فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں ٹیکس وصولی 3,083 ارب روپے رہی، جو 3,053 ارب روپے کے ہدف سے 30 ارب روپے زیادہ ہے۔

ایف بی آر ٹیکس وصولی میں یہ اضافہ بنیادی طور پر سیلز ٹیکس کی توقع سے زیادہ آمدنی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ تاہم انکم ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی ہدف تک نہیں پہنچ سکیں، اس لیے یہ کامیابی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔

ایف بی آر ٹیکس وصولی: اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں

گزشتہ سال اسی مدت میں 2,889 ارب روپے جمع ہوئے تھے، یعنی اس بار وصولی میں 7 فیصد اضافہ ہوا۔ صرف ستمبر میں وصولی 1,360 ارب روپے رہی، جو 1,343 ارب روپے کے ہدف سے 17 ارب زیادہ ہے اور ستمبر 2025 کے 1,229 ارب روپے کے مقابلے میں 11 فیصد اضافہ ہے۔ ٹیکسوں کی الگ الگ کارکردگی یوں رہی:

  • سیلز ٹیکس: 1,137 ارب روپے، ہدف 1,051 ارب سے 86 ارب زیادہ، گزشتہ سال سے 11 فیصد اضافہ
  • انکم ٹیکس: 1,437 ارب روپے، ہدف 1,484 ارب سے 47 ارب کم، البتہ 5 فیصد اضافہ
  • کسٹمز ڈیوٹی: 312 ارب روپے، ہدف 320 ارب سے 8 ارب کم
  • فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی: 197 ارب روپے، ہدف 198 ارب سے ایک ارب کم، گزشتہ سال سے 3 فیصد اضافہ

ایف بی آر نے اس دوران ٹیکس دہندگان کو 203 ارب روپے کے ری فنڈز اور ریبیٹس جاری کیے، جو گزشتہ سال کے 159 ارب روپے سے تقریباً 28 فیصد زیادہ ہیں۔

پس منظر: ایف بی آر ٹیکس وصولی کا سالانہ ہدف

ایف بی آر نے مالی سال 2025-26 میں 13 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کیے تھے، جو نظرثانی شدہ ہدف 12,983 ارب روپے سے 21 ارب زیادہ تھا۔ یاد رہے کہ ہدف کو نیچے کی طرف نظرثانی کے بعد عبور کیا گیا۔ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 15,264 ارب روپے کا ہدف رکھا ہے۔ گزشتہ سال کی وصولی کے مقابلے میں یہ تقریباً 17 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر ٹیکس وصولی کی شرحِ نمو صرف 7 فیصد رہی، یعنی سالانہ ہدف کے لیے آئندہ مہینوں میں رفتار نمایاں طور پر بڑھانی پڑے گی۔

ایف بی آر ٹیکس وصولی اور عوامی ردعمل

اس خبر پر سوشل میڈیا یا کسی مخصوص حلقے کا ردعمل ہمیں دستیاب مواد میں نہیں ملا، اس لیے کوئی بیان منسوب نہیں کیا جا رہا۔ البتہ عمومی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عام صارف پر اثر ڈالتا ہے۔ جس مہنگائی سے ایف بی آر ٹیکس وصولی بڑھ رہی ہے، اس کا بوجھ گھروں کے بجٹ پر پڑتا ہے۔

تجزیہ: ہدف پورا ہوا، مگر کس قیمت پر؟

اعداد و شمار کا قریب سے جائزہ لیں تو 30 ارب روپے کی اضافی وصولی سیلز ٹیکس کی 86 ارب روپے کی زائد وصولی کا نتیجہ ہے۔ انکم ٹیکس، کسٹمز اور ایکسائز ڈیوٹی مل کر 56 ارب روپے پیچھے رہے۔ یعنی ایف بی آر ٹیکس وصولی کا مثبت پہلو ایک ہی مد پر ٹکا ہوا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق سیلز ٹیکس میں اضافے کی بڑی وجہ مہنگائی ہے، خصوصاً پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ۔ ایندھن مہنگا ہونے سے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی بڑھتی ہے اور دیگر اشیا کی قیمتیں بھی چڑھتی ہیں، جس سے سیلز ٹیکس کی آمدنی بڑھ جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاشی سرگرمی یا ٹیکس نیٹ میں وسعت کی علامت ہے، یا صرف قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ؟ انکم ٹیکس کا ہدف سے پیچھے رہنا، جو آمدنی اور کاروباری سرگرمی کی بہتر نمائندگی کرتا ہے، دوسری طرف اشارہ کرتا ہے۔ ری فنڈز میں تقریباً 28 فیصد اضافہ بھی دیکھنے والی بات ہے، کیونکہ زیادہ ری فنڈز کا مطلب خالص وصولی میں کمی ہے۔

ایک اور بات توجہ طلب ہے۔ ایف بی آر کے بیان میں سیلز ٹیکس کے ساتھ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا ہدف بھی عبور ہونے کا ذکر ہے، جبکہ جاری کردہ اعداد کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی 197 ارب روپے رہی، جو 198 ارب کے ہدف سے ایک ارب کم ہے۔ فرق معمولی سہی، مگر بیان اور اعداد میں یہ تضاد وضاحت کا متقاضی ہے۔

پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی زائد آمدنی نے حکومت کو دیگر مدوں کی کمی پوری کرنے میں مدد دی، مگر یہ بھی ایندھن کی بلند قیمتوں پر منحصر ہے۔ آئندہ مہینوں میں ایف بی آر ٹیکس وصولی کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ مہنگائی کے سہارے کے بغیر انکم ٹیکس اور کسٹمز میں بہتری آتی ہے یا نہیں۔

خلاصہ

مد وصولی ہدف فرق
کل ایف بی آر ٹیکس وصولی 3,083 ارب روپے 3,053 ارب روپے +30 ارب
سیلز ٹیکس 1,137 ارب روپے 1,051 ارب روپے +86 ارب
انکم ٹیکس 1,437 ارب روپے 1,484 ارب روپے -47 ارب
کسٹمز ڈیوٹی 312 ارب روپے 320 ارب روپے -8 ارب
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 197 ارب روپے 198 ارب روپے -1 ارب
ستمبر کی وصولی 1,360 ارب روپے 1,343 ارب روپے +17 ارب
ری فنڈز اور ریبیٹس 203 ارب روپے گزشتہ سال 159 ارب روپے +44 ارب
مالی سال 27 کا سالانہ ہدف 15,264 ارب روپے - -