پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں میں بڑھتے ہوئے رومانوی اور قریبی مناظر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ اے پلس (A Plus) کے ایک ڈرامے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ناظرین نے نہ صرف ڈرامہ سازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی نگرانی اور ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صارف @gigi0o0o کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کے ساتھ تبصرہ کیا گیا کہ پاکستانی ڈرامے اب بے باک مناظر کے معاملے میں بھارتی ٹیلی ویژن سے بھی آگے نکل رہے ہیں۔ صارف نے پیمرا کی خاموشی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے متعلقہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

اے پلس کے ڈرامے کی ویڈیو پر ناظرین کا ردعمل

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تین منٹ سے زائد دورانیے کی ویڈیو میں ایک جوڑے کے درمیان بیڈ روم کے مناظر، صوفے پر جذباتی گفتگو اور مختلف کرداروں کے درمیان کشیدہ مکالمے دکھائے گئے ہیں۔

ویڈیو میں ایک مرد کردار کو گاڑی میں فون پر بات کرتے ہوئے جبکہ خاتون کردار کو بستر پر بیٹھے پریشان حالت میں گفتگو کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد متعدد صارفین نے پاکستانی ڈراموں میں رومانوی مناظر کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اعتراض کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت کی بڑی وجہ مضبوط کہانی، حقیقت سے قریب کردار، خاندانی رشتوں کی عکاسی اور سماجی مسائل پر بامقصد مکالمہ تھا۔

ان کے مطابق اب بعض ڈراموں میں کہانی اور کرداروں کی تعمیر کے بجائے جذباتی اور رومانوی مناظر کو زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے۔

کیا ریٹنگز کی دوڑ میں کہانی پیچھے رہ گئی؟

ناظرین کے ایک حلقے کا خیال ہے کہ ٹی وی چینلز اور پروڈکشن ہاؤسز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زیادہ ویوز اور ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے مناظر کو اہمیت دے رہے ہیں۔

یوٹیوب اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز نے پاکستانی ڈراموں کی رسائی کو بین الاقوامی سطح پر وسعت دی ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق زیادہ ویوز اور مقبولیت کی کوشش میں ڈراموں کے اصل معیار، مکالموں اور کہانی پر توجہ کم نہیں ہونی چاہیے۔

دوسری جانب بعض صارفین نے اس تنقید کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈرامے افسانوی کہانیاں ہوتی ہیں اور ان میں محبت، رومانس اور جذباتی تعلقات کی عکاسی کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے نزدیک ہر رومانوی منظر کو معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دینا مناسب نہیں۔

پیمرا کی نگرانی اور ضابطہ اخلاق پر سوالات

اس تنازع نے پیمرا کے کردار کو بھی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ماضی میں مختلف ٹی وی پروگراموں اور ڈراموں کے مواد پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد پیمرا کی جانب سے ہدایات اور نوٹس جاری کیے جاتے رہے ہیں، لیکن ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے مواد کی مسلسل نگرانی اور ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کے حوالے سے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

پیمرا کے ضابطہ اخلاق میں ٹیلی ویژن مواد کے لیے مختلف اخلاقی اور قانونی حدود مقرر ہیں۔ تاہم کسی مخصوص منظر کو ضابطے کی خلاف ورزی قرار دینے کے لیے اس کے مکمل سیاق و سباق اور متعلقہ قواعد کا جائزہ ضروری ہوتا ہے۔

چینل اور پیمرا کا مؤقف سامنے نہیں آیا

وائرل ویڈیو کے حوالے سے تاحال اے پلس چینل کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، جبکہ پیمرا نے بھی اس مخصوص ویڈیو پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

یہ بحث ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری جدید موضوعات اور تخلیقی آزادی کے ساتھ خاندانی ناظرین کی توقعات اور نشریاتی ضابطوں میں توازن کیسے برقرار رکھ سکتی ہے۔