عالمی منڈی میں چار ہفتوں کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی دیکھی گئی ہے۔ امریکی وسط مدتی انتخابات سے توجہ ہٹنے کے بعد سرمایہ کاروں اور تیل کے تاجروں کی نظریں ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال اور امریکا ایران جنگ کے اگلے مرحلے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق منگل کو ایران کی جانب سے بعض ایسے معاملات پر بات چیت کے لیے آمادگی کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئی تھیں، جن پر تہران پہلے مذاکرات سے انکار کرتا رہا تھا۔ تاہم بعد ازاں قیمتوں میں بحالی دیکھی گئی۔

رپورٹ کی تیاری کے وقت برینٹ خام تیل 103.60 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 95.98 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا تھا۔

قیمتوں میں بحالی کے باوجود توانائی کے شعبے کی دو مشاورتی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ خلیجِ فارس سے تیل کی ترسیل جلد جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے کی توقع رکھنا قبل از وقت ہوگا۔

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول پر آنے میں تاخیر کا امکان

توانائی کی مشاورتی کمپنی رائسٹڈ انرجی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے یا جنگ کے خاتمے کے باوجود خلیجِ فارس سے خام تیل کی ترسیل فوری طور پر معمول پر آنے کا امکان نہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکا کے کئی اہم مطالبات اور تنازعات ایسے ہیں جنہیں مختصر مدت میں حل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ رائسٹڈ انرجی کے مطابق ان تمام معاملات پر آئندہ ایک سال کے اندر اتفاق رائے پیدا ہونے کا امکان کم ہے۔

اس تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی یا سفارتی پیش رفت کے باوجود عالمی توانائی منڈی کو تیل کی رسد بحال ہونے کے لیے طویل عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔

اکتوبر میں تیل کی برآمدات میں کمی

ایک اور توانائی ڈیٹا کمپنی وورٹیکسا کے اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر میں آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل ستمبر کے مقابلے میں کم رہی۔

کمپنی کے مطابق اکتوبر میں خام تیل، کنڈینسیٹ اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت مجموعی برآمدات اوسطاً 1 کروڑ 71 لاکھ بیرل یومیہ رہیں، جبکہ ستمبر میں یہ مقدار ایک کروڑ 89 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔

یہ اعدادوشمار ان حالیہ دعوؤں سے مختلف ہیں جن میں کہا جا رہا تھا کہ خلیج سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہیں یا اس سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔

وورٹیکسا کے اعدادوشمار کے مطابق ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر کے دوران روزانہ برآمدات میں تقریباً 18 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ٹرمپ کے بیانات سے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات اور خطے میں جاری فوجی کارروائیوں نے بھی تیل کی منڈی میں غیر یقینی کیفیت برقرار رکھی ہے۔

فلپ نووا کی تجزیہ کار پریانکا سچدیوا کے مطابق فوجی حملوں کا جاری رہنا اور دوسری جانب کشیدگی میں مزید اضافے کے امکانات کو کم ظاہر کرنے والے بیانات سرمایہ کاروں کے لیے واضح سمت اختیار کرنا مشکل بنا رہے ہیں۔

آئی این جی کے ماہرینِ اجناس نے بھی اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اندر اب بھی جغرافیائی سیاسی خطرات کا اضافی پریمیم شامل ہے، خصوصاً خلیجِ فارس سے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث۔

ان کے مطابق امریکا اور ایران کی جانب سے حالیہ مثبت اشاروں کے باوجود جنگ کے خاتمے کے بارے میں فوری طور پر پُرامید ہونا درست نہیں ہوگا۔

عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا خدشہ

عالمی تیل منڈی میں حالیہ اتار چڑھاؤ سے واضح ہوتا ہے کہ قیمتوں کا تعین صرف طلب اور رسد سے نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور عسکری صورت حال سے بھی متاثر ہو رہا ہے۔

اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت قیمتوں پر دباؤ کم کر سکتی ہے۔

تاہم توانائی کے ماہرین کے خدشات کے مطابق کسی ممکنہ معاہدے کے باوجود تیل کی ترسیل اور برآمدات کو مکمل طور پر بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی صورت حال برقرار رہنے کا امکان ہے۔