ایران کے خلاف جنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر مہنگی ثابت ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس کو ایک مشکل فیصلے کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ کو اب یہ طے کرنا ہے کہ آیا جنگ کے نقصانات محدود کرتے ہوئے ایران کے ساتھ معاہدے کی کوشش کی جائے یا فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرکے تہران پر دباؤ بڑھایا جائے۔

امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بھاری سیاسی نقصان پہنچایا۔ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور عوامی مخالفت نے امریکی حکومت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے بنیادی طور پر تین راستے زیر غور ہیں، تاہم ہر آپشن اپنے ساتھ سیاسی، فوجی اور معاشی مشکلات رکھتا ہے۔

پہلا آپشن: ایران پر دوبارہ فوجی حملے

ایک راستہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ہے۔ تاہم اس فیصلے کو امریکی عوام میں مقبولیت حاصل ہونے کا امکان کم ہے۔ جنگ دوبارہ شروع ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور امریکہ میں پٹرول و ڈیزل کے نرخوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ نئی بمباری سے امریکہ کو پہلے سے بہتر فوجی نتائج حاصل ہو سکیں گے یا نہیں۔

دوسرا آپشن: ایران کے ساتھ مذاکرات

دوسرا راستہ تہران کے ساتھ مذاکرات اور جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ تاہم اس حکمت عملی میں بھی مشکلات موجود ہیں۔

اگر ایرانی حکام امریکی شرائط تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں یا امریکی انتخابات کے نتائج کو واشنگٹن کی کمزوری سمجھتے ہوئے اپنے مطالبات مزید سخت کر دیتے ہیں تو ٹرمپ کے لیے معاہدہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

قطر اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے تاکہ دونوں ممالک مجوزہ معاہدے پر اتفاق کریں اور فوجی تصادم دوبارہ شروع ہونے سے روکا جا سکے۔

تیسرا آپشن: بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیاں

ٹرمپ کے مشیروں کے مطابق تیسرا راستہ موجودہ صورتحال برقرار رکھتے ہوئے ایران پر معاشی اور فوجی دباؤ جاری رکھنا ہے۔

اس حکمت عملی کے تحت ایران کی بحری ناکہ بندی اور سخت اقتصادی پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی تاکہ ایرانی حکومت کو معاشی مشکلات کے ذریعے مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔

تاہم اس پالیسی کے نتائج سامنے آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور فوری پیش رفت کی ضمانت نہیں ہے۔

وینس کا اعتراف: ریپبلکن پارٹی کی شکست کی وجہ ایران جنگ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کے روز ایک غیر معمولی بیان میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کا ذمہ دار ایران جنگ کو قرار دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وینس نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ جنگ تھی اور خود صدر ٹرمپ بھی اس حقیقت کا اعتراف کر چکے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران جنگ اس قدر اہم تھی کہ اس کی قیمت اگلے چھ برس کے لیے امریکی سینیٹ میں اکثریت کھونے کی صورت میں ادا کی جائے۔

وینس نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو بھی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک سیاسی مسئلہ قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وینس کے تجزیے کو بڑی حد تک درست قرار دیا اور کہا کہ جنگ کی وجہ سے پٹرول کی قیمتیں بڑھیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر دوبارہ ایسا کرنا پڑا تو وہ ایران کے خلاف کارروائی کریں گے کیونکہ ان کے بقول ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

جنگ ختم کرنے کے وقت سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جب چاہیں جنگ ختم کر سکتے ہیں، لیکن یہ کام درست طریقے سے ہونا چاہیے اور ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

وینس مذاکرات کے حامی، اسرائیل کے کردار پر بھی اختلاف

رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے نائب صدر جے ڈی وینس ٹرمپ کے قریبی حلقے میں اس گروپ کی قیادت کر رہے ہیں جو ایران کے ساتھ معاہدے اور جنگ کے خاتمے کا حامی ہے۔

ذرائع کے مطابق وینس نے نجی گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی ایران سے متعلق پالیسیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

وینس اور ٹرمپ انتظامیہ کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کا خیال تھا کہ جنگ امریکی عوام میں غیر مقبول ہے اور اس سے ریپبلکن پارٹی کو انتخابی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو ٹرمپ پر ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے، جبکہ صدر نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکی فوجی تیاریوں میں تیزی، قطر کی سفارتی کوششیں جاری

دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق امریکی فوج ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر رہی ہے اور خطے میں مزید فوجی وسائل بھیجنے کا عمل جاری ہے۔

اس کے برعکس قطر کے ثالث امریکہ اور ایران کو ایک مجوزہ معاہدے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے ذریعے دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خطرے کو ٹالا جا سکے اور آئندہ دنوں میں براہ راست مذاکرات کی بحالی ممکن ہو۔

رپورٹ کے مطابق قطری ثالثوں نے امریکی انتخابات سے قبل وائٹ ہاؤس حکام سے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ اگر ٹرمپ کی جماعت انتخابات میں شکست کھا گئی تو صدر ایران کے خلاف کیا حکمت عملی اختیار کریں گے۔ تاہم امریکی مشیر اس حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرا سکے۔

ایران نے ٹرمپ کی انتخابی شکست کو اپنی کامیابی قرار دے دیا

ایرانی حکام نے امریکی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کو ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی کی ناکامی قرار دیا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایکس پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایرانی قوم نے میدان جنگ، آبنائے ہرمز اور واشنگٹن کی سیاست میں ٹرمپ کو اسٹریٹجک شکست دی ہے۔

ان کے مطابق امریکی عوام کو اب جنگ کے معاشی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں اور ایران کے خلاف کارروائی کرنے والے ہر فریق کو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

تاہم مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین اور سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی انتخابی نتائج کو اپنی فتح قرار دینے سے ٹرمپ کے لیے سیاسی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور وہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی واعظ کے مطابق تہران کو امریکی صدر کی سیاسی کمزوری کو فوجی کمزوری سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے اور بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ واشنگٹن کی جانب سے معاہدے کی خواہش برقرار رہنے کے دوران سفارتی موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔

امریکی انتظامیہ میں ناکہ بندی جاری رکھنے کی تجویز

دریں اثنا امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور دیگر مشیر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کی پالیسی مزید عرصے تک جاری رکھنے کے حامی ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ معاشی دباؤ میں اضافے سے ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے، تاہم اس حکمت عملی کے نتائج فوری طور پر سامنے آنے کی توقع نہیں۔

مجموعی طور پر ٹرمپ کے لیے ایران جنگ کا خاتمہ آسان نہیں رہا۔ فوجی کارروائیوں کی بحالی، مذاکرات یا معاشی پابندیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے، تینوں راستوں میں سیاسی اور سفارتی خطرات موجود ہیں۔ ایسے میں وائٹ ہاؤس کا آئندہ فیصلہ نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ کے امن، عالمی تیل منڈی اور توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔