحریری مؤقف میں کہا تھا کہ لسانی کونسلوں کا ابھرنا بذات خود پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پنجابی، پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی گروہوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کونسلوں کی رجسٹریشن نافذ کرنے اور ہاسٹلز کا انتظامی کنٹرول واپس لینے کی کوشش میں پہلے ہی تاخیر ہو چکی ہے۔

جھڑپیں، ڈنڈے اور ہاسٹل کے کمروں کو آگ

یونیورسٹی میں نسلی کونسلوں کے درمیان کشیدگی کے سنگین نتائج بھی سامنے آ چکے ہیں۔

30 ستمبر 2024 کو قائداعظم یونیورسٹی میں پنجابی اور پشتون طلبہ کے دو گروپوں کے درمیان تصادم میں کم از کم 25 طلبہ زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک منتقل کیا گیا تھا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کی تھیں۔

یوں یونیورسٹی میں ایک طرف نسلی کونسلوں کے تشدد اور مبینہ تعصب کا مسئلہ موجود ہے تو دوسری طرف انتظامیہ کی جانب سے نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار پر بھی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔

اصل مسئلہ: طلبہ کی شناخت یا تعلیمی اداروں کا نظم و نسق؟

قائداعظم یونیورسٹی کا بنیادی مقصد مختلف علاقوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی قومیت کے خلاف تضحیک آمیز گفتگو، تشدد یا امتیازی رویہ تعلیمی ماحول کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

تاہم مسئلے کا حل کسی ایک قومیت یا طلبہ گروپ کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے انفرادی ذمہ داری، شفاف انکوائری اور یکساں قواعد کے نفاذ میں ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ مبینہ توہین آمیز شاعری کے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے، متعلقہ ویڈیوز اور شواہد کا جائزہ لے اور اگر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرے۔

اسی طرح تمام نسلی کونسلوں کی سرگرمیوں، رجسٹریشن، مالی معاملات اور نظم و ضبط کے لیے واضح قواعد نافذ کیے جائیں تاکہ ثقافتی شناخت کے نام پر تعلیمی اداروں میں نفرت اور تشدد کو جگہ نہ ملے۔

قائداعظم یونیورسٹی کا کیمپس کسی ایک قومیت یا گروہ کی جاگیر نہیں بلکہ پورے پاکستان کے طلبہ کا مشترکہ تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کی ساکھ اور تعلیمی ماحول کا تحفظ انتظامیہ، طلبہ تنظیموں اور تمام طلبہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔