فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2026 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر 2026 کر دی ہے۔

یہ توسیع سرکلر نمبر 3 آف 2026-27 کے ذریعے اسی دن جاری کی گئی جس دن اصل مدت ختم ہو رہی تھی، یعنی ٹیکس دہندگان کو پیشگی اطلاع کا موقع تقریباً نہیں ملا۔ ایک پیراگراف پر مشتمل سرکلر میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے کے نتائج معاف کیے گئے ہیں یا نہیں۔

سرکلر میں انکم ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ کے بارے میں کیا کہا گیا؟

سرکلر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 214A کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق جن افراد کو ٹیکس سال 2026 کا ریٹرن 30 ستمبر 2026 تک جمع کرانا تھا، ان کے لیے تاریخ بڑھا کر 15 اکتوبر 2026 کر دی گئی ہے۔ ایف بی آر نے اس فیصلے کی وجہ مختلف تجارتی تنظیموں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی درخواستوں کو قرار دیا ہے۔

پس منظر: آخری دن کی توسیع کا پرانا رجحان

پاکستان کے ٹیکس کیلنڈر میں آخری لمحات پر مہلت میں اضافہ ایک عام روایت بن چکا ہے، اور اس پر ہر بار تقریباً یکساں تنقید ہوتی ہے۔ ٹیکس دہندگان اور کنسلٹنٹس اس انکم ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ کی بنیاد پر منصوبہ بندی نہیں کر پاتے جو آخری دن تک برقرار رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں غیر یقینی ہو، جبکہ جن لوگوں نے بروقت یا جلدی میں ریٹرن جمع کرائے، انہیں کوئی فائدہ نہیں ملتا۔ اس طرز عمل سے ایف بی آر کی اپنی مقرر کردہ تاریخوں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

سرکلر میں کیا کمی ہے؟

نوٹیفکیشن کئی بنیادی سوالات کا جواب نہیں دیتا:

  • کیا توسیع شدہ مدت کے لیے تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے پر جرمانے اور ڈیفالٹ سرچارج معاف کر دیے گئے ہیں، یا صرف مؤخر ہوئے ہیں؟
  • کیا اس اضافی مدت میں ٹیکس دہندگان کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں حیثیت محفوظ رہے گی؟
  • وہ "تجارتی تنظیمیں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز" کون سی ہیں جنہوں نے درخواست کی، اور کیا ان کی وجوہات میں پورٹل یا تکنیکی مسائل بھی شامل تھے؟
  • کیا انکم ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ میں تبدیلی تمام اقسام کے ٹیکس دہندگان پر لاگو ہے یا صرف ان پر جن کی اصل مدت 30 ستمبر تھی؟
  • کیا اس توسیع کے ساتھ کوئی شرط ہے، مثلاً اصل تاریخ تک واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی؟

واضح جوابات کے بغیر ٹیکس دہندگان کو چند سطروں کی دستاویز کے لیے کنسلٹنٹس کی تشریح پر انحصار کرنا پڑے گا۔

تاجروں اور ٹیکس دہندگان کا ردعمل

سرکلر میں کسی تجارتی تنظیم یا ٹیکس بار کا مؤقف درج نہیں، اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کتنی درخواستیں موصول ہوئیں۔ نئی انکم ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ پر ٹیکس دہندگان اور ٹیکس ماہرین کا ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ: ریلیف یا ریونیو کے لیے خطرہ؟

مبصرین عموماً ایسی توسیعات کو دو پیمانوں پر پرکھتے ہیں: کیا یہ واقعی تعمیل میں مدد دیتی ہیں، اور کیا یہ نظم و ضبط کو کمزور کرتی ہیں۔ پندرہ اضافی دن ان لوگوں کے لیے مفید ہو سکتے ہیں جو دستاویزات یا پورٹل تک رسائی کے مسائل سے دوچار ہیں، لیکن بار بار کی توسیع ٹیکس دہندگان کو اگلی رعایت کا انتظار کرنے کی عادت ڈال سکتی ہے۔

انکم ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ کو بامعنی رکھنے کے لیے ایف بی آر کو شرائط، جرمانوں کی پوزیشن اور وجوہات سادہ الفاظ میں شائع کرنا ہوں گی، اور ٹیکس دہندگان کو آخری دن کے بجائے پہلے آگاہ کرنا ہوگا۔