عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں کے خون کے سفید خلیات میں 'Y کروموسوم' کا آہستہ آہستہ ضائع ہونا ایک ایسا حیاتیاتی عمل ہے جس کا تعلق کینسر کے بڑھنے، اس کی شدت اور مریضوں کی زندہ رہنے کی شرح میں کمی سے گہرا پایا گیا ہے۔
ایریزونا یونیورسٹی کے کینسر سینٹر کی سربراہی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق، جو معتبر سائنسی جریدے Nature میں شائع ہوئی، نے پہلی بار اس بات کی سائنسی وضاحت دی ہے کہ یہ کروموسومی تبدیلی کینسر کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کو کیسے کمزور کر دیتی ہے۔
پس منظر اور وسیع تر رجحان
سائنسدانوں کو 1960 کی دہائی سے یہ علم تھا کہ عمر کے ساتھ مردوں کے خون کے خلیات Y کروموسوم کھو دیتے ہیں، مگر اس کے صحت پر اثرات کا مکمل ادراک حالیہ برسوں میں ہی ہوا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ عمل عمر بڑھنے کے ساتھ تیزی سے پھیلتا ہے — تقریباً 40 سال کی عمر کے 2.5 فیصد مردوں، 70 سال کی عمر کے 40 فیصد مردوں اور 93 سال کی عمر کے 57 فیصد مردوں میں کچھ خون کے خلیات Y کروموسوم سے محروم پائے جاتے ہیں۔
سینئر محقق ڈاکٹر ڈین تھیوڈوریسکو نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے 29 مختلف اقسام کے کینسر — بشمول آنتوں، دماغ، پھیپھڑوں، خون اور لمفوما کے کینسر — سے تعلق رکھنے والے ہزاروں رسولیوں کا تجزیہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جن مریضوں کے رسولی کے خلیات میں Y کروموسوم ختم ہو چکا تھا، ان کی بقا کی شرح ان مریضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھی جن کے کینسر خلیات میں یہ کروموسوم اب بھی موجود تھا۔
سب سے حیران کن انکشاف یہ رہا کہ Y-محروم کینسر خلیات کسی نہ کسی طرح ٹیومر کے ارد گرد موجود دیگر خلیات، خصوصاً مدافعتی نظام کے 'ٹی سیلز'، کو بھی اپنا Y کروموسوم کھونے پر مجبور کر دیتے ہیں، جس سے مریض کی بقا کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد صحت اور سائنس سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں گرما گرم بحث چھڑ گئی۔ بہت سے صارفین نے اسے "مردانہ صحت میں ایک انقلابی دریافت" قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا مستقبل میں Y کروموسوم کی جانچ ایک معمول کا کینسر اسکریننگ ٹیسٹ بن سکتی ہے۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے اسے وضاحت دی کہ یہ اس بات کا ممکنہ سبب ہو سکتا ہے کہ دنیا بھر میں مردوں کی اوسط عمر خواتین سے کم کیوں ہوتی ہے۔ طبی برادری میں اسے "ایک نئے سائنسی باب کا آغاز" کہا جا رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
ڈاکٹر تھیوڈوریسکو کے مطابق یہ دریافت مستقبل کی کینسر امیونو تھراپیز، بشمول CAR-T تھراپی، کے لیے اہم مضمرات رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے مستقبل میں مریضوں کے مدافعتی خلیات کو علاج کے لیے استعمال کرنے سے پہلے Y کروموسوم کے ضیاع کی جانچ کی جائے تاکہ علاج کی افادیت بہتر بنائی جا سکے۔
محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ Y کروموسوم کا ضیاع صرف خون کے خلیات تک محدود نہیں بلکہ جسم کے دیگر حصوں میں بھی پایا جا سکتا ہے، جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ ربط اہم ہے، لیکن روک تھام کے لیے علاج تیار ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔