قائداعظم یونیورسٹی (کیو اے یو) نے 29 اکتوبر 2026 کو منعقد ہونے والی ایک طلبہ تقریب کے حوالے سے مبینہ نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر ایک طالب علم کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ تقریب کی اجازت متعلقہ حکام سے حاصل نہیں کی گئی تھی جبکہ مدعو کیے گئے ایک مقرر نے مختلف برادریوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایسی تقاریر کیں جن سے طلبہ میں اشتعال، بے چینی اور باہمی تصادم پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔

یہ پیش رفت یونیورسٹی میں طلبہ کونسل کی ایک تقریب کے دوران پنجابیوں کے خلاف مبینہ توہین آمیز اور نفرت انگیز ریمارکس سامنے آنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز کی جانب سے 2 نومبر 2026 کو جاری کیے گئے نوٹس میں طالب علم پر یونیورسٹی کے ضابطہ اخلاق اور نظم و ضبط کے قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق یہ قواعد 1997 میں منظور کیے گئے تھے جبکہ 2012 میں ان پر نظرثانی کی گئی تھی۔

شوکاز نوٹس میں غیر شائستہ اور نازیبا زبان کے استعمال، توہین آمیز جملوں اور اشاروں، بدتمیزی، جھگڑے، یونیورسٹی حکام کے احکامات کی خلاف ورزی اور تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق 29 اکتوبر کو شام تقریباً 7 بجے ہونے والی تقریب کے انعقاد کے لیے مجاز اتھارٹی سے پیشگی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ مزید برآں، نوٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ مدعو کیے گئے مقرر نے مختلف برادریوں کو ہدف بناتے ہوئے نفرت انگیز تقاریر کیں، جس سے یونیورسٹی میں مختلف کمیونٹیز کے درمیان کشیدگی اور تنازعات پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔

یونیورسٹی سے اخراج سمیت ممکنہ سزائیں

یونیورسٹی انتظامیہ نے مبینہ خلاف ورزیوں کی نوعیت اور شدت کے مطابق مختلف تادیبی سزاؤں کی نشاندہی کی ہے۔

ان میں مالی جرمانہ، ہاسٹل کی رہائش منسوخ کرنا، مالی مراعات اور رعایتوں کا خاتمہ، داخلہ معطل کرنا، امتحانی نتائج منسوخ کرنا، مخصوص مدت کے لیے یونیورسٹی سے عارضی اخراج اور مستقل طور پر یونیورسٹی سے نکالنا شامل ہیں۔

نوٹس کے مطابق بعض صورتوں میں طالب علم کے یونیورسٹی کی حدود میں داخلے پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

طالب علم کو جمعرات 5 نومبر 2026 کو دوپہر ساڑھے 12 بجے اسکول آف اکنامکس کے میٹنگ روم میں یونیورسٹی ڈسپلن کمیٹی (UDC) کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسے الزامات کے جواب میں تحریری وضاحت جمع کرانے کا بھی کہا گیا ہے۔

نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ وقت پر پیش نہ ہونے کی صورت میں دستیاب ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ نوٹس ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز اور یونیورسٹی ڈسپلن کمیٹی کے سیکریٹری و رکن ڈاکٹر سمر اقبال بہار کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

جامعہ میں نسلی و لسانی ہم آہنگی کا سوال

قائداعظم یونیورسٹی میں پیش آنے والا یہ معاملہ تعلیمی اداروں میں مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے طلبہ کے درمیان احترام، برداشت اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔

جامعات میں اظہار رائے اور طلبہ کی سرگرمیاں تعلیمی ماحول کا اہم حصہ ہیں، تاہم کسی بھی لسانی یا نسلی برادری کو مبینہ طور پر تضحیک یا نفرت کا نشانہ بنانے سے طلبہ کے درمیان تقسیم اور کشیدگی پیدا ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

تاہم شوکاز نوٹس میں عائد الزامات تاحال ثابت نہیں ہوئے اور طالب علم کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی ڈسپلن کمیٹی کی کارروائی اور حتمی فیصلے کے بعد ہی معاملے کی مکمل صورتحال واضح ہو سکے گی۔