وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی نئی منظور شدہ "ہاؤسنگ پالیسی 2026" کی دستاویزات میں وفاقی دارالحکومت کے سیکٹرز F-7 اور G-7 کی اسلام آباد کچی آبادی کو جدید کمرشل اور رہائشی منصوبوں میں بدلنے کی کیس اسٹڈی شامل ہے۔

دستاویزات کے مطابق F-7 کی کچی آبادی کی زمین سے کم از کم 72 ارب روپے کی خالص آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ G-7 میں 4,500 اپارٹمنٹس بنانے کا منصوبہ ہے۔

پس منظر: F-7 میں 67 ہزار اسکوائر یارڈ کا منصوبہ

دستاویزات کے مطابق F-7 کی اسلام آباد کچی آبادی 67 ہزار اسکوائر یارڈ پر پھیلی ہے، جہاں تقریباً 900 کچے مکانات ہیں۔ منصوبے کی بنیادی تفصیلات یہ ہیں:

  • زمین 60:40 کے تناسب سے تقسیم ہوگی۔ 60 فیصد پر مخلوط کمرشل و رہائشی منصوبے بنیں گے، اور 40 فیصد ملٹی لیول پارکنگ، سفری راہداریوں اور گرین ایریاز کے لیے رکھی جائے گی۔
  • شاپنگ مالز، ہوٹل، ہسپتال اور کمیونٹی سینٹرز تعمیر ہوں گے۔
  • 1:12 کے فلور ایریا ریشو کے تحت 43 لاکھ اسکوائر فٹ سے زائد تعمیراتی رقبہ حاصل ہوگا۔
  • اس سے کم از کم 72 ارب روپے کی خالص آمدنی کا تخمینہ ہے، جس کا "بڑا حصہ" مکینوں کی بحالی پر خرچ ہوگا۔

اسلام آباد کچی آبادی: G-7 میں 4,500 اپارٹمنٹس کا ماڈل

سیکٹر G-7/1، G-7/2 اور G-7/3 کی تین کچی آبادیوں کے لیے الگ ماڈل بنایا گیا ہے۔ 1 لاکھ 45 ہزار اسکوائر یارڈ کی اس اسلام آباد کچی آبادی میں 2,000 سے زائد جھگیاں ہیں۔ حکومت یہاں چار منزلہ بلاکس میں 800 اسکوائر فٹ کے 4,500 اپارٹمنٹس بنائے گی۔ ان میں سے 3,000 اپارٹمنٹس F-7 کے 1,000 اور G-7 کے 2,000 مکینوں کو انتہائی رعایتی قیمت پر 20 سالہ آسان اقساط پر دیے جائیں گے۔

کراس سبسڈی ماڈل: کیا کہا گیا؟

دستاویزات کے مطابق منصوبے کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے 1,500 اضافی اپارٹمنٹس عام شہریوں کو مارکیٹ کی مسابقتی قیمت پر فروخت ہوں گے۔ ان کے منافع سے کچی آبادی کے مکینوں کے فلیٹس کی لاگت پوری کی جائے گی۔

رہائشی منصوبے میں اسکول، ہیلتھ کیئر سینٹرز، مساجد اور پارکس بھی شامل ہوں گے۔ حکومتی بیانیہ یہ ہے کہ غریب طبقے کو شہر بدر کرنے کے بجائے شہر کے مرکز میں ہی باعزت چھت دی جائے گی۔

تجزیہ: دستاویزات کے اعداد و شمار اور باقی سوالات

یہ خبر ایک سرکاری پالیسی دستاویز پر مبنی ہے جو منصوبے کا بہترین رخ پیش کرتی ہے، اس لیے اسلام آباد کچی آبادی کے اس ماڈل کو چند نکات کے ساتھ پڑھنا چاہیے:

  1. 72 ارب کا تخمینہ: ہماری گنتی کے مطابق 43 لاکھ اسکوائر فٹ پر 72 ارب روپے کا مطلب تقریباً 16,600 روپے فی اسکوائر فٹ ہے۔ رپورٹ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ نرخ کس بنیاد پر لیا گیا، اور "خالص آمدنی" میں تعمیراتی لاگت، قرض اور بحالی کے اخراجات منہا کیے گئے یا نہیں۔
  2. "بڑا حصہ" کتنا؟ بحالی پر خرچ ہونے والا حصہ نہ رقم میں بتایا گیا ہے نہ فیصد میں۔ اصل فائدہ مکینوں کو ملے گا یا کمرشل ڈیولپر کو، اس کا انحصار اسی پر ہے۔
  3. "قلبِ شہر میں رہائش" کا دعویٰ: دستاویز کے مطابق F-7 کے 1,000 مکین G-7 کے فلیٹس میں جائیں گے، یعنی ان کی اپنی زمین کمرشل استعمال میں چلی جائے گی۔ دونوں سیکٹر قریب ہیں، مگر یہ اپنی جگہ پر بحالی نہیں، منتقلی ہے۔
  4. مکینوں کی گنتی: F-7 میں 900 کے قریب مکانات بتائے گئے ہیں مگر 1,000 مکینوں کی منتقلی کا ذکر ہے۔ G-7 میں 2,000 سے زائد جھگیاں ہیں مگر 2,000 مکین۔ یہ واضح نہیں کہ "مکین" سے مراد خاندان ہیں یا افراد، اور کرایہ داروں یا ایک مکان میں کئی خاندانوں کا کیا ہوگا۔
  5. G-7 کا رقبہ: ہمارے حساب سے چار منزلہ بلاکس میں 4,500 اپارٹمنٹس (ہر ایک 800 اسکوائر فٹ) کا کل رقبہ تقریباً 36 لاکھ اسکوائر فٹ بنتا ہے، یعنی عمارتیں تقریباً 9 لاکھ اسکوائر فٹ زمین گھیریں گی۔ 1.45 لاکھ اسکوائر یارڈ تقریباً 13 لاکھ اسکوائر فٹ کے برابر ہے، لہٰذا اسکول، ہسپتال، مساجد اور پارکس کی گنجائش کا سوال اٹھتا ہے۔
  6. قیمت اور قسط: "انتہائی رعایتی قیمت" اور "آسان اقساط" کی رقم نہیں بتائی گئی۔ 20 سال کی قسط کم آمدنی والے خاندان کے لیے کتنی قابلِ برداشت ہوگی، یہ دیکھنا باقی ہے۔
  7. مارکیٹ فروخت کا انحصار: 1,500 فلیٹس کی فروخت پر مکینوں کی سبسڈی کا دارومدار ہے۔ طلب کم رہی تو خسارہ کون اٹھائے گا، دستاویز میں ذکر نہیں۔
  8. ملکیتی حقوق: منصوبے میں مکینوں کی قانونی حیثیت، زمین کی ملکیت اور رضامندی کے طریقہ کار کا ذکر نہیں ملتا۔

بے گھر افراد کو باعزت رہائش دینا درست مقصد ہے، لیکن اس اسلام آباد کچی آبادی منصوبے کا اصل امتحان شفافیت اور مکینوں کی شمولیت پر ہوگا۔