ملک میں بجلی کا شارٹ فال چار ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ذرائع کے مطابق متعدد پاور پلانٹس سسٹم سے نکل گئے ہیں جبکہ ہائیڈل پیداوار میں بھی کمی آئی ہے۔
لیسکو میں طلب اور رسد کا فرق
لیسکو ذرائع کے مطابق ادارے کے دائرہ کار میں بجلی کی طلب چار ہزار میگاواٹ جبکہ رسد تین ہزار میگاواٹ ہے، یعنی تقریباً ایک ہزار میگاواٹ کا فرق موجود ہے۔ اسی فرق کے باعث شہروں اور دیہات میں تین سے چار گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔
بجلی کا شارٹ فال: کون سے پلانٹس بند ہوئے؟
ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے پاور پلانٹس سسٹم سے نکلے، ان کی مجموعی پیداواری صلاحیت کتنی ہے اور انہیں کب تک بحال کیا جائے گا۔ اسی طرح ہائیڈل پیداوار میں کمی کی مقدار اور وجہ بھی واضح نہیں کی گئی۔ ان سوالات کے جواب کے بغیر عوام کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ بحران کتنے دن جاری رہ سکتا ہے۔
پس منظر: لوڈ شیڈنگ کا پرانا مسئلہ
پاکستان میں بجلی کی طلب و رسد کا فرق برسوں سے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پلانٹس کی بندش، ایندھن کی دستیابی، ٹرانسمیشن لائنوں کی گنجائش اور گردشی قرضہ اس بحران کی عام وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔
دوسری جانب صارفین کا شکوہ رہتا ہے کہ بھاری بل ادا کرنے کے باوجود انہیں بلا تعطل بجلی میسر نہیں ہوتی۔ بجلی کا شارٹ فال ہر بار مقامی صنعت، تاجروں اور گھریلو صارفین کو یکساں متاثر کرتا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
توانائی کے شعبے کے ماہرین عموماً کہتے ہیں کہ بجلی کا شارٹ فال صرف پیداوار کی کمی کا نہیں بلکہ انتظامی منصوبہ بندی کا بھی سوال ہوتا ہے۔ ان کے مطابق پلانٹس کی بروقت مرمت، ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور ہائیڈل پیداوار کے موسمی اتار چڑھاؤ کا پیشگی انتظام ایسے بحرانوں کو کم کر سکتا ہے۔ جب تک متعلقہ ادارے پلانٹس کی بحالی کا واضح شیڈول نہیں دیتے، لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کمی کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔