ردوں کی صحت کو صرف سگریٹ نوشی، شراب اور نمک و چینی والی خوراک ہی سے خطرہ نہیں۔

ضرورت سے زیادہ پانی پینا، بلاوجہ سپلیمنٹس لینا، پیشاب روکنا اور حد سے زیادہ ورزش جیسی بظاہر اچھی عادات بھی خاموشی سے گردوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

گردوں کی صحت اور بیماری کی خاموش پیش رفت

ڈاکٹروں کے مطابق گردے خون سے زہریلے مادے اور اضافی پانی چھاننے اور جسم میں الیکٹرولائٹس کا توازن برقرار رکھنے جیسے اہم کام انجام دیتے ہیں۔

دائمی گردے کی بیماری ابتدائی مرحلے میں اکثر کوئی واضح علامت نہیں دیتی۔ جب علامات ظاہر ہوتی ہیں تو مرض عموماً بڑھ چکا ہوتا ہے اور علاج مشکل اور کم مؤثر ہو جاتا ہے۔

گردوں کی صحت کے لیے خطرہ بننے والی پانچ عادات

1. بلا مشورہ وٹامنز اور سپلیمنٹس

بہت سے لوگ انہیں بے ضرر سمجھ کر ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال کرتے ہیں۔ گردوں کی صحت کے لیے ان کا زیادہ یا غلط استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے:

وٹامن سی کی زیادہ مقدار آکسالیٹ بڑھا کر پتھری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

وٹامن ای کی زیادتی سے خون بہنے، آنتوں کی سوزش اور تھکن کی شکایت ہو سکتی ہے۔

وٹامن بی 6 کی زیادتی حسی اعصاب کو متاثر کر سکتی ہے۔

وٹامن ڈی کی زیادتی خون میں کیلشیم بڑھا کر گردوں اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

بزرگوں، موٹاپے کے شکار افراد، ذیابیطس، بلڈ پریشر، دل کے امراض یا خودکار مدافعتی عوارض والے مریضوں اور کیموتھراپی یا ریڈی ایشن لینے والوں کو خاص طور پر طبی رہنمائی کے بغیر سپلیمنٹس نہیں لینے چاہئیں۔ ڈاکٹر خائی کے الفاظ میں، غلط طریقے سے سپلیمنٹ لینا گردوں کو آہستہ آہستہ زہر دینے کے مترادف ہے۔ آئبوپروفین اور ڈائکلوفیناک جیسی عام درد کش ادویات کا بے جا استعمال بھی گردے فیل ہونے کی ایک عام مگر نظرانداز کی جانے والی وجہ ہے۔

2. وزن کم کرنے کے لیے “ڈیٹاکس”

روزانہ ڈیٹاکس چائے یا مشروبات لینے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آکسالیٹ یا پوٹاشیم سے بھرپور جوسز، مثلاً اجوائن، مالٹے یا گریپ فروٹ کا زیادہ استعمال پتھری اور الیکٹرولائٹ کے عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے۔ بعض مصنوعات میں غیر منظم جڑی بوٹیاں بھی ہوتی ہیں جو گردوں کی صحت کے لیے مضر ہو سکتی ہیں۔ صرف جوس پر گزارا کرنے سے ضروری غذائی اجزا کی کمی بھی ہو جاتی ہے۔

3. ضرورت سے زیادہ پانی

عام طور پر روزانہ ڈیڑھ سے دو لیٹر پانی تجویز کیا جاتا ہے۔ کم وقت میں بہت زیادہ پانی، بہت ٹھنڈا پانی یا زیادہ چینی والے مشروبات گردوں اور نظامِ دوران خون پر بوجھ ڈال کر بار بار پیشاب اور الیکٹرولائٹ کی خرابی کا سبب بن سکتے ہیں۔

سادہ پانی کی جگہ ناریل پانی کا مستقل استعمال بھی، خاص طور پر ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول یا گاؤٹ کے مریضوں میں، عضلات کی کارکردگی پر اثر ڈال سکتا ہے۔

4. پٹھے بنانے کے لیے زیادہ پروٹین

جم جانے والے اکثر گوشت، انڈوں یا وہے پروٹین کی بڑی مقدار لیتے ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق اس سے گردوں کے فلٹریشن کا کام بڑھ جاتا ہے اور گردوں کی صحت وقت کے ساتھ متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً ان لوگوں میں جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہوں۔

5. پانی کے بغیر سخت ورزش

شدید ورزش میں پسینے کی زیادتی سے جسم میں پانی کی کمی اور خون کا حجم گھٹ سکتا ہے، جس سے گردوں کو اچانک نقصان (ایکیوٹ کڈنی انجری) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

دن بھر پانی کی جگہ چائے یا کافی لینے سے ہلکی ڈی ہائیڈریشن ہو سکتی ہے، اور بعض چائے میں آکسالیٹ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ نیند کی کمی اور رات دیر تک جاگنا کورٹیسول بڑھا کر گردوں میں خون کا بہاؤ کم اور بلڈ پریشر کا نظام متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرانہ رائے اور تنقیدی نکتہ

گردوں کی صحت کے معاملے میں دو باتیں ذہن میں رکھنی چاہئیں۔ پہلی یہ کہ رپورٹ ایک ہی ماہر کے بیان پر مبنی ہے اور اس میں مقدار کی کوئی حتمی حد یا تحقیقی حوالے نہیں دیے گئے۔

دوسری یہ کہ یہ نقصانات عموماً زیادتی یا پہلے سے موجود بیماری کی صورت میں بڑھتے ہیں، یعنی معتدل مقدار میں پانی، پروٹین یا ورزش بذاتِ خود مضر نہیں۔ اپنی عادات بدلنے سے پہلے اپنے معالج سے رجوع کریں۔ یہ خبر طبی مشورے کا متبادل نہیں۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں