اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) نے ایف سیون مرکز میں واقع شیل سی این جی اسٹیشن، میسرز مہر فلنگ اسٹیشن، کے مالک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مفادِ عامہ کی ایک درخواست پر رپورٹ طلب کی ہے۔
درخواست میں الزام ہے کہ سی این جی اسٹیشن، موبائل گیس اسٹوریج سسٹم اور فلیئر گیس ڈسپنسنگ انتظامات مطلوبہ لائسنس اور حفاظتی منظوری کے بغیر چل رہے ہیں۔
24 ستمبر 2026 کے حکم نامے میں، رٹ پٹیشن نمبر 4737/2026 (سحر انصاری بنام میسرز ای گیس پرائیویٹ لمیٹڈ وغیرہ) میں، عدالت نے مدعا علیہ نمبر 1 کو پیشگی نوٹس جاری کیا اور ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔ یہ تمام الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے، اور عدالت نے شیل سی این جی اسٹیشن یا کسی دوسرے فریق کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا۔
درخواست گزار خود عدالت میں پیش ہوئیں۔ حکم نامے کے مطابق وہ مختلف قانونی اداروں کے خلاف ہدایات چاہتی ہیں، کیونکہ ان کے بقول خطرناک تنصیبات بغیر اجازت چلائی جا رہی ہیں اور لازمی حفاظتی معیارات پر عمل نہیں ہو رہا۔ حکم نامے میں ان کا مؤقف درج ہے کہ ایسی غیر منضبط سہولیات عوامی تحفظ، ماحول، جان و مال کے لیے سنگین اور فوری خطرہ ہیں۔ یہ ان کا دعویٰ ہے، عدالتی نتیجہ نہیں۔
شیل سی این جی اسٹیشن سے متعلق درخواست پر عدالت کا حکم
حکم نامہ محض ابتدائی نوعیت کا ہے۔ عدالت نے ابھی درخواست منظور (ایڈمٹ) کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اس نے مدعا علیہ نمبر 1 سے ایک ہفتے میں رپورٹ مانگی ہے اور اس کے بعد کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر ہو گا۔ سی ایم نمبر 01/26 میں مانگی گئی رعایت بھی تمام قانونی اعتراضات کی شرط پر منظور کر لی گئی۔ کوئی اسٹیشن سیل یا بند نہیں کیا گیا اور کوئی عبوری ریلیف نہیں دیا گیا۔ حکم نامے میں ایف سیون کے شیل سی این جی اسٹیشن یا اس کے مالک کا نام درج نہیں، اور "مختلف قانونی اداروں" سے مراد کون سے ادارے ہیں، یہ بھی واضح نہیں کیا گیا۔
پس منظر: ہر سی این جی اسٹیشن پر نگرانی کیوں ضروری ہے
سی این جی اور گیس اسٹوریج کی تنصیبات خطرناک نوعیت کی ہوتی ہیں، جن کے لیے لائسنس، منظوری اور حفاظتی پروٹوکول پر عمل لازمی ہے۔ اس طرح کی درخواستیں عموماً یہ جانچتی ہیں کہ ریگولیٹر پہلے سے قواعد نافذ کرتے ہیں یا حادثے کے بعد حرکت میں آتے ہیں۔ اگر درخواست گزار کے دعوے درست ثابت ہوں تو معاملہ صرف ایک شیل سی این جی اسٹیشن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عمل درآمد کی کمزوری کے وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرے گا۔ تاہم ابھی ہر دعویٰ جانچ کا منتظر ہے اور مدعا علیہان نے جواب جمع نہیں کرایا۔
شیل سی این جی اسٹیشن کیس پر عوامی ردِعمل
تحریر کے وقت کوئی تصدیق شدہ عوامی یا سوشل میڈیا ردِعمل دستیاب نہیں تھا۔ [ایڈیٹر: اشاعت سے پہلے تصدیق شدہ پوسٹس یا سرکاری مؤقف یہاں شامل کریں۔] جائزہ لیے گئے مواد میں نہ شیل سی این جی اسٹیشن کے مالک اور نہ ہی متعلقہ اداروں کی جانب سے الزامات پر کوئی عوامی مؤقف سامنے آیا۔
تجزیہ: رپورٹ شیل سی این جی اسٹیشن کے لیے کیا معنی رکھتی ہے
عدالت کا اگلا قدم رپورٹ پر منحصر ہے۔ مدعا علیہ نمبر 1 کو لائسنس اور حفاظتی الزامات کا جواب عمومی یقین دہانیوں کے بجائے دستاویزات سے دینا ہو گا۔ اگر ایف سیون کے شیل سی این جی اسٹیشن کا مالک کیس میں فریق ہے تو درست لائسنس، معائنہ ریکارڈ اور حفاظتی سرٹیفکیٹ اہم ترین شواہد ہوں گے۔
ریگولیٹرز سے یہ سوال بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر لائسنس یافتہ تنصیب کیسے چلتی رہی۔ اگر رپورٹ سے عدالت مطمئن نہ ہوئی تو معاملہ اسلام آباد بھر میں معائنوں کی ہدایات تک پھیل سکتا ہے۔