پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے زیرِ اہتمام ایم ڈی کیٹ 2026 آج اتوار کو ملک بھر کے 34 شہروں کے علاوہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم بین الاقوامی مرکز پر بیک وقت منعقد ہوا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال ایم ڈی کیٹ 2026 کے لیے مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 38 ہزار 160 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی، جو میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہے۔
پس منظر: امتحان کب اور کیوں موخر ہوا؟
ایم ڈی کیٹ 2026 اصل میں 16 اگست 2026 کو منعقد ہونا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر شفافیت، سیکیورٹی اور بہتر انتظامی سہولیات کو یقینی بنانے کی خاطر اسے 20 ستمبر تک ملتوی کیا گیا۔
سرچ کے دوران دستیاب ریکارڈ کے مطابق، سینیٹ کی صحت سے متعلق قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے امتحان کے انعقاد اور شیڈول پر طلبہ کی جانب سے موصول ہونے والی سینکڑوں شکایات پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا۔
پی ایم ڈی سی حکام نے اس وقت واضح کیا تھا کہ امتحان کی تاریخ کے علاوہ اہلیت کے معیار، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور دیگر تمام شرائط جوں کی توں برقرار رہیں گی۔
صوبائی سطح پر امیدواروں کی تعداد کچھ یوں رہی: پنجاب سے 49,199، خیبر پختونخوا سے 38,841، سندھ سے 34,233، بلوچستان سے 9,923، آزاد جموں و کشمیر سے 2,761، گلگت بلتستان سے 1,721 اور اسلام آباد سے 1,245 امیدوار، جبکہ ریاض مرکز پر 237 طلبہ نے امتحان دیا۔
ہر صوبے کے لیے الگ الگ پرچے، ہر ایک میں کم از کم دو ورژن اور فی پرچہ 180 سوالات شامل کیے گئے، جو تقریباً 8,000 سوالات پر مشتمل بینک سے، 80 کے قریب ماہرینِ تعلیم کی مدد سے تیار کیا گیا۔ امتحان کے عملی انتظامات صوبائی حکام اور نامزد جامعات — یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور (پنجاب)، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی (سندھ)، خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے پی)، بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (بلوچستان) اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان و ریاض) — کے سپرد کیے گئے۔
سماجی رابطوں پر ردعمل
ماضی کے مقابلے میں اس بار سوشل میڈیا پر ردعمل نسبتاً محتاط اور معلوماتی نوعیت کا رہا۔ 2023 کے مقابلے میں، جب ایم ڈی کیٹ کی تاریخ ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہی اور طلبہ نے تیاری کے لیے ناکافی وقت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، اس بار پی ایم ڈی سی کی جانب سے بروقت اور تفصیلی ہدایات جاری کرنے کے باعث افراتفری کم دیکھنے میں آئی۔ تاہم کونسل نے پہلے ہی عوام اور طلبہ کو غیر مصدقہ سوشل میڈیا پیجز، افواہوں اور جعلی خبروں سے ہوشیار رہنے کی تنبیہ کی تھی اور صرف اپنے سرکاری چینلز پر انحصار کرنے کی تلقین کی تھی۔
ماہرینِ تعلیم کا تجزیہ
تعلیمی ماہرین کے مطابق ایک ہی دن، ایک ہی وقت پر ملک گیر سطح پر امتحان کا انعقاد شفافیت کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہے، خاص طور پر جب ہر صوبے کے لیے علیحدہ پرچے اور متعدد ورژن استعمال کیے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 8,000 سوالات پر مشتمل بڑا بینک اور 80 سے زائد ماہرین کی نگرانی سے پرچہ آؤٹ ہونے یا نقل کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی، بورڈ امتحانات اور داخلہ ٹیسٹ کے شیڈول میں اوورلیپ سے متعلق طلبہ کے خدشات بدستور زیرِ بحث ہیں، جن پر مستقبل میں مزید اصلاحات کی توقع کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار — ایک نظر میں
| تفصیل | تعداد |
|---|---|
| کل رجسٹرڈ امیدوار | 1,38,160 |
| امتحانی شہر (پاکستان) | 34 |
| بین الاقوامی مرکز | ریاض، سعودی عرب |
| پنجاب سے امیدوار | 49,199 |
| خیبر پختونخوا سے امیدوار | 38,841 |
| سندھ سے امیدوار | 34,233 |
| بلوچستان سے امیدوار | 9,923 |
| آزاد جموں و کشمیر سے امیدوار | 2,761 |
| گلگت بلتستان سے امیدوار | 1,721 |
| اسلام آباد سے امیدوار | 1,245 |
| ریاض مرکز پر امیدوار | 237 |
| سوالات فی پرچہ | 180 |
| کل سوالات کا بینک | تقریباً 8,000 |
- تصویر الٹ ٹیکسٹ: ایم ڈی کیٹ 2026 کے امتحانی مرکز میں امیدوار پرچہ حل کرتے ہوئے