وفاقی دارالحکومت میں انٹرنیٹ بندش اسلام آباد کا مسئلہ اتوار کی صبح سے شدت اختیار کر گیا، جس سے جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی موبائل ڈیٹا اور براڈ بینڈ سروسز بری طرح متاثر ہوئیں۔
مقامی صارفین کے مطابق واٹس ایپ کالز، سوشل میڈیا ایپلیکیشنز اور دیگر آن لائن خدمات صبح تقریباً 10 بجے سے یا تو مکمل بند ہیں یا انتہائی سست رفتاری سے چل رہی ہیں۔ نیا ٹیل، جاز، زونگ اور پی ٹی سی ایل سمیت متعدد آپریٹرز کی سروسز اس خرابی سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پس منظر: سیکیورٹی خدشات یا تکنیکی خرابی؟
یہ خرابی ایسے وقت میں سامنے آئی جب گزشتہ ہفتے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ کے پیشِ نظر راولپنڈی، اسلام آباد اور اٹک میں موبائل و انٹرنیٹ سروسز کی بندش یا ڈاؤن گریڈنگ کی درخواست وفاقی حکومت کو بھیجی تھی۔
نجی نیوز چینل کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر 26 اور 27 ستمبر کو ان علاقوں میں موبائل سروسز معطل رکھے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔مقامی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ دونوں شہر اور اٹک کے کچھ حصے 26 اور 27 ستمبر کو موبائل و انٹرنیٹ بندش کی زد میں آسکتے تھے۔
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان بھی چند روز قبل سامنے آیا تھا۔کے پی کے اطلاعات و نشریات کے وزیر نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ پی ٹی آئی، اتحادیوں سے مشاورت کے بعد 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرے گی۔
تاہم اس کے متوازی طور پر یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ لانگ مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کیا جا چکا ہے — واضح رہے کہ یہ دعویٰ ابھی تک کسی بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی جانب سے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہو سکا، اس لیے قارئین اسے احتیاط کے ساتھ دیکھیں۔ اسی طرح، پی ٹی اے یا وزارتِ اطلاعات و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے حتمی معطلی کے حکم نامے سے متعلق کوئی باضابطہ، تصدیق شدہ بیان تاحال دستیاب نہیں ہے — یہ نکتہ بھی غیر مصدقہ ذرائع پر مبنی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
انٹرنیٹ بندش اسلام آباد کے باعث سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے شکایات کا سلسلہ جاری ہے۔ متعدد صارفین نے بتایا کہ ان کی آن لائن میٹنگز منسوخ ہو گئیں، بینکنگ ایپس کام نہیں کر رہیں اور کاروباری لین دین میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی۔
کچھ صارفین نے وی پی این کے ذریعے متبادل رسائی کی کوشش کی، جبکہ دیگر نے مکمل رابطہ منقطع ہونے کی شکایت کی۔ آن لائن کلاسز لینے والے طلبہ نے بھی تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل کی نشاندہی کی۔
ماہرانہ تجزیہ
ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی احتجاج یا حساس مواقع پر انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی معطلی ایک بار بار دہرایا جانے والا طرزِ عمل بن چکا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسی بندشیں نہ صرف معمول کی کاروباری اور تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ شہریوں کے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں۔ تاہم سیکیورٹی حکام کا مؤقف عموماً یہ رہا ہے کہ ایسے اقدامات امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔