پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے سال کے پی ایس او مالی نتائج بتاتے ہیں کہ ظاہری منافع کے پیچھے کمپنی کی حالت کمزور ہوئی ہے۔ سٹینڈ اکیلے بنیاد پر بعد از ٹیکس منافع 20.91 ارب روپے سے گھٹ کر 15.07 ارب روپے رہ گیا، اور فی حصص آمدنی 44.54 روپے سے کم ہو کر 32.10 روپے ہو گئی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجی گئی دستاویزات کے مطابق خالص فروخت کم ہوئی، آپریٹنگ اخراجات بڑھے، اور آپریشنز نے نقد رقم پیدا کرنے کے بجائے 74.4 ارب روپے خرچ کر دیے۔

بورڈ آف مینجمنٹ نے 25 ستمبر کو 10 روپے فی حصص (100 فیصد) حتمی نقد منافع منقسمہ کی سفارش کی۔ سالانہ اجلاسِ عام 28 اکتوبر 2026 کو ہو گا، اور 20 اکتوبر کو رجسٹر میں نام رکھنے والے حصص یافتگان اس کے حق دار ہوں گے۔

پی ایس او مالی نتائج: قبل از ٹیکس منافع بڑھا، مگر ٹیکس نے کھا لیا

قبل از ٹیکس منافع 14.2 فیصد بڑھ کر 46.86 ارب روپے ہو گیا، جو پچھلے سال 41.03 ارب روپے تھا۔ منافع میں کمی کی اصل وجہ ٹیکس ہے۔ ٹیکس کا بوجھ 58 فیصد بڑھ کر 31.79 ارب روپے ہو گیا، جو پچھلے سال 20.12 ارب روپے تھا۔ یوں مؤثر ٹیکس شرح تقریباً 68 فیصد بنتی ہے، جبکہ ایک سال پہلے یہ تقریباً 49 فیصد تھی۔

پی ایس او مالی نتائج میں قبل از ٹیکس بہتری آپریشنز کی مضبوطی کا نتیجہ نہیں لگتی بلکہ سستے قرض کا۔ مالیاتی اخراجات 8.1 ارب روپے کم ہو کر 25.65 ارب روپے رہ گئے۔ یہ بچت نکال دی جائے تو قبل از ٹیکس منافع گھٹتا۔ باقی تفصیل یہ ہے:

  • فروخت: خالص فروخت 3.2 فیصد کم ہو کر 3,050 ارب روپے رہی، جو پچھلے سال 3,149 ارب روپے تھی۔
  • اخراجات: آپریٹنگ اخراجات 14.8 فیصد بڑھ کر 37.49 ارب روپے ہو گئے۔ ان میں "دیگر اخراجات" تقریباً دگنے ہو کر 8.08 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
  • دیگر آمدنی: تقریباً 21 فیصد کم ہو کر 17.5 ارب روپے رہ گئی۔
  • ایسوسی ایٹ کمپنیاں: 31.4 کروڑ روپے کے منافع کی جگہ 11 کروڑ روپے کا نقصان۔

مجموعی منافع 3.3 فیصد بڑھ کر 99.9 ارب روپے ہوا۔ دستیاب اینیکسچرز ٹیکس میں اس اضافے کی وجہ نہیں بتاتے، اور ڈائریکٹرز رپورٹ اور نوٹس فائل کا حصہ نہیں تھے۔ حصص یافتگان کو سالانہ اجلاس سے پہلے اس کی وضاحت چاہیے۔

پی ایس او مالی نتائج میں اصل خطرے کی گھنٹی: نقد بہاؤ

رپورٹ کا سب سے کمزور حصہ نقد بہاؤ کا گوشوارہ ہے۔ آپریٹنگ سرگرمیوں میں 74.4 ارب روپے خرچ ہوئے، جبکہ پچھلے سال 149.0 ارب روپے حاصل ہوئے تھے۔ یہ 223 ارب روپے سے زیادہ کا فرق ہے۔ صرف آپریشنز میں 8.4 ارب روپے کا نقد اخراج ہوا، جبکہ پچھلے سال 225.8 ارب روپے آئے تھے۔

سال کے آخر میں نقد اور نقد کے مساوی رقم 13.3 ارب روپے رہ گئی، جو سال کے آغاز پر 100.0 ارب روپے تھی۔ بینک اور ہاتھ میں موجود نقدی 53.99 ارب روپے سے گھٹ کر 11.9 ارب روپے ہو گئی، اور قلیل مدتی سرمایہ کاری 47.0 ارب روپے سے کم ہو کر 28.5 ارب روپے رہ گئی۔ مجموعی طور پر فوری دستیاب رقم میں تقریباً 60 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

بیلنس شیٹ کی دو تبدیلیاں اس کا بڑا حصہ سمجھاتی ہیں:

  • واجب الادا رقوم: تجارتی اور دیگر واجبات 78.4 ارب روپے کم ہو کر 305.3 ارب روپے رہ گئے۔
  • قابلِ وصول رقوم: دیگر قابلِ وصول رقوم 20.8 فیصد بڑھ کر 173.9 ارب روپے ہو گئیں۔

پی ایس او جس کمی کو کامیابی بنا کر پیش کرتا ہے، یعنی تجارتی قرضوں کا 437.5 ارب روپے سے 414.8 ارب روپے ہونا، وہ اس اضافے سے بے اثر ہو گئی۔ تجارتی قرضے اور دیگر قابلِ وصول رقوم ملا کر تقریباً 588.7 ارب روپے بنتی ہیں، جو پچھلے سال 581.4 ارب روپے تھیں۔ قلیل مدتی قرضے بھی بڑھ کر تقریباً 384 ارب روپے ہو گئے (پچھلے سال تقریباً 356 ارب روپے)، جو کمپنی کی کل ایکویٹی 260.9 ارب روپے سے زیادہ ہیں۔

تجویز کردہ منافع منقسمہ کی کل رقم تقریباً 4.7 ارب روپے بنتی ہے۔ منافع کے مقابلے میں یہ چھوٹی رقم ہے، مگر ایسے سال میں بڑی ہے جب آپریشنز نے نقد کھایا۔ یہ ادائیگی ذخائر اور قرض کی گنجائش سے ہو گی۔

چوتھی سہ ماہی کا نقصان اور پی ایس او مالی نتائج

سالانہ فائلنگ میں چوتھی سہ ماہی الگ نہیں دکھائی گئی، مگر پہلے سے جاری معلومات یہ بتاتی ہیں۔ پی ایس او نے نو ماہ کا منافع 38.1 ارب روپے بتایا تھا۔ اسے سالانہ منافع میں سے منہا کریں تو اپریل تا جون میں تقریباً 23 ارب روپے کا نقصان نکلتا ہے۔

کمپنی نے چوتھی سہ ماہی میں 23.1 ارب روپے کا خالص نقصان رپورٹ کیا (فی حصص نقصان 49.10 روپے)، جبکہ پچھلے سال اسی سہ ماہی میں 5.6 ارب روپے کا منافع تھا۔ سہ ماہی کا مجموعی مارجن منفی 4.2 فیصد رہا۔ تیل کی قیمتیں گرنے سے انوینٹری پر نقصان ہوا، اور ڈیزل ریفائننگ مارجن پر حکومتی حد بھی اس کی وجہ بنی۔ ایل این جی کے کارگو بھی گزشتہ سال کے 28 کے مقابلے میں صرف 6 رہ گئے۔

مجموعی کھاتے بہتر دکھتے ہیں، مگر سہارا ذیلی کمپنیاں

مجموعی (کنسولیڈیٹڈ) پی ایس او مالی نتائج بظاہر بہتر ہیں۔ گروپ کا سالانہ منافع 31.58 ارب روپے رہا، جس میں سے 25.49 ارب روپے پی ایس او کے حصص یافتگان کے حصے کے ہیں۔ فی حصص آمدنی 54.29 روپے رہی، جو پچھلے سال 35.03 روپے تھی۔ مجموعی منافع 37 فیصد بڑھ کر 133.2 ارب روپے ہو گیا، جبکہ سٹینڈ اکیلے منافع صرف 3 فیصد بڑھا۔ یہ فرق اشارہ کرتا ہے کہ بوجھ پی ایس او کے اپنے آپریشنز سے زیادہ ذیلی کمپنیاں اٹھا رہی ہیں۔

کمزوریاں یہاں بھی موجود ہیں۔ مجموعی خالص فروخت 3.2 فیصد کم ہوئی اور مؤثر ٹیکس شرح تقریباً 56 فیصد رہی۔ آپریشنز میں 61.6 ارب روپے کا نقد اخراج ہوا، جبکہ پچھلے سال 152.9 ارب روپے آئے تھے۔ گروپ کی نقد رقم 106.9 ارب روپے سے گھٹ کر 19.0 ارب روپے رہ گئی۔

مارکیٹ کا ردِعمل

مارکیٹ نے نتائج کو نسبتاً پُرسکون انداز میں لیا۔ اعلان کے بعد پی ایس او کے حصص میں 0.94 فیصد اضافہ ہوا۔ 10 روپے کا منافع منقسمہ اور 31 فیصد ادائیگی کا تناسب توقعات کے مطابق تھا۔ تحریر کے وقت اردو لیڈ کو سوشل میڈیا پر کوئی تصدیق شدہ ردِعمل نہیں ملا، اس لیے اسے شامل نہیں کیا گیا۔

ماہرین کی رائے

بروکریج تبصروں میں سہ ماہی نتیجے کو توقعات سے کہیں کمزور قرار دیا گیا، کیونکہ انوینٹری نقصانات توقع سے زیادہ تھے۔ انہیں بڑی حد تک ایک وقتی مد کہا گیا، مگر ساتھ خبردار کیا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال میں ایسے اتار چڑھاؤ آئندہ سہ ماہیوں میں بھی آ سکتے ہیں۔

بی آر ریسرچ نے بنیادی ایندھن کے کاروبار میں مارکیٹ شیئر کھونے کو بڑی تشویش قرار دیا، اور کہا کہ مالی سال 2027 اسی صورت بہتر ہو گا جب فروخت کا حجم بحال ہو، انوینٹری نقصانات معمول پر آئیں اور مالیاتی لاگت کم ہوتی رہے۔

اردو لیڈ کے مطابق ان پی ایس او مالی نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ پی ایس او شرحِ سود میں کمی پر انحصار کر کے کمزور آپریٹنگ کارکردگی نہیں چھپا سکتا۔ فائلنگ ان سوالوں کے جواب نہیں دیتی کہ ٹیکس اتنا کیوں بڑھا، واجبات 78 ارب روپے کیوں گھٹے، اور کمپنی قلیل مدتی قرضوں پر آپریشنز کب تک چلا سکتی ہے۔