فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ویلتھ اسٹیٹمنٹس فراڈ کا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 85 ٹیکس دہندگان نے پرانی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں غیر قانونی ترامیم کر کے 9.41 ارب روپے مالیت کے غیر واضح اثاثے اپنی ظاہر شدہ دولت میں شامل کیے۔
بورڈ کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت ایک فوجداری مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ تاہم پریس ریلیز میں پورے معاملے کی تفصیل کے بجائے صرف ایک کیس بیان کیا گیا ہے، اور یہ نہیں بتایا گیا کہ قانون کی واضح ممانعت کے باوجود یہ ترامیم نظام میں قبول کیسے ہوئیں۔
ایف بی آر کا مؤقف کیا ہے؟
ایف بی آر کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے تعاون سے ڈیٹا بیس کا تجزیہ کیا۔ اس میں 85 ٹیکس دہندگان سامنے آئے جنہوں نے مارچ 2025 سے جون 2026 کے دوران ٹیکس سال 2014 سے 2019 کی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں ترمیم کر کے نقد رقم، سونا، پرائز بانڈز، جائیدادیں اور کاروباری سرمایہ ظاہر کیا۔
انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 116(3) کی وضاحت کے مطابق اصل ریٹرن کی مقررہ تاریخ سے پانچ سال بعد ایسی ترمیم کی اجازت نہیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ 48 فوجداری انکوائریاں شروع ہو چکی ہیں اور مزید مقدمات کا عمل جاری ہے۔
لاہور کا کیس: ویلتھ اسٹیٹمنٹس فراڈ کی واحد مثال
ریلیز میں صرف لاہور ریجن کے ایک ٹیکس دہندہ کا ذکر ہے، جس نے مئی 2026 میں ٹیکس سال 2015 کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے فرضی فنڈز شامل کیے۔ یہ رقم بعد کے برسوں کی اسٹیٹمنٹس میں آگے بڑھائی گئی اور مئی اور جون 2026 میں خریدی گئی 6 کروڑ 44 لاکھ روپے مالیت کی سات جائیدادوں کا جواز بنانے کے لیے استعمال ہوئی۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس دہندہ فنڈز کا ذریعہ نہ بتا سکا اور ٹیکس چوری 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ اس مثال سے طریقۂ واردات تو سمجھ آتا ہے، مگر باقی 84 ٹیکس دہندگان کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
اعداد و شمار میں ابہام: ویلتھ اسٹیٹمنٹس فراڈ کتنا بڑا ہے؟
ریلیز کی سرخی میں 9.41 ارب روپے کو "فراڈ" کہا گیا ہے، لیکن یہ رقم ٹیکس چوری نہیں بلکہ مبینہ طور پر شامل کیے گئے غیر واضح اثاثوں کی مالیت ہے۔ 85 ٹیکس دہندگان میں تقسیم کریں تو اوسطاً تقریباً 11 کروڑ روپے فی ٹیکس دہندہ بنتے ہیں۔
اصل ٹیکس نقصان کا کوئی مجموعی تخمینہ ریلیز میں نہیں، صرف ایک کیس کا ذکر ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ 48 انکوائریاں 85 میں سے کتنے افراد سے متعلق ہیں اور باقی کیسز کس مرحلے پر ہیں۔
سسٹم کی کمزوری پر سوالات
یہ ویلتھ اسٹیٹمنٹس فراڈ ایف بی آر کے لیے خود ایک سوال بھی ہے۔ اگر پانچ سال بعد ترمیم قانوناً ممنوع ہے تو مارچ 2025 سے جون 2026 تک، یعنی تقریباً پندرہ ماہ، ایسی ترامیم ریکارڈ کا حصہ کیسے بنتی رہیں؟ ریلیز میں ان سوالات کا جواب نہیں:
- کیا ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم یا پورٹل میں ایسی ترمیم روکنے کا کوئی خودکار کنٹرول موجود نہیں تھا؟
- کیا کسی افسر، ٹیکس کنسلٹنٹ یا دفتری عملے کی ملی بھگت کی تحقیق ہو رہی ہے؟ ریلیز میں "معاون" کا لفظ ہے، مگر اس کی وضاحت نہیں۔
- انکشاف تک تاخیر کیوں ہوئی، اور کیا اب سسٹم میں اصلاح کی گئی ہے؟
ایف بی آر کا ڈیٹا اینالیٹکس نظام کی نگرانی کا دعویٰ اسی وقت معتبر ہوگا جب یہ بتایا جائے کہ خامی کہاں تھی اور اسے کیسے دور کیا گیا۔
ردعمل
پریس ریلیز میں متعلقہ ٹیکس دہندگان، ٹیکس بار یا ٹیکس مشیروں کا مؤقف شامل نہیں، اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ملزمان کے پاس اپیل یا وضاحت کا کیا راستہ ہے۔ ویلتھ اسٹیٹمنٹس فراڈ کے الزامات ابھی ایف بی آر کے دعوے ہیں اور کسی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
تجزیہ: کارروائی کی ساکھ کن باتوں پر منحصر ہے؟
ٹیکس امور کے مبصرین عموماً ایسے مقدمات میں تین باتوں پر زور دیتے ہیں: ثبوت کا معیار، کارروائی میں شفافیت، اور یکساں اطلاق۔ ویلتھ اسٹیٹمنٹس فراڈ جیسے کیسز میں منی لانڈرنگ کی دفعات کا استعمال ایک سخت قدم ہے، لیکن اس کا اثر تبھی ہوگا جب مقدمات عدالت میں ٹھوس ثابت ہوں اور صرف اعلانات تک محدود نہ رہیں۔ ایف بی آر کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ 85 کے 85 کیسز پر یکساں معیار لاگو ہوگا۔